قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٦٤ ١٦٤


١٦٥ ١٦٥

ﭿ ١٦٦ ١٦٦



١٦٧ ١٦٧


١٦٨ ١٦٨




١٦٩ ١٦٩

ﯿ ١٧٠ ١٧٠
172
سورۃ الأعراف آیات 0 - 164

وَإِذۡ قَالَتۡ أُمَّةٞ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُونَ قَوۡمًا ٱللَّهُ مُهۡلِكُهُمۡ أَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗاۖ قَالُواْ مَعۡذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ ١٦٤

بنی اسرائیل کے لوگ تین گروہوں میں بٹ گئے :ایک گروہ نے سنیچر کے دن مچھلیوں کا شکار کرکے حکم کی خلاف ورزی اور نافرمانی کی ۔ دوسرے گروہ نے انہیں اس گناہ سے روکا اور ان سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اور تیسرا گروہ وہ تھا جس نے خاموشی اپنائی اور علیحدگی بھی اختیار کی ۔اس تیسرے گروہ نے جب منع کرنے والوں کی علیحدگی اورنافرمان گروہ کی سرکشی وہٹ دھرمی دیکھی تو روکنے والے گروہ سے کہا:ارے تم ایسے لوگوں کو کیوں وعظ ونصیحت کررہے ہو اور سدھارنے میں لگے ہو جنہیں اللہ تعالیٰ ہلاک وبرباد کردینا یا عذاب دینا چاہتا ہے ؟اس پر منع کرنے والے گروہ نے جواب دیا:ہم انہیں اس لئے گناہ سے روک رہے ہیں تاکہ اللہ کے پاس معذرت کرسکیں اور اپنے لئے عذر پیش کرسکیں اور اس لئے بھی انہیں سمجھاتے ہیں کہ ہوسکتا ہے وہ ڈر جائیں اور اپنے گناہ سے باز آجائیں ۔بالآخر نافرمان گروہ ہلاک ہوگیااور نافرمانی اور برائی سے روکنے والا گروہ نجات پاگیا۔البتہ تیسرے گروہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا وہ اپنی خاموشی اور چپ سادھنے کی وجہ سے ہلاک کیا گیا یا پھر نافرمانوں سے الگ رہنے اور نافرمانی کا ارتکاب نہ کرنے کی وجہ سے بچ گیا؟ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۲۶)
سوال:جب لوگوں میں برائیاں عام ہوجاتی ہیں تو لوگ تین قسموں میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔وہ قسمیں کیا ہیں او ر ہر قسم کاکیا انجام ہوتا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 164

وَإِذۡ قَالَتۡ أُمَّةٞ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُونَ قَوۡمًا ٱللَّهُ مُهۡلِكُهُمۡ أَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗاۖ قَالُواْ مَعۡذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ ١٦٤

برائی سے روکنے کا یہی سب سے بڑا مقصد ہے کہ: منع کرنے والے کے لئے اللہ کے پاس عذر اور ساتھ ہی یہ بھی کہ جس شخص کو روکا ٹوکاجارہا ہے اس پر حجت قائم کردی جائے اورہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ہدایت وتوفیق دیدے ،نتیجہ میں وہ نصیحت کے مطابق شرعی حکم اور ممانعت کے تقاضے پر عمل کرنے لگے۔ (السعدی: ۳۰۷)
سوال:نیکی کاحکم دینے اور برائی سے روکنے کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 165

فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِۦٓ أَنجَيۡنَا ٱلَّذِينَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلسُّوٓءِ

بندو ں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ایسا ہی معمول اور قانون رہا ہے کہ جب اس کا عذاب نازل ہوتا ہے تو اس عذاب سے وہ لوگ محفوظ رہتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے رہے اور برائی سے روکتے رہے تھے۔ (السعدی: ۳۰۷)
سوال: نیکی کا حکم دینے والوں اور برائیوں سے روکنے والوں کو دنیا میں کیا فائدہ ملتا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 167

إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ ٱلۡعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٦٧

