قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٤٦ ٤٦


٤٧ ٤٧


ﭿ

٤٨ ٤٨


٤٩ ٤٩


٥٠ ٥٠

٥١ ٥١


٥٢ ٥٢
183
سورۃ الأنفال آیات 0 - 46

وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُواْ فَتَفۡشَلُواْ وَتَذۡهَبَ رِيحُكُمۡۖ وَٱصۡبِرُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ ٤٦

آپسی اختلاف سے ممانعت میں ان اسباب اور ذرائع کواختیار کرنے کا حکم بھی شامل ہے جن کے ذریعہ اختلاف کا خاتمہ ہوتا ہے جیسے:ایک دوسرے کو سمجھنا، آپس میں مشورہ کرنا اور ایک دوسرے کی طرف رجوع کرتے ہوئے بات چیت کرنا یہاں تک کہ کسی ایک متفقہ رائے تک پہنچ جائیں اور اگر کسی چیز میں جھگڑ پڑیں(یعنی اتفاقِ رائے نہ ہوسکے) تو اپنے حکمرانوں کی طرف رجوع کریں( اور معاملہ ا ن کے سامنے رکھیں) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی بناپر: ﴿وَلَوۡ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰٓ أُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنۡهُمۡ﴾ [النساء:83] (اگر وہ اسے رسول ﷺ اور اپنے میں سے کسی ذمہ دارحاکم کے حوالے کردیتے۔)اسی طرح اللہ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہوئے: ﴿فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ﴾ [النساء: 59]. (پھر اگر ایسا ہو کہ کسی معاملہ میں باہم جھگڑ پڑوتو چاہئے کہ اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف لوٹادو۔)
آپس میں جھگڑنے سے ممانعت (کامفہوم )حکمرانوں کی اطاعت کرنے (کے مفہوم)سے زیادہ عام اور وسیع ہے۔اس لئے کہ جب مسلمانوں کو آپس میں اختلاف اور جھگڑے سے منع کیا گیا ہے تو ذمہ دارحاکم سے اختلاف کرنا تواور زیادہ منع ہوا۔ (ابن عاشور: ۱۰؍۳۰)
سوال: بعض ایسے اسباب ذکر کیجئے جو باہمی اختلاف اور جھگڑوں کو روکتے ہیں ؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 46

وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُواْ فَتَفۡشَلُواْ وَتَذۡهَبَ رِيحُكُمۡۖ وَٱصۡبِرُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ ٤٦

آپس کے اختلاف کا نتیجہ تو بس پسپائی اور ناکامی ہے اس لئے کہ باہمی اختلاف ایک دوسرے کے خلاف غصہ بھڑکاتا ہے اور لوگوں کے اندر سے ایک دوسرے کے تعاون کا جذبہ ختم کردیتا ہے اور ان میں ایسی صفت پیدا کردیتا ہے کہ ہر شخص دوسرے کے لئے مصیبتوں کا منتظر رہتا ہے ۔پھر ان کے دلوں میں ایسی حالت پیدا ہوجاتی ہے کہ ہر کوئی دوسرے سے بچنے ہی میں مشغول ہوجاتا ہے، اور میدان جنگ میں ایک دوسرےکو باہمی مدد نہ ملنے کی توقع رہتی ہے (آخرکار) یہ صورت حالت امت کی توجہ اس ایک(حقیقی) کاز سے ہٹادیتی ہے جس میں پوری امت کا فائدہ ہے، اور اسلامی فوج کو دشمن کے خلاف جرأتمندانہ اقدام سے باز رکھتی ہے ۔ایسے حالات میں دشمن ان پر قابوپالیتا ہے ۔ (ابن عاشور: ۱۰؍۳۱)
سوال: آپسی جھگڑے کے کوئی تین نقصانات بیان کیجئے.

سورۃ الأنفال آیات 0 - 47

وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرٗا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ

گھروں سے نکلنے کا تمہارا مقصدیہ ہونا چاہئے: اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی حاصل کرنا،اللہ کے دین کو سربلندکرنا،اللہ کی ناراضی اور اس کے عذاب تک پہنچانے والے راستوں سے روکنا ،اور اللہ کے اس سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچ لانا جوراستہ نعمتوں سے بھرپور جنتوں تک پہنچاتا ہے۔ (السعدی: ۳۲۳)
سوال: اللہ کے راستے میں نکلنا اور اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے نکلنا دونوں کے درمیان فرق بیان کیجئے.

سورۃ الأنفال آیات 0 - 47

وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرٗا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطٞ ٤٧

لغت میں (بَطَرًا) کا معنی ہے : اللہ عزوجل کی نعمتوں اور اس کی دی ہوئی صحت وعافیت سے گناہ کے کاموں میں مددلینا ۔ (القرطبی: ۱۰؍۴۲)
سوال: (بَطَرًا ) (اترانا)کیا ہے ،جس سے ہمارے رب عزوجل نے ہم کو روکا ہے؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 48

إِنِّيٓ أَخَافُ ٱللَّهَۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٤٨

اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بارے میں یہ خبر دی کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے ۔اور عقوبت یعنی سزا کسی دیئے گئے حکم کو ناکرنے پر ہوتی ہے یا حرام اور منع کی ہوئی چیز کو کرنے پر ملتی ہے ۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۲۱۸)
سوال: عذاب سے بچاؤ کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کا خوف کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ حکم پر عمل کرنا اور حرام و ممنوع چیزوں سے باز رہنا بھی ضروری ہے ۔ آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.

سورۃ الأنفال آیات 0 - 49

وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ ٤٩

(ومن يتوكل على الله) یعنی جو اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کردے اور اسی پربھروسہ رکھے (فإن الله عزيز حكيم): تواللہ یقیناًسب پر غالب ،پوری حکمت والا ہے ۔ مطلب: اللہ تعالیٰ قوت وطاقت والاہے ۔اپنے دشمنوں کے ساتھ جو چاہے کرسکتا ہے ۔ (البغوی: ۲؍ ۲۳۱)
سوال: اس شخص کا اچھا انجام بیان کیجئے جو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے اور اپنا معاملہ اسی کے حوالے کرتا ہے ؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 50

وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُونَ وُجُوهَهُمۡ وَأَدۡبَٰرَهُمۡ وَذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ ٥٠

یہ موت کے وقت کا منظر ہوتا ہے۔فرشتے کافروں کے چہروں اور پیٹھوں پر آگ کے کوڑے برساتے ہیں ۔ (البغوی: ۲؍ ۲۳۱)
سوال: موت کے وقت کفار کو کس طرح عذاب دیا جاتا ہے؟