قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٩٦ ٩٦

٩٧ ٩٧

٩٨ ٩٨

ﭿ ٩٩ ٩٩



١٠٠ ١٠٠


١٠١ ١٠١

١٠٢ ١٠٢


١٠٣ ١٠٣

١٠٤ ١٠٤
163
سورۃ الأعراف آیات 0 - 96

وَلَوۡ أَنَّ أَهۡلَ ٱلۡقُرَىٰٓ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَرَكَٰتٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِن كَذَّبُواْ فَأَخَذۡنَٰهُم بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ٩٦

اللہ تعالیٰ کے فرمان: (بَرَكَٰتٍ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ) آسمان اور زمین کی برکتیں۔ اس سے حقیقی مطلب مراد ہے اس لئے کہ لوگ دنیا میں جوبھی خیر وبھلائی پاتے ہیں۔وہ دوصورتوں سے خالی نہیں ہیں:یا تو وہ بھلائیاں زمین سے پیدا ہوتی اور نکلتی ہیں اور زیادہ تر مَنافِع یہی زمین کی پیداوارکے ہوتے ہیں۔ یا پھر یہ بھلائیاں آسمان سے حاصل ہوتی ہیں جیسے بارش کا پانی ،سورج کی کرنیں،چاندکی روشنی ،ستارو ں کی رونق اور خوشگوار ہوائیں وغیرہ۔ (ابن عاشور: ۹؍۲۲)
سوال: لوگوں کو ملنے والی برکتیں یا تو آسمان سے اترتی ہیں یا زمین سے نکلتی ہیں ۔اس بات کوبیان کیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 96

وَلَوۡ أَنَّ أَهۡلَ ٱلۡقُرَىٰٓ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَرَكَٰتٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ

اگر بستی والے سچے دل سے ایمان لے آتے اور ان کے اعمال ایمان کے مطابق ہوتے ۔یعنی ظاہری اعمال دل کے ایمان کے مطابق ہوتے ،ساتھ ہی وہ ظاہر وباطن میں بھی تقویٰ سے کام لیتے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو نتیجے میں ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ۔ (السعدی: ۲۹۸)
سوال: بستیوں اور شہروں کے حالات کیسے سنورتے اور سدھرتے ہیں؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 99

أَفَأَمِنُواْ مَكۡرَ ٱللَّهِۚ فَلَا يَأۡمَنُ مَكۡرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ٩٩

اللہ کا خفیہ تدبیر کرنا،چال چلنااور انہیں ڈھیل دینایہ سب نافرمانیوں کے باوجوداللہ کا انہیں دنیا کی نعمتوں سے مالامال کردینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ (البغوی: ۲؍ ۱۳۲)
سوال: آیت میں اللہ کے مکریعنی اس کی چال اور تدبیرسے کیا مراد ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 99

فَلَا يَأۡمَنُ مَكۡرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ٩٩

مذکورہ آیتِ کریمہ میں اس بات پر زوردار دھمکی ہے کہ بندے کے لئے بالکل مناسب نہیں کہ وہ اپنے ایمان پر مطمئن رہے اور بے خوف ہوجائے بھلے ہی اس کے پاس کتنا بھی ایمان ہو۔بلکہ اسے ہمیشہ ایسی آزمائش ومصیبت سے خوفزدہ رہناچاہئے جو اس سے ایمان کی دولت چھین لے جائے۔ (السعدی: ۲۹۸)
سوال: اس آیت پر غوروفکر کرنے والے کو کیا کرنا چاہئے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 99

فَلَا يَأۡمَنُ مَكۡرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ٩٩

حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: بندۂ مومن نیکیاں کرتا ہے پھر بھی ڈرا ،سہما اورخوف زدہ رہتا ہے جبکہ اس کے برخلاف گناہگار بندہ نافرمانیاں کرنے کے باوجود بھی بے خوف اور مطمئن رہتا ہے ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۲۴)
سوال: اللہ کے مکریعنی تدبیرسے بے خوف ہونے کے بارے میں مومن اور فاجر کے درمیان کیا فرق ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 100

أَوَ لَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلۡأَرۡضَ مِنۢ بَعۡدِ أَهۡلِهَآ أَن لَّوۡ نَشَآءُ أَصَبۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡۚ وَنَطۡبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ ١٠٠

(وَنَطۡبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ) اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ وہ سن ہی نہ سکیں۔ یعنی جب اللہ انہیں آگاہ اور خبردارکرے تو خبردار نہ ہوں، جب نصیحت کرے تو نصیحت نہ پکڑیں اور جب اللہ اپنی آیتوں اور عبرتوں کے ذریعہ ہدایت ورہنمائی کرے تو وہ ہدایت کوقبول نہ کریں ۔تو اللہ انہیں سزادیتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر لگادیتاہے نتیجہ میں ان کے دلوں پر زنگ اور میل چڑھ جاتاہے ۔یہاں تک کہ ان پر مہر لگ جاتی ہے پھر ان دلوں میں کوئی حق بات داخل نہیں ہوپاتی ،نہ کوئی بھلائی ان تک پہنچ پاتی ہے اور جو چیز ان کے لئے فائدہ مند ہو اسے نہ سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔وہ تو بس وہی سنتے ہیں جسے سننے اور ماننے سے خود ان کے خلاف حجت قائم ہوتی ہے ۔ (السعدی: ۲۹۸)
سوال: اللہ کے دین سے منہ موڑنے والوں کے لئے دنیا کی سب سے سخت سزا کیا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 103

فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ١٠٣

یعنی اے محمد ﷺ! دیکھ لیجئے کہ ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا۔اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قو م کی نگاہوں کے سامنے ان سب کو ڈبو دیا۔اور یہ فرعون اور اس کی قوم کے حق میں انتہائی شرمناک سزا تھی۔ساتھ ہی یہ چیز اللہ کے دوستوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے مومنین کے لئے تسلی کا ذریعہ اور دلوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی تھی ۔ (ابن کثیر: ۲؍۲۲۵۔۲۲۶)
سوال: فساد کرنے والوں کے انجام کو دیکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس حکم کی کیا حکمت ہے؟