قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

Surah Header

١ ١

٢ ٢


ﭿ

٣ ٣


٤ ٤



٥ ٥


٦ ٦
187
سورۃ التوبہ آیات 0 - 1

بَرَآءَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ” کہنا حفظ و امان ہے ، جبکہ سورۂ براء ت تلوار کے ساتھ( یعنی لڑائی اورمقابلہ کرنے کے حکم کے ساتھ ) نازل ہوئی ہے ۔سو، اسی وجہ سے یہ سورت حفظ و امان ( یعنی بسم اﷲ) سے شروع نہیں کی گئی۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۵۰)
سوال: سورۂ توبہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا نازل نہ ہونااس بات پر دلیل ہے کہ قرآن سرکش کافروں کے حق میں بہت سخت اور پرزور ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ التوبہ آیات 0 - 1

بَرَآءَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١

رہا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ کہنا: (براءة من الله ورسوله إلى الذين عاهدتم من المشركين) (مسلمانو!جن مشرکین سے تم نے عہد کررکھاتھا ،اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے یہ ان سے بری الذمہ اور دست بردار ہونے کا اعلان ہے(تو ایسا اس لئے کہ مشرکین سے کئے جانے والے یہ معاہدے جائز تھے(یعنی دونوں فریق کو فسخ کرنے کا اختیار تھا) یہ معاہدے لازم نہیں تھے،اس لئے کہ اس معاہدے میں وقت مقرر نہیں تھا( اور جس معاہدے میں وقت مقرر نہیں ہوتا ہے اسے فسخ کرنے کااختیار فریقین کو ہوتا ہے۔) لہٰذا نبی ﷺ کو یہ اختیار تھا کہ آپ چاہیں تو معاہدوں کوباقی رہنے دیں اور چاہیں تو انہیں توڑدیں۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۳۰۰)
سوال: مشرکین کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے جائز تھے یا ضروری؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 3

وَأَذَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوۡمَ ٱلۡحَجِّ ٱلۡأَكۡبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِيٓءٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ وَرَسُولُهُۥۚ

یہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ مشرکین کو معاہدہ ختم ہوجانے کی علانیہ خبر دے دیں۔ تاکہ مسلمان دھوکہ بازی کے ساتھ عہد توڑنے والے نہ بن جائیں۔ (ابن عاشور: ۱۰؍۱۰۸)
سوال: مسلمانوں کو اس بات کا حکم کیوں دیا گیاہے کہ مشرکوں کو خبر دار کردیں کہ ان کے درمیان جو معاہدہ ہے اسے ختم کیاجاتا ہے؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 5

فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَخَلُّواْ سَبِيلَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٥

یہ آیت اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ جو شخص کہے: “میں توبہ کرتا ہوں” ۔ تو اس کا صرف زبان سے یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوگا یہاں تک کہ زبانی توبہ کے ساتھ وہ اعمال بھی انجام دے جن سے توبہ ثابت ہوتی ہو ۔ اس لئے کہ اللہ عزوجل نے یہاں آیت میں مشرکین کے توبہ کرنے کے ساتھ نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی شرط لگائی ہے تاکہ ان دونوں کے ذریعہ سے ثابت ہوجائے کہ توبہ سچی ہے۔ (القرطبی: ۱۰؍۱۱۴)
سوال:آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہیں گے جو بس زبان سے توبہ کرتاہے اورعمل کو چھوڑکر صرف زبانی دعوے پر اکتفاکرتاہے؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 5

فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَخَلُّواْ سَبِيلَهُمۡۚ

دین کے اعمال میں سے جو سب سے اونچے درجے کے اعمال ہیں ،اللہ نے یہاں پہلے ان کا ذکر کیا ہے اور اعلیٰ کاموں کا ذکر کرکے کم درجے کے دینی اعمال کی طرف توجہ دلائی ہے ۔اس لئے کہ اسلام کے ارکان میں “شہادتَین” (لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کی گواہی) کے بعد سب سے زیادہ شرف و فضیلت والا رکن نماز ہے جو اللہ عزوجل کا حق ہے ۔پھر نماز کے بعد اہم رکن زکوٰۃ اداکرنا ہے جو کہ فقیروں اورمحتاجوں کو فائدہ پہنچانے والا عمل ہے اور زکوٰۃبندوں کے حقوق سے تعلق رکھنے والے اعمال میں سب سے افضل عمل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں نماز اور زکوٰۃکو زیادہ تر ایک ساتھ ذکر کرتا ہے ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۳۲۱)
سوال:آیت میں تمام عبادات کو چھوڑکر صرف نمازاور زکوٰۃ کو کیوں ذکر کیا گیاہے؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 6

وَإِنۡ أَحَدٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٱسۡتَجَارَكَ فَأَجِرۡهُ حَتَّىٰ يَسۡمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبۡلِغۡهُ مَأۡمَنَهُۥۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡلَمُونَ ٦

یعنی: کوئی مشرک آپ کی پناہ چاہے ۔مطلب: آپ سے حفاظت و امان مانگے ، تو اسے پناہ دے دیجئے۔تاکہ وہ قرآن سن سکے ۔یعنی: قرآن کے احکام کو اور اس میں جن کاموں کے کرنے کا حکم دیاگیا ہے اور جن کاموں سے منع کیا گیا ہے ان کو جانے سمجھے ۔اب اگر وہ کسی بات کو قبول کرلیتا ہے تو یہ اچھی بات ہوگی اوراگر قبول نہیں کرتا تو پھر اسے اس کے محفوظ ٹھکانے تک پہنچادیجئے ۔ (القرطبی: ۱۰؍۱۱۴)
سوال: شریعت کی طرف سے کافر کو امان دینے کے حکم کی حکمت بتائیے؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 6

وَإِنۡ أَحَدٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٱسۡتَجَارَكَ فَأَجِرۡهُ حَتَّىٰ يَسۡمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ

(حتى يسمع كلام الله) کلام اللہ یعنی قرآن۔ آپ( اپنی پناہ میں رکھ کر )اسے قرآن پڑھ کر سنائیں۔ ساتھ ہی دین کی کچھ باتوں کا تذکرہ اس سے کریں۔اس طرح آپ اس پر اللہ کی حجت پوری کردیں…اورہوا بھی ایسا کہ اس قیام کے دوران مشرکین نے جوکچھ دیکھا اور سنا مشرکین میں سے بہت سے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنا۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۳۲۲)
سوال: مشرکین کو قرآن سنانے کی کیا حکمت ہے ؟