قرآن
ﮕ
ﱂ
ﭜ ﭝ ٢٧ ٢٧ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ
ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ٢٨ ٢٨ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ٢٩ ٢٩ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ٣٠ ٣٠ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ٣١ ٣١
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ
یعنی: شرک کرنے والے لوگ اپنے عقیدے اور اعمال میں ناپاک اورگندے ہیں اور اس سے بڑھ کر ناپاکی اور گندگی کیا ہوسکتی ہے کہ آدمی اللہ کے ساتھ ایسے بناوٹی معبودوں کی عبادت کرتا ہو جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ اور نہ ہی ان کے کسی کام آسکتے ہیں ؟پھر ان کے اعمال بھی ایسے ہی گندے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ سے جنگ کرنا، لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنا باطل کی حمایت ومدد کرنا، حق کو ٹھکرانا اور زمین میں سدھارکی بجائے بگاڑاور فساد کے کام کرناوغیرہ۔(السعدی:؍ ۳۳۳)
سوال: مشرکین کے ناپاک ہونے کی کیا صورت ہے ؟
وَإِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةٗ فَسَوۡفَ يُغۡنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦٓ إِن شَآءَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٢٨
(وإن خفتم عيلة) یعنی:اگر تمہیں فقر وفاقہ اورمحتاجی کا اندیشہ ہو ۔(اس اندیشے کی وجہ یہ تھی کہ تجارت کرنے والے) مشرکین کھانے پینے کی چیزیں مکہ لایا کرتے تھے ۔اب جب مشرکین کو مکہ میں رہنے اور آنے جانے سے منع کردیا گیا تو لوگوں کویہ فکرہوئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مکہ میں خوراک اور غذا کی کمی ہوجائے ۔اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ وعدہ کیا کہ وہ اپنے فضل وکرم سے انہیں بے نیاز بنادیگا اور محتاج نہیں رہنے دیگا ۔پھر ہوا بھی یہی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورا عرب مسلمان ہوگیا ۔اور مکہ میں غلوں اور کھانے کی چیزوں کے پہنچنے کا سلسلہ دراز ہوتا گیا اور یہی نہیں بلکہ اللہ نے اطراف کے تمام شہروں پر مسلمانوں کو فتح اور غلبہ عطاکردیا ۔ (ابن جزی: ۱؍ ۳۵۵)
سوال: آپ اس شخص کو کیسے سمجھائیں گے جو حرام مال کھاتا ہو اور اپنے آپ کو بے گناہ بتانے کے لئے یہ دلیل دیتاہو کہ مفلسی اور فقر وفاقہ کا ڈر ہے؟
وَإِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةٗ فَسَوۡفَ يُغۡنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦٓ إِن شَآءَۚ
مالدار بنانے کے وعدے کو اللہ کے ارادے سے جوڑا گیا ہے ۔کیونکہ ایسا نہیں ہےکہ دنیامیں مالداری ایمان کالازمی تقاضہ ہو اور نہ ہی یہ اللہ کی محبت کی دلیل ہے اسی لئے اللہ نے اسے اپنے ارادے اور مشیئت سے جوڑا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا اس کی بھی دیتا ہے ،جس سے محبت کرتا ہے اور اس کو بھی جس سے محبت نہیں کرتا ۔لیکن ایمان اور دین صرف اسی کو دیتاہے جس سے محبت کرتا ہے ۔ (السعدی:؍ ۳۳۳)
سوال: مالداربنانے کو اللہ تعالیٰ نے مشیئت (ارادے اور چاہنے )سے کیوں جوڑا ہے ؟
قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حَتَّىٰ يُعۡطُواْ ٱلۡجِزۡيَةَ عَن يَدٖ وَهُمۡ صَٰغِرُونَ ٢٩
(عن يد) اپنے ہاتھ سے ۔ یعنی: دب کر اورذلت کے ساتھ ۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:یعنی وہ مسلمانوں کو جزیہ یعنی ٹیکس اپنے ہاتھوں سے دیں ،دوسروں کے ہاتھ سے نہ بھیجیں ۔اس کے معنی میں یہ بھی کہا گیاہے کہ :وہ اپنے اوپر مسلمانوں کے اس احسان کو مانتے ہوئے جزیہ دیں کہ مسلمانوں نے ان سے جزیہ لینا قبول کرلیا ۔یہ ان کا احسان ہے ۔ (البغوی: ۳؍ ۲۶۸)
(جزیہ : وہ ٹیکس ہے جو مسلم حکومت اپنے یہاں آباد غیر مسلموں سے لیتی ہے اور اس کے عوض ان سے جنگ نہ کرنے اور ان کے مال واسباب کو نقصان نہ پہنچانے بلکہ ان کے جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت کرنے کی پابندہوتی ہے۔)
سوال:کافروں کی طرف سے جزیہ دینے میں اسلام کی عزت ہے اور کفار کی ذلت ہے۔اسے بیان کیجئے.
وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ
یعنی: صحیح دین کو وہ اپنا دین نہیں بناتے ۔اگرچہ وہ یہ سمجھتے اور دعویٰ کرتے ہوں کہ وہ ایک (معتبر)دین پر ہیں۔ مگر اہلِ کتاب کا دین، دینِ حق نہیں ہے کیونکہ(وہ دو حال سے خالی نہیں) یاتو ان کے دین میں تبدیلیاں داخل ہوچکی ہیں اورجو تبدیلی اور رد وبدل کیاگیاہے ظاہر ہے وہ اصل میں اللہ کا بنایاہوا دین ہے ہی نہیں۔ یا پھر ایسا ہے کہ اہلِ کتاب نے جو دین اپنا رکھا ہے وہ منسوخ دین ہے جسے اللہ نے پہلے دین وشریعت بنایا تو تھا لیکن بعد میں محمد ﷺ کی شریعت سے اسے بدل دیا ۔اب منسوخ ہوجانے کے بعد اس دین کو پکڑے رہنا اور اسی پرجمے رہنا جائز نہیں ہے ۔ (السعدی:؍ ۳۳۴)
سوال: یہود ونصاریٰ کے دین کا باطل ہونا دوطریقوں سے ثابت ہوتا ہے؟وہ کیاہیں؟
ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ،میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔تب آپ نے مجھ سے فرمایا: اے عدی! اس بت کواپنی گردن سے نکال پھینکو۔ میں نے اس صلیب کو نکال پھینکا اور آپ کی طرف متوجہ ہوا تو آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے : ( ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ ) (انہوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور درویشوں کو اپنا رب بنالیا۔) آپ یہ آیت پڑھ چکے۔تو میں نے کہا: ہم ان ۔علماء اور درویشوں ۔کی عبادت تونہیں کرتے ہیں!اس پر آپ ﷺ نے پوچھا : کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام ٹھہراتے ہیں تو تم اسے حرام سمجھتے ہو اور اللہ نے جس چیز کو حرام کیا ہے یہ اسے حلال ٹھہراتے ہیں تو تم اسے حلال مانتے ہو؟ میں نے جواب دیا:ہاں!ایسا تو ہے ۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: یہی ان کی عبادت کرنا ہے ۔ (ترمذی) عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں:
وَهَلْ بَدَّلَ الدِّیْنَ اِلَّا الْمُلوْكُ وَأَحْبَارُ سُوْءٍ وَرُهْبَانُہَا
دین کو تو بس بادشاہوں نے ،برے عالموں نے اور درویشوں نے ہی بدلا اور بگاڑا ہے ۔ (البغوی: ۲؍ ۲۷۳)
سوال: کس طرح علماء اور عبادت گذار لوگ اپنی قوموں کے لئے اللہ کے علاوہ رب بن گئے ؟
ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ
یہود ونصاریٰ اپنے علماء اور مشائخ کے ایسے اقوال کوبھی قبول کرنے لگے تھے جو دین کی ضروری بنیادی تعلیم اور حکم کے خلاف ہوتے تھے ۔ اس طرح وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ان کے علماء ومشائخ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرسکتے ہیں اور اللہ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام کرسکتے ہیں ۔یہ بات دونوں دین یعنی یہودیت ونصرانیت کے ماننے والوں میں عام ہوگئی تھی… پس یہود ونصاریٰ کی مجموعی باتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے کچھ علماء اور مشائخ کو اپنے عقیدے میں ربوبیت یعنی رب ہونے کا درجہ اور مرتبہ دے دیا تھا ۔اور یہ قبیح عقیدہ دونوں قوموں میں تھااگر چہ ان کے بیچ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ان کی اس بات کو کہنے یا ماننے والے نہیں تھے (یعنی علماء ومشائخ کو وہ خود رب کا درجہ نہیں دیتے تھے ۔)جیسا کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا خیال تھا ۔مگرقدرت کا قانون ہے کہ جب قوم کے کچھ لوگ گناہ کریں اور قوم کے دوسرے لوگ انہیں وہ گناہ کرنے دیں ،منع نہ کریں تو پھر پوری قوم پکڑی جاتی ہے ۔ (ابن عاشور: ۱۰؍۱۷۰)
سوال: تحلیل وتحریم یعنی حلال وحرام ٹھہرانے کے بارے میں کب شرک واقع ہوتا ہے ؟