یہ رحمت کو عذاب سے ملاکر ایک ساتھ بیان کرنے کا انداز ہے تاکہ صرف عذاب کے ذکر سے لوگوں کے اندرمایوسی نہ پیدا ہوجائے اسی لئے اللہ تعالیٰ بہت سے مقامات پر ترغیب وترہیب یعنی شوق دلانے اور ڈرانے کو ملاکر ساتھ ساتھ ذکر کرتاہے تاکہ لوگوں کے دل خوف اور امید کے بیچ میں رہیں۔)ابن کثیر: ۲؍ ۲۴۹)
سوال:اللہ تعالیٰ رحمت اور عذاب کو ایک ساتھ ملاکر کیوں ذکر فرماتا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 168

وَبَلَوۡنَٰهُم بِٱلۡحَسَنَٰتِ وَٱلسَّيِّـَٔاتِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ١٦٨

(وبلوناهم بالحسنات) ہم نے انہیں اچھے حالات اور خوشحالی دے کر آزمایا۔سرسبزی وشادابی اور صحت وسلامتی دے کر آزمایا.
(والسيئات) اور برے حالات وبدحالی دے کر آزمایا۔ قحط وخشک سالی اور سختی وتنگی کے ذریعہ.
(لعلهم يرجعون) تاکہ وہ پلٹ آئیں۔ مطلب ہے:وہ اپنے رب کی اطاعت وفرمانبرداری کے راستے پر لوٹ آئیں اور نافرمانی سے توبہ کرلیں۔(البغوی: ۲؍ ۱۶۴)
سوال: نعمتوں اور سختیوں کے ذریعہ آزمائشوں کے نازل ہونے میں کیا حکمت ہوتی ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 169

أَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِم مِّيثَٰقُ ٱلۡكِتَٰبِ أَن لَّا يَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّ وَدَرَسُواْ مَا فِيهِۗ

(ودرسوا ما فيه):اور یہ بات وہ پڑھتے بھی رہے تھے جو کتاب میں مذکور تھی ۔جب وہ پڑھتے رہتے تھے تو اس بات کو جاننے اور سمجھنے میں ان کے لئے کوئی مشکل اور دشواری نہیں تھی ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے اس عہد وپیمان کی خلاف ورزی لا علمی اور ناسمجھی کی وجہ سے نہیں کی بلکہ انہوں نے جو کچھ کیا جان بوجھ کر کیااور وہ اپنے اس معاملے کی پوری واقفیت اور بصیرت رکھتے تھے اور یہ چیز یعنی جان بوجھ کر اللہ کے حکم کی مخالفت گناہ کو اور زیادہ بڑابنادیتی ہے ۔ گناہ گار کے حق میں لعنت وملامت کی وجہ کو اور زیادہ سخت بنادیتی ہے ۔نیز اس گناہ کا عذاب بدترین اور انتہائی سنگین ہوجاتا ہے ۔ (السعدی: ۳۰۷)
سوال:جانتے بوجھتے گناہ کرنے والے اور نادانی میں گناہ کرنے والے کے درمیان کیا فرق ہے ؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 170

وَٱلَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِٱلۡكِتَٰبِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُصۡلِحِينَ ١٧٠

(يُمَسِّكون): مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں۔ اس لفظ میں یہ معنی ہے کہ وہ اللہ کی کتاب اور اس کے دین کو تھامنے کا عمل باربار ،مسلسل اور زیادہ سے زیادہ کرتے ہیں ۔یعنی(يُمَسِّكون) مضبوط پکڑتے ہیں، میں تکرار اور زیادتی کا معنی پایا جاتاہے۔اوراسی وجہ سے ان کی تعریف کی جارہی ہے ۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی کتاب اور دین کوپکڑنے میں اس بات کی ضرورت ہے کہ بندہ اس سے مسلسل لگا اور چمٹا رہے اور باربار دہراتا رہے ۔ (القرطبی: ۹؍۳۷۴)
سوال:جب(يُمَسِّكون) فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف کی گئی تو اسے تشدید کے ساتھ کیوں ذکر کیا گیا؟