قرآن
ﮔ
ﱂ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ٤١ ٤١ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ٤٢ ٤٢ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ٤٣ ٤٣ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ٤٤ ٤٤ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ٤٥ ٤٥
وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا غَنِمۡتُم مِّن شَيۡءٖ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ
مالِ غنیمت کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف بھی کی گئی ہے( یعنی : مال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ کا ہے اوررسول کا ) اس لئے کہ آپ اللہ کے حکم سے ان اموال کوحقداروں میں تقسیم کرتے تھے ،ورنہ غنیمت کے یہ مال کسی کی ملکیت نہیں ہوتے اور نبی ﷺکا فرمان: “مَا أُعْطِيْكُمْ وَلاَ أَمْنَعُكُمْ، وَاِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَضَعُ حَیْثُ أُمِرْتُ”۔ ( بخاری) (اللہ کی قسم !میں ۔ بذات خود۔نہ کسی کوکچھ دیتا ہوں اور نہ کسی سے کچھ روکتاہوں ،میں تو بس تقسیم کرنے والاہوں اور جہاں اللہ کاحکم ہوتا ہے وہیں دیتا ہوں)۔یہ فرمان دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان اموال کے مالک نہیں تھے ۔آپ تو بس ان اموال میں اللہ عزوجل کا حکم نافذ کرنے والے تھے ۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۲۷۸)
سوال: اموال(غنیمت) کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنے کا کیا مطلب ہے؟
وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ عَبۡدِنَا يَوۡمَ ٱلۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِۗ
(يَوۡمَ ٱلۡفُرۡقَانِ) یعنی:وہ دن جس میں حق اور باطل کے درمیان فرق اورفیصلہ ہوگیااور وہ ( غزوۂ ) بدر کا دن ہے۔ (القرطبی:۱۰؍۳۵)
سوال: اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن کو (يَوۡمَ ٱلۡفُرۡقَانِ)یعنی فرق کرنے والا دن کا نام کیوں دیا ؟
إِذۡ أَنتُم بِٱلۡعُدۡوَةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُم بِٱلۡعُدۡوَةِ ٱلۡقُصۡوَىٰ وَٱلرَّكۡبُ أَسۡفَلَ مِنكُمۡۚ
یہ ظرف (إِذۡ) جو ظرف زمان کے لئے آتا ہے) اور جس (جنگی صورت حال) کی اضافت اس کی طرف کی گئی ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو یاد دلایا جائے کہ اس وقت وہ کتنی نازک ترین حالت میں تھے اور یہ بھی بتایا جائے کہ اس نازک حالت میں انہیں اللہ تعالیٰ کے عظیم لطف وکرم نے اپنے دامن میں کس طرح سمیٹ رکھا تھا ،وہ نازک ترین حالت میدانِ جنگ میں مشرکین کے فوجی موقع ومحل کے مقابلے مسلمان فوج کا موقع ومحل ہے اور یہ کہ دونوں فوجیں کس طرح پہلے سے کسی وقت اور جگہ کو مقرر کئے بغیر ایک جگہ پر آمنے سامنے ہوگئیں اور اس وقت مسلمانوں نے خود کو ایسے دشمن کے سامنے پایا جو تعداد اور جنگی سازوسامان میں ان سے زیادہ طاقتور تھا ،ساتھ ہی جنگ کے میدان میں جنگی لحاظ سے سازگار موقع ومحل پر تعینات ہوچکا تھا۔ اگر ان حالات کو بیان کرنے کا یہ مقصدنہیں ہوتا تو اس تفصیل اور لمبی گفتگو کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ صرف مختلف جگہوں کا نقشہ کھینچنا قرآن کے مقاصد میں شامل نہیں ہےجب اس میں کوئی عبرت نہ ہو۔( یہ سب قرآن اسی وقت بیان کرتا ہے جب اس میں سبق اور عبرت ہو۔) (ابن عاشور: ۱۰؍۱۵–۱۶)
