قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٧٩ ١٧٩


ﭿ ١٨٠ ١٨٠

١٨١ ١٨١

١٨٢ ١٨٢
١٨٣ ١٨٣
١٨٤ ١٨٤



١٨٥ ١٨٥

١٨٦ ١٨٦

ﯿ

١٨٧ ١٨٧
174
سورۃ الأعراف آیات 0 - 179

لَهُمۡ قُلُوبٞ لَّا يَفۡقَهُونَ بِهَا وَلَهُمۡ أَعۡيُنٞ لَّا يُبۡصِرُونَ بِهَا وَلَهُمۡ ءَاذَانٞ لَّا يَسۡمَعُونَ بِهَآۚ أُوْلَٰٓئِكَ كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ ١٧٩

اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ لوگ سننے اور دیکھنے کی صلاحیت سے پوری طرح محروم تھے ۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ ان باتوں کو سننے او ر دیکھنے سے عاجز ومحروم تھے جو باتیں انہیں دینِ حق کے بارے میں فائدہ دینے والی تھیں۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۳۰)
سوال: کب یہ مانا جائیگا کہ آپ آخرت کے معاملے میں اپنے کان اور اپنی آنکھوں سے فائدہ اٹھانے والے ہیں؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 179

لَهُمۡ قُلُوبٞ لَّا يَفۡقَهُونَ بِهَا وَلَهُمۡ أَعۡيُنٞ لَّا يُبۡصِرُونَ بِهَا وَلَهُمۡ ءَاذَانٞ لَّا يَسۡمَعُونَ بِهَآۚ أُوْلَٰٓئِكَ كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ ١٧٩

چونکہ وہ لوگ اجروثواب کے راستے پرنہیں چلتے اس لئے وہ جانوروں کی طرح ہیں ،جن کی خواہش بس کھانے پینے تک محدود ہوتی ہے۔بلکہ وہ لوگ تو جانوروں سے بھی گئے گذرے ہیں کیونکہ جانور تو اپنا فائدہ و نقصان دیکھتے ہیں۔اور اپنے مالک کے پیچھے پیچھے ہولیتے ہیں ،اس کی باتیں مانتے ہیں ۔جبکہ وہ لوگ انسان ہوتے ہوئے ایسا نہیں کرتے ۔ (القرطبی: ۹؍۳۹۰)
سوال: بعض انسان جانورو ں سے زیادہ گمراہ اور گئے گذرے کیوں ہوتے ہیں؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 180

وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ

اللہ سبحانہ نے اپنے ناموں کو (حُسۡنَىٰ) یعنی بہترین اور سب سے اچھے ہونے کی صفت سے ذکر فرمایاہے اس لئے کہ اللہ کے ناموں کو سننا کانوں کو اور دلوں کو اچھااور بھلا لگتاہے کیونکہ وہ سب کے سب اللہ کی توحید ،اس کی عزت وعظمت ،فیاضی وسخاوت ،شفقت ورحمت اور اس کے فضل واحسان پر دلالت کرتے ہیں ۔ (القرطبی: ۹؍۳۹۳)
سوال: اللہ تعالیٰ نے اپنے ناموں کو (حُسۡنَىٰ) یعنی بہترین کیوں کہا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 180

وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ

یعنی: اللہ سے -جو بھی مانگو-اس کے ناموں کے ذریعہ مانگو،اپنی دعاؤں میں اس کے ناموں کا وسیلہ پکڑو،چنانچہ اللہ کے ہر نام کے ذریعہ وہ دعا مانگی جائے جو اس کے نام کے معنی ومطلب سے مناسبت رکھتی ہو ۔مثال کے طور پر یہ کہو: “یَا رَحِیْم! اِرحَمْنِیْ ”۔یعنی اے رحم کرنے والے !مجھ پر رحم فرما۔
“یَا حَکِیْم! اُحْکُمْ لِی” ۔ اے حکمت والے! میرے حق میں بہتر فیصلہ کردے۔ (القرطبی: ۹؍۳۹۳)
سوال: بندۂ مومن اپنے رب کو اس کے اسماءِ حسنیٰ یعنی بہترین ناموں کے ذریعہ کیسے پکارے اور دعا مانگے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 180

وَذَرُواْ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ أَسۡمَٰٓئِهِۦۚ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٨٠

اللہ کے ناموں میں الحادیعنی ٹیڑھاپن برتنے والوں کو چھوڑدینے کا مطلب ہے کہ:جب یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ وہ لوگ حق کو جاننا اور ماننا نہیں چاہتے، حق کو جاننا ان کا مقصد ہی نہیں ہے تو پھر تم ان سے بحث وتکرار میں سر مت کھپاؤ ،ان سے لمبی چوڑی گفتگوسے رک جاؤ۔یااس کاایک اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ناموں میں ٹیڑھا راستہ اختیار کرنے والوں یعنی مُلحدوں کی باتوں پر کان مت لگاؤ تاکہ عام مسلمان ان کے شکوک وشبہات سے متاثر ہوکر فتنے میں نہ پڑیں۔ (ابن عاشور: ۹؍۱۸۹)
سوال: جو لوگ اللہ کے ناموں میں الحاد یعنی کجروی اور ٹیڑھاپن اختیار کرتے ہیں انہیں چھوڑدینے کاکیا مطلب ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 181

وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَآ أُمَّةٞ يَهۡدُونَ بِٱلۡحَقِّ وَبِهِۦ يَعۡدِلُونَ ١٨١

آیت یہ بات بتارہی ہے کہ اللہ عزوجل نے تاریخ کے کسی بھی زمانے اور کسی بھی وقت میں دنیا کو حق کی طرف بلانے والے داعی سے خالی نہیں رکھا ۔(القرطبی: ۹؍۳۹۷)
سوال: کیا کوئی زمانہ ایسا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اس کے دین کی طرف دعوت دینے والوں سے خالی رہا ہو؟

سورۃ الأعراف آیات 182 - 183

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ ١٨٢ وَأُمۡلِي لَهُمۡۚ إِنَّ كَيۡدِي مَتِينٌ ١٨٣

اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح بتدریج یعنی آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جائیگا کہ انہیں اس کی خبر تک نہیں ہوسکے گی ۔کلبی رحمہ اللہ اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال کو ان کی نگاہوں میں خوبصورت اور خوشنمابنادیتا ہے اورپھرانہیں ہلاک وبرباد کردیتا ہے۔
ضحّاک رحمہ اللہ نے کہاکہ :جب بھی وہ کوئی نئی برائی اور نافرمانی کرتے ہیں تو ہم انہیں نئی نعمت دے دیتے ہیں۔ سفیان ثَوری رحمہ اللہ اس کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں کہ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا):ہم نعمتوں میں کوئی کمی نہیں کریں گے ،انہیں بھرپور نعمتیں دیں گے لیکن ان نعمتوں کاشکربجالانے کی انہیں توفیق نہیں دیں گے ۔ (البغوی: ۲؍ ۱۷۶)
سوال:لوگوں کا بتدریج ہلاکت کی طرف جانا ،اس طرح کہ انہیں اس کی خبر بھی نہ ہو ۔یہ کیسے ہوتا ہے؟