قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٥٨ ٥٨


٥٩ ٥٩

ﭿ ٦٠ ٦٠

٦١ ٦١


٦٢ ٦٢


٦٣ ٦٣

٦٤ ٦٤


٦٥ ٦٥

٦٦ ٦٦

ﯿ ٦٧ ٦٧
158
سورۃ الأعراف آیات 0 - 58

وَٱلۡبَلَدُ ٱلطَّيِّبُ يَخۡرُجُ نَبَاتُهُۥ بِإِذۡنِ رَبِّهِۦۖ وَٱلَّذِي خَبُثَ لَا يَخۡرُجُ إِلَّا نَكِدٗاۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَشۡكُرُونَ ٥٨

وحی الٰہی کے اترنے اور آنے کے وقت دلوں کی جو حالت ہوتی ہے ،یہ اسی کی مثال ہے کہ جب پاکیزہ اور صاف ستھرے دلوں کے پاس وحی آتی ہے تو وہ اسے قبول کرتے ہیں ،سیکھتے ،سمجھتے ہیں، اور پھر اپنی اصل یعنی طبیعت وفطرت کی طہارت وپاکیزگی کے مطابق اور اپنے بنیادی مادے کی خوبی کے مطابق نشونما پاتے ہیں ۔ رہے وہ دل جن میں گندگی اورخباثت ہوتو جب ایسے دلوں کے پاس وحی آتی ہے تو وہ قبول کرنے والی جگہ اور قابل زمین نہیں پاتی، بلکہ وہ ایسے دلوں کو غافل وبے پروا ہ پاتی ہے ،جو یا تو اعراض کرنے والے ہوتے ہیں یامخالفانہ روش والے ہوتے ہیں، تو دلوں کی اس صورت حال پر وحی اُس بارش کی طرح ہوتی ہے جو کیچڑ والی زمین پر ، ریتیلی زمین اور سخت پتھروں والی زمین پر برس کر بہہ جاتی ہے مگر ان زمینوں پر اس کا کچھ بھی اثر باقی نہیں رہتا ۔ (السعدی: ۲۹۲)
سوال: وحی کو قبول کرنے کے سلسلے میں دلوں کی کتنی قسمیں ہیں؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 60

قَالَ ٱلۡمَلَأُ مِن قَوۡمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٦٠

(قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖ) ان کی قوم کے بااثر لوگوں نے کہا: یعنی:قوم کے شرفاء،سرداروں،پیشواؤں اور رسوخ والے لوگوں نے کہا: (اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ) ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ تم صریح گمراہی میں پڑ گئے ہو۔ یعنی: اس بات میں کہ تم ہمیں بتوں کو چھوڑ دینے کی دعوت دے رہو جن کی عبادت اور تعلق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا تھا۔
بدکار وگناہ گار لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے، وہ نیک اور اچھے لوگوں کوگمراہ سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نقل فرمایاہے : (وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ۰۰۳۲) (سورۂ مطفِّفین: ۳۲)اور جب مجرمین انہیں یعنی مومنین کو دیکھتے تو کہتے یقیناًیہ لوگ بھٹکے ہوئے گمراہ ہیں۔
(وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَيْهِ) (سورۂ احقاف:۱۱) جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے ایمان والوں کے بارے میں کہا کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہل نہیں کرپاتے ،اور اسے ماننے میں ہم سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۱۴)
سوال: آیت کے تناظر میں نیک لوگوں کو پیش آنے والی بعض آزمائشوں کا ذکر کیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 61

قَالَ يَٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِي ضَلَٰلَةٞ وَلَٰكِنِّي رَسُولٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٦١

رسول کی یہی شان ہوتی ہے : وہ تبلیغ کرنے والا،فصیح،صاف صاف بیان کرنے والا، اور اللہ کو جاننے والا ہوتا ہے ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۱۴)
سوال:اللہ کی طرف دعوت دینے والے کو کن صفات سے متصف ہونا چاہئے؟

سورۃ الأعراف آیات 61 - 62

قَالَ يَٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِي ضَلَٰلَةٞ وَلَٰكِنِّي رَسُولٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٦١ أُبَلِّغُكُمۡ رِسَٰلَٰتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمۡ وَأَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٦٢

رسول کی یہی شان ہوتی ہے : وہ تبلیغ کرنے والا،فصیح،صاف صاف بیان کرنے والا، اور اللہ کو جاننے والا ہوتا ہے ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۱۴)
سوال:اللہ کی طرف دعوت دینے والے کو کن صفات سے متصف ہونا چاہئے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 62

أُبَلِّغُكُمۡ رِسَٰلَٰتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمۡ وَأَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٦٢

یعنی: میری ذمہ داری ہے کہ اللہ کی توحید اور اس کی حکم کردہ اور منع کردہ چیزوں (اوامر ونواہی) کو وضاحت کے ساتھ تم تک پہنچادوں، اور یہ کام تمہارے ساتھ خیر خواہی اور تم پر شفقت ونرمی کے انداز میں کروں۔ (وَأَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ) اور میں اللہ کی طرف سے اس بات کا علم رکھتا ہوں جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ اس حقیقت کی بنیاد پر جو بات طے ہوتی ہے وہ یہ کہ تم میری اطاعت کرو، اور اگر تم سوجھ بوجھ رکھتے ہو تو میرے حکم کی پیروی کرو۔ (السعدی: ۲۹۳)
سوال: جب رسول اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتے تھے جسے لوگ نہیں جانتے ۔تو یہ سچائی لوگوں پر کیا چیز واجب کرتی ہے ؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 64

فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيۡنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَأَغۡرَقۡنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمًا عَمِينَ ٦٤

غرق کرنے سے پہلے بچانے کا ذکر کیا گیا ہے ۔جس کا مقصد مومنوں کو نجات دینے کا خاص اہتمام کرنا ہے، اور اس کی خصوصی اہمیت اجاگر کرنا ہے ۔ ساتھ ہی ایمان والے سامعین کو خوشی کی بات سنانے میں جلدی اور پہل کی جائے اور انہیں معلوم ہوجائے کہ :اللہ جب مشرکین کو ہلاک کرتا ہے تو اس کی عادت اور دستور یہ ہے کہ رسول اور مومنوں کو بچالیتا ہے ۔ (ابن عاشور: ۸؍۱۹۷)
سوال: آیت کریمہ میں کافروں کو غرق کرنے سے پہلے مومنوں کو نجات دینے کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 64

فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيۡنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَأَغۡرَقۡنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآۚ

بندوں کے بارے میں اللہ کی یہ سنت ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کہ: ہر دوجگہ انجام متقیوں کے حق میں ہوتا ہے ۔غلبہ اور جیت بالآخر انہی کے حصے میں آتی ہے۔جس کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ نے نوح علیہ السلام کی قوم کے کافروں اور مشرکوں کو غرق کرکے مٹادیا، جبکہ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے رفقاء اور ایمان والے ساتھیوں کو بچالیا۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۱۴)
سوال: حضرت نوح علیہ السلام کے قصے میں پریشان حال مسلمانوں کے لئے ایک اہم سبق ہے ۔ وہ کیا ہے؟