قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ١١٣ ١١٣ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ١١٤ ١١٤ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ١١٥ ١١٥
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ١١٦ ١١٦ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ١١٧ ١١٧ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ١١٨ ١١٨ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ١١٩ ١١٩
وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ لَيۡسَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ لَيۡسَتِ ٱلۡيَهُودُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَهُمۡ يَتۡلُونَ ٱلۡكِتَٰبَۗ
اہل کتاب جیسا کہ امام احمد(رحمہ اللہ )نے فرمایا:( اللہ کی )کتاب میں باہم اختلاف کے شکار ہیں،کتاب کے مخالف ہیں اور اسے چھوڑ دینے پر سب کے سب متفق ہیں۔انہوں نے اختلاف کی وہ دونوں شکلیں جمع کررکھی ہیں جن کی اللہ نے اپنی کتاب میں مذمت کی ہے ۔اللہ نے ان لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جنہوں نے انبیاء سے دشمنی کی اور ان لوگوں کی بھی جنہوں نے انبیاء کے تعلق سے باہم اختلاف کیا۔(بعض کو مانا اور بعض کا انکار کیا۔) ( ابن تیمیہ:۱؍۳۱۱)
سوال:یہود ونصاری نے اختلاف کی جودونوں شکلیں جمع کررکھی ہیں وہ کیا ہیں؟
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ أَن يُذۡكَرَ فِيهَا ٱسۡمُهُۥ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَآۚ
جب (ایسا ہے کہ)اللہ کی مساجد میں اس کے نام کا ذکر کرنے سے روکنے والا سب سے بڑا ظالم ہے تو (اس کا مطلب یہ بھی ہوا )اس شخص سے بڑھ کر ایمان والا کوئی نہیں جو مساجد کو آباد اور تعمیر کرنے کی کوشش میں لگارہتا ہے ،خواہ حسی طور سے تعمیر کرنا ہو یا معنوی طور سے آباد کرنا ہو۔جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:(إِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ )(سورۂ توبہ:۱۱۸)یعنی اللہ کی مسجدوں کو تو بس وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔(السعدی:ص؍۶۳)
سوال:مساجد کو آباد کرنا اور انہیں ویران وبرباد کرنا،ہردوعمل کا معاملہ اللہ سبحانہ کے نزدیک بڑا ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ أَن يُذۡكَرَ فِيهَا ٱسۡمُهُۥ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَآۚ
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی مسجدوں کو برباد اور ویران کرناہے لہٰذا جو قوم ،گروہ اورمخصوص شخص مسجد میں کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرے کہ اس کا وہ عمل مسجد کی ویرانی کا سبب بن رہا ہوتو (اس کے نتیجہ میں)اللہ تعالیٰ اسے بطور سزاڈر اور خوف میں مبتلا کردیتا ہے جو اسے دنیا میں ( ہی) لاحق ہوتے ہیں۔(یہ بات آیت کریمہ کے اگلے حصہ سے سمجھ میں آتی ہے۔)
سوال:قیامت کی نشانیوں میں سے مسجدوں کو ضائع اور برباد کرنا بھی ہے۔تو اس کی بربادی کس طرح ہوتی ہے؟
وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَآۚ
(وَسَعٰى)یعنی جدوجہد کی اور اپنی پوری قوت لگادی۔(فِي خَرَابِهَآ)مسجدوں کو ویران کرنے میں،حسی طور پر یا معنوی طور پر۔چنانچہ حسی طور پر مسجدوں کو ویران کرنے کا مطلب ہے :انہیں ڈھادینا،خراب کردینا اور انہیں گندگی اور کوڑاکرکٹ سے آلودہ کرنا۔اور معنوی طور پر ویران کرنے کا مطلب:ان میں اللہ کا ذکر کرنے والوں کو روکنا۔آیت میں بیان کردہ حکم میں ہر وہ شخص شامل ہے جس کے اندر مذکورہ صفات پائی جائیں۔(السعدی:ص؍۶۳)
سوال:مسجدوں کو ویران کرنے کی کون سی قسمیں ہیں؟اور آج امت میں دونوں میں سے کون سی قسم کا چلن زیادہ ہے؟
وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا ٱللَّهُ أَوۡ تَأۡتِينَآ ءَايَةٞۗ
(یہ ان کی معاندانہ روش تھی کہ)وہ کٹھ حجتی اور نکتہ چینی کے لئے نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ہدایت کی جستجو میں نہیں۔ان کا مقصد معرفتِ حق تھا ہی نہیں۔ کیونکہ انبیاء ورسُل علیہم الصلٰوۃ والسلام(پہلے بھی بیانِ حق کے لئے) ایسےآیات و معجزات لے کر آتے رہے ہیںجن پرلوگ ایمان لاتے رہے ہیں۔(السعدی:۶۴)
سوال:کافروں نے چند معجزات کا مطالبہ کیا لیکن اللہ نے ان کا مطالبہ منظور نہیں کیا۔اس کی کیا وجہ تھی؟
وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا ٱللَّهُ أَوۡ تَأۡتِينَآ ءَايَةٞۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِم مِّثۡلَ قَوۡلِهِمۡۘ تَشَٰبَهَتۡ قُلُوبُهُمۡۗ
(تَشَٰبَهَتۡ قُلُوبُهُمۡ)یعنی ان کے دل باہم مشابہت اور یکسانیت رکھتے ہیں۔اس میں(هُمۡ)کی ضمیر (ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ)(جو لوگ علم نہیں رکھتے) اور(ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِم)(جو لوگ ان سے پہلے گذرچکے)، (ان دونوں قسم کے لوگوں)کے لئے ہے۔
اور ان کے دلوں کی مشابہت و یکسانیت کفر میں ہے یا ایسی چیز کا مطالبہ کرنے میں ،جس کا مطالبہ صحیح نہیں تھا۔(ابن جزی:۱؍۸۱)
سوال: (ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ)یعنی جو لاعلم ہیں اور (ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِم)یعنی جو اُن سے پہلے گذرچکے۔ان دونوں کے دل کس چیز میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے؟
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗاۖ وَلَا تُسۡٔلُ عَنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡجَحِيمِ ١١٩
اس سے مرادیہ ہے کہ:ہم نے آپ کو پیغمبر بناکر بھیجا تاکہ آپ اطاعت گزار شخص کو خوشخبری دیں اور گنہگار ونافرمان کو ڈرائیں۔اس لئے نہیں بھیجا کہ آپ ایمان لانے کے لئے(لوگوں پر)زورزبردستی کریں۔اب اگر وہ ہٹ دھرمی اور مخالفت پر اڑے رہیں تو آپ سے باز پرس نہیں کی جائیگی ۔ (الألوسی:۱؍۳۷۰)
سوال:اس آیت سے داعی کو کیاسبق ملتا ہے؟