قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ١٢٠ ١٢٠ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ١٢١ ١٢١ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ١٢٢ ١٢٢ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ١٢٣ ١٢٣ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ١٢٤ ١٢٤ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
١٢٥ ١٢٥ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ
ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ١٢٦ ١٢٦
وَلَن تَرۡضَىٰ عَنكَ ٱلۡيَهُودُ وَلَا ٱلنَّصَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡۗ
(جب معاملہ ایسا ہے کہ وہ اپنی ملت کی اتباع پر ہی راضی ہوں گے) تو آپ ان کو راضی کرنے والے اور ان کے من موافق امور کی جستجوچھوڑدیجئے اور اللہ نے آپ کو جوحق دے کر بھیجاہے ،انہیں اس کی طرف دعوت دے کر (محض)اللہ کی خوشنودی چاہنے پر توجہ دیجئے۔(ابن کثیر:۱؍۱۵۵)
سوال:جب یہود ونصاریٰ تم سے راضی اور خوش ہونے والے نہیں ہیں تو ان کے تئیں تمہارا کیا فریضہ ہے؟
وَلَن تَرۡضَىٰ عَنكَ ٱلۡيَهُودُ وَلَا ٱلنَّصَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡۗ
اے محمد ﷺ!(یہ یہودونصاریٰ)جو اپنے ذہن سے تراش کر آپ سے آیات ومعجزات کی خواہش (اور تجویز)پیش کررہے ہیں ۔اس سے ان کا مقصد ایمان لانا بالکل نہیں ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر آپ ان کے ہر سوال کو پوراکردیں اور ان کی طلب کردہ ہرچیز پیش کردیں تب بھی یہ آپ سے راضی نہیں ہوں گے۔ان کو راضی کرنے کا راستہ تو بس یہی ہے کہ آپ اپنے دین یعنی اسلام کو ترک کردیں اوران (کے دین)کی پیروی کرنے لگیں۔(القرطبی:۲؍۳۴۵)
سوال:مسلمانوں سے یہودونصاریٰ کے مطالبات کے پیچھے کیا مقصد کارفرماہے؟
ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَتۡلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦٓ أُوْلَٰٓئِكَ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۗ
کتابِ الٰہی کی تلاوت دراصل اس کی اتباع ہے ۔جیسا کہ عبداللہ بن مسعود( رضی اللہ عنہ) نے فرمانِ الٰہی:(ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَتۡلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِ)کے متعلق فرمایا:(اس کا مطلب یہ ہے کہ) اس کی حلال کردہ چیزوں کو حلال سمجھتے ہیں اور حرام کی ہوئی چیز وں کو حرام مانتے ہیں،اس کی متشابہ(آیات واحکام)پر(بلاچوں چرا) ایمان رکھتے ہیں اور اس کے محکم(واضح احکامات وبیانات)پر عمل کرتے ہیں۔(ابن تیمیہ:۱؍۳۳۹)
سوال:کتاب اللہ کی تلاوت کما حقہ کس طرح کی جاسکتی ہے؟
وَإِذِ ٱبۡتَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِۧمَ رَبُّهُۥ بِكَلِمَٰتٖ فَأَتَمَّهُنَّۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامٗاۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِيۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهۡدِي ٱلظَّٰلِمِينَ ١٢٤
علماء کی ایک جماعت نے اس آیت سے یہ دلیل پکڑی ہے کہ (مسلمانوں کا)امام (حاکم وخلیفہ)وہ شخص ہوگا جو صاحبِ عدل وانصاف ہو اور احسان وفضل والا ہو،(یعنی واجب حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نفلی طور پر رعایا کے ساتھ احسان کرنےوالاہو) اور ساتھ ہی اس (نظامِ حکومت) سنبھالنے کی قوت بھی رکھتا ہو۔رہے وہ لوگ جو فسق وفجور اور ظلم وجورکرنے والے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق(لَا يَنَالُ عَهۡدِي ٱلظَّٰلِمِينَ)میرے عہد(امامت دینے کے وعدے)سے ظالموں کو کوئی حصہ نہیں ملے گااس امامت کے اہل نہیں ہیں۔(القرطبی:۲؍۳۷۰)
سوال:مسلمانوں کے قائدانہ عہدوں پر فائز ہونے کے لئے کیا شرط ہے؟
وَإِذۡ جَعَلۡنَا ٱلۡبَيۡتَ مَثَابَةٗ لِّلنَّاسِ وَأَمۡنٗا
(مَثَابَةً) یعنی لوٹنے کی جگہ ،جس کی طرف لوگ پورے طور پر بار بار لوٹ کر آتے ہیں، جب جب یہ(بیت اللہ کی زیارت سے مشرف ہوکر) واپس جاتے ہیں تو پھر اس کی زیارت کا شوق پیدا ہوتا ہے ان کے دلوں میں بھی اور دوسرے کے دلوں میں بھی۔یہ عمل (یعنی رب کے گھر کی طرف ان کا باربار لوٹنا)اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ دنیا سے رخصت ہوکر اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔(البقاعی:۱؍۲۳۹)
سوال:فرمانِ الٰہی(مَثَابَةً لِّلنَّاسِ)(لوگوں کے لئے باربار لوٹنے کی جگہ)کس بات پر دلالت کرتا ہے؟
أَن طَهِّرَا بَيۡتِيَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلۡعَٰكِفِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ ١٢٥
(وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ)اور رکوع وسجدہ کرنے والوں کے لئے(ان دونوں حالتوں کو خصوصاً ذکرکیا)اس لئے کہ رکوع اور سجدہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ سے بندہ کی انتہائی قربت کی حالتیں ہیں۔اور یہ دونوں(نماز کے)بڑے رکن ہیں،اور اکثر انہی دونوں کے ذریعہ نماز کا کنایہ کیا جاتاہے (یعنی رکوع اور سجدہ بول کر نماز مراد لیا جاتا ہے)(الألوسی:۱؍۳۸۱)
سوال:رکوع اور سجود کو نمازکے بقیہ اعمال پر اہمیت حاصل ہے ۔یہ بات آپ نے کیسے جانی؟
وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِۧمُ رَبِّ ٱجۡعَلۡ هَٰذَا بَلَدًا ءَامِنٗا وَٱرۡزُقۡ أَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ مَنۡ ءَامَنَ مِنۡهُم بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُۥ قَلِيلٗا ثُمَّ أَضۡطَرُّهُۥٓ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلنَّارِۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ١٢٦
رزق کی دعا میں عموم(سب کے لئے)ہونا چاہئے اور اللہ کا لطف وکرم مانگنے میں تنگی نہیں برتنی چاہئے۔
گویا ابراہیم( علیہ السلام)نے (دعا کرتے وقت) روزی کو امامت پر قیاس کیا(کہ جس طرح اللہ نے صرف مومنوں کے لئے امامت کا وعدہ فرمایا اور کافروں کو محروم رکھا،اسی طرح رزق کا بھی معاملہ ہوگا۔)تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ فرمایا کہ رزق دنیاوی رحمت ہےجو صرف اہل ایمان کے لئے خاص نہیں(بلکہ سب کو ملنے والی نعمت ہے) برخلاف امامت کے (کہ وہ اہل ایمان کے لئے خاص ہے)(الألوسی:۱؍۳۸۲)
سوال:کیا دنیا میں اللہ کا رزق مومنوں کے لئے خاص ہے؟