قرآن
ﮓ
ﱁ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ١٥٦ ١٥٦ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ١٥٧ ١٥٧
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ١٥٨ ١٥٨ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ١٥٩ ١٥٩
وَرَحۡمَتِي وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٖۚ
اللہ کی رحمت ہر چیزکو شامل ہے ۔ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ کہتے ہیں: دنیا میں اللہ کی رحمت نیک وبد اور اچھے وبرے سب کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے ۔ لیکن قیامت کے روز یہ رحمت متقی وپرہیزگارلوگوں کے لئے خاص ہوگی۔ (البغوی: ۲؍۱۵۷)
سوال: اللہ کی رحمت دنیا میں کن لوگوں کے لئے ہے اور آخرت میں کس کے حصے میں آئیگی؟
فَسَأَكۡتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤۡمِنُونَ ١٥٦
یعنی:(اپنی رحمت ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا)جو اللہ کی تمام کتابوں پر اور اس کے تمام انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ خصوصیت اس امت (محمدیہ) کے علاوہ کسی بھی امت کو حاصل نہیں ہے۔ (ابن جُزَی: ۱؍ ۳۱۹)
سوال: یہ آیت دوسروں کی بجائے صرف امتِ محمدیہ کے لئے خوشخبری کیوں ہے؟
وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤۡمِنُونَ ١٥٦
میں اپنی رحمت ان لوگوں کے لئے (بھی) لکھ دوں گا جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔
اللہ کی آیتوں پر ایمان اسی وقت صحیح اور پورا ہوگا جب اس میں یہ چیزیں بھی شامل ہوں کہ :ان کے معانی ومطالب کو سمجھا جائے ،پھر ان کے تقاضوں پر عمل کیا جائے ۔نیز اس ایمان کاایک اہم پہلویہ ہے کہ اصول وفروع یعنی عقائد واعمال اور دین کے تمام معاملات میں ظاہری اور باطنی طور پرنبی کریم ﷺ کی اتباع کی جائے۔(السعدی: ۳۰۵)
سوال: اللہ کی آیتوں پر ایمان لانے کی کیا علامتیں ہیں؟
ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِيَّ ٱلۡأُمِّيَّ ٱلَّذِي يَجِدُونَهُۥ مَكۡتُوبًا عِندَهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ
نبی کریم ﷺ کا اُمی اور ان پڑھ ہونا اس اعتبار سے ہرگز نہیں تھا کہ آپ کے پاس علم ہی نہ ہو،اپنی یادداشت اورحافظے سے بھی پڑھنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔نہیں ،بلکہ اس چیز میں تو آپ ﷺ دنیا کے تمام اماموں کے امام تھے ۔ آپ کا ان پڑھ واُمی ہونا اس اعتبار سے تھا کہ آپ لکھ نہیں سکتے تھے اور لکھا ہوا پڑھ نہیں سکتے تھے ۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۲۱۰)
سوال: نبی کریم ﷺ کس اعتبار سے اُمی وان پڑھ تھے؟
وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ إِصۡرَهُمۡ وَٱلۡأَغۡلَٰلَ ٱلَّتِي كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡۚ
( اصر )کا معنیٰ بوجھ ہے ۔بنی اسرائیل سے بھاری اور بوجھل کاموں کے کرنے کا عہد وپیمان لیا گیا تھا مگر محمد ﷺ کے ذریعہ اس عہد کی پابندی اٹھالی گئی اور بھاری اعمال کا بوجھ ہٹادیا گیا ،اس طرح آپ کے ذریعہ آسان دین دیا گیااوروہ اس بوجھ سے نجات پاگئے جس کے تلے دبے ہوئے تھے اور وہ بندشیں اور پھندے اٹھالئے گئے جن میں جکڑے ہوئے تھے ۔جیسے پیشاب کو دھولینا،مالِ غنیمت کے کھانے کو حلال قرار دینا،حیض والی عورت کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا،ان کے ساتھ میل جول رکھنا اور کھانا پینا وغیرہ۔(القرطبی: ۹؍۳۵۶)
سوال: امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کی اس عظیم رحمت کو بیان کیجئے کہ کس طرح اس نے اس امت سے بوجھ اور بار گراں ہلکا کردیا؟
فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُواْ ٱلنُّورَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ١٥٧
(فالذين آمنوا به)تو جو لوگ ان پر ایمان لائے۔یعنی: محمد ﷺ پر ۔ (وعزروه) اور ان کی تعظیم وتوقیر کی ۔(ونصروه):ان کی مدد وحمایت کی ۔ یعنی دشمنوں اور مخالفین کے مقابلے میں (نبی ﷺ کی ڈھال بن گئے ۔) (واتبعوا النور الذي أنزل معه):اور اس روشنی کی پیروی کی جو آپ ﷺ کے ساتھ نازل کی گئی ہے ۔نوریعنی روشنی سے مراد قرآن کریم ہے ۔(أولئك هم المفلحون) یہی ہیں جو کامیابی پانے والے ہیں۔ (البغوی : ۲؍ ۱۵۹)
سوال: اللہ تعالیٰ کی کتاب میں فلاح وکامیابی پانے والوں کی کیا صفات ہیں؟
وَمِن قَوۡمِ مُوسَىٰٓ أُمَّةٞ يَهۡدُونَ بِٱلۡحَقِّ وَبِهِۦ يَعۡدِلُونَ ١٥٩
یہاں اس آیت کریمہ کو بیان کرنا اصل میں پچھلی آیات کے مضمون وبیان سے ایک قسم کا بچاؤ ہے ۔ اس لئے کہ پچھلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایسی کئی برائیوں کا ذکر کیا ہے جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں۔توممکن ہے اس بناپر کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہوجائے کہ یہ چیز بنی اسرائیل کے تمام لوگوں کوشامل ہے ۔وہ سب ان برائیوں میں ملوث تھے لہذا اللہ تعالیٰ نے اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے یہ بتادیا کہ ان میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو سیدھی راہ پر قائم تھا ،خود بھی ہدایت یافتہ تھا اور دوسروں کی بھی رہنمائی کرتا تھا ۔ (السعدی: ۳۰۶)
سوال:موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی برائی بیان کرنے والی آیتوں کے بیچ میں ان کے ایک گروہ کی تعریف بیان کی گئی۔اس کی کیا وجہ ہے؟