سوال: غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی جگہ اور کافروں کی جگہ کو بیان کرنے سے قرآن کاکیا مقصد ہے؟
وَلَوۡ تَوَاعَدتُّمۡ لَٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِي ٱلۡمِيعَٰدِ وَلَٰكِن لِّيَقۡضِيَ ٱللَّهُ أَمۡرٗا كَانَ مَفۡعُولٗا لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٖ وَيَحۡيَىٰ مَنۡ حَيَّ عَنۢ بَيِّنَةٖۗ
(ولو تواعدتم لاختلفتم في الميعاد)یعنی: اگر تم قریش کے ساتھ بات چیت کرکے آپس میں وعدہ کرتے ،پھرتمہیں ان کی تعداد کے زیادہ ہونے او ر اپنی تعداد کم ہونے کا علم ہوتا تو تم اختلاف کر بیٹھتے ،مقابلے سے کترا جاتے اور ان کے ساتھ آمنے سامنے جمع نہیں ہوتے ۔
یا اگر تم لوگ آپس میں وعدہ اور عہد وپیمان کر بھی لیتے تو تمہارا اس طرح جمع ہونے کا اتفاق نہ ہوتا جیسا کہ اللہ کی مہربانی اور اس کی طرف سے آسان بنانے کی وجہ سے ایسا اتفاق ہوگیا۔ (ليهلك من هلك عن بينة) یعنی: بدر میں جس کی موت آئے تو وہ اس حالت میں مرے کہ اس کے پاس کوئی عذرباقی نہ رہ جائے او ر اس پر حجت پوری ہوچکی ہو اور اب جو زندہ رہے تو وہ اس طرح جیے کہ حق کی دلیل اس کے سامنے واضح ہوگئی ہو۔ (ابن جزی: ۱؍ ۳۴۵)
سوال:آیت کے ذریعہ اس بات کی وضاحت کیجئے کہ ‘‘اللہ تعالیٰ جب کسی چیزکا ارادہ کرتا ہے تو اس کے اسباب مہیاکردیتا ہے’’؟
إِذۡ يُرِيكَهُمُ ٱللَّهُ فِي مَنَامِكَ قَلِيلٗاۖ وَلَوۡ أَرَىٰكَهُمۡ كَثِيرٗا لَّفَشِلۡتُمۡ وَلَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو خواب میں مشرکین کی تعداد بہت کم دکھائی۔ تب آپ ﷺ نے اپنے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کواس کی خوشخبری دے دی، جسے( سن کر) صحابہ کرام کے دلوں کو اطمینان حاصل ہوگیا ،ان کی ڈھارس بندھ گئی اور دل مضبوط ہوگئے لیکن اگر اللہ تعالیٰ آپ کو مشرکین کی تعداد بڑھا کر دکھاتا۔ پھرآپ اپنے اصحاب کو اس کی اطلاع دیتے تو تم لوگ ہمت ہار جاتے اوراختلاف کر بیٹھتے، تم میں سے کوئی یہ کہتا کہ مشرکین سے لڑائی کرنے کے لئے آگے بڑھناچاہئے اور کچھ لوگوں کی رائے اس کے خلاف ہوتی۔ اس طرح اختلاف اور آپسی جھگڑےہوجاتے جس کا لازمی نتیجہ پسپائی کی شکل میں سامنے آتا۔ (السعدی: ۳۲۲)
سوال: نیند کی حالت میں رسول اللہ ﷺ نے جو خواب دیکھا وہ کس طرح آپ کے صحابہ کو مضبوط اور ثابت قدم بنانے والا تھا؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا لَقِيتُمۡ فِئَةٗ فَٱثۡبُتُواْ وَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٤٥
(آیت سے معلوم ہوا کہ) صبر کرنا،ثابت قدم رہنا اور اللہ کا خوب ذکر کرنا ،فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں۔ (السعدی:؍۳۲۲)
سوال: آیت کریمہ فتح ونصرت کے سب سے بڑے اسباب پر مشتمل ہے ،ان کو بیان کیجئے.
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا لَقِيتُمۡ فِئَةٗ فَٱثۡبُتُواْ وَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا
اس آیت کے ضمن میں قتادہ رحمہ اللہ کا قول روایت کیا گیا ہے کہ :اللہ تعالیٰ نے ایسے وقت میں بھی اپنے ذکر کو بندوں پر فر ض کیا ہے جو بندوں کے لئے سب سے زیادہ مشغولیت (اورنفسیاتی دباؤ)کا وقت ہے اور وہ جنگ کے دوران تلواروں کے چلنے کا وقت ہے ۔ (ابن کثیر:۲؍ ۳۰۲)
سوال: آپ اس آیت کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ذکرکی اہمیت پر کس طرح دلیل بنائیں گے؟