قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٥٢ ٥٢



ﭿ
٥٣ ٥٣



٥٤ ٥٤

٥٥ ٥٥


٥٦ ٥٦



ﯿ ٥٧ ٥٧
157
سورۃ الأعراف آیات 0 - 52

وَلَقَدۡ جِئۡنَٰهُم بِكِتَٰبٖ فَصَّلۡنَٰهُ عَلَىٰ عِلۡمٍ

عَلٰى عِلْمٍ) علم کی بناپر۔ یعنی کتاب میں ہر چیز کی تفصیل اللہ کے اس علم کی بناپر ہے جو ہر زمانے اور ہر علاقے میں بندوں کے تمام حالات کو پوری طرح سے گھیرے ہوئے ہے ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ بندوں کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں ہے۔ لہذا اللہ کا ہر چیز کو صاف صاف تفصیل کے ساتھ بیان کرنا کسی ایسی ذات کی طرح بیان کرنا نہیں ہے جو معاملات اور چیزوں کاپورا علم نہیں رکھتی،بلکہ بعض حالات اور حقائق سے وہ ناواقف ہوتی ہے، اور اپنی کم علمی کی بناپر نامناسب فیصلہ لے لیتی ہے ۔اللہ کا معاملہ ایسا قطعی نہیں ہے، بلکہ اس کی تفصیل یعنی ہر فیصلہ اور ہر حکم اس ہستی کی تفصیل ہے جس کے علم نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، اور اس کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے ۔ (السعدی: ۲۹۱)
سوال: آپ اس شخص کی تردید کیسے کریں گے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ شریعت اسلامیہ موجودہ زمانے کے لائق نہیں ہے ؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 55

ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ ٥٥

شریعت کا یہ طے شدہ ضابطہ ہے کہ جو نیک اعمال فرض نہیں ہیں انہیں اعلانیہ طورپرکرنے کے مقابلے میں چھپاکر انجام دینے میں ثواب زیادہ ہے ۔
حسن بن ابو الحسن رحمہ اللہ کہتے ہیں :“ہم نے ایسے لوگوں کو پایا ہے کہ وہ روئے زمین پر کوئی بھی نیک عمل کرتے ،اگرچھپاکر کرنا ان کے بس میں ہوتا تو وہ کبھی بھی اسے ظاہر نہیں کرتے ۔یقیناًوہ مسلمان ایسے تھے کہ دعا کرنے میں خوب محنت کرتے تھے ،لیکن ان کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ۔یہ دعائیں تو بس ان کے اور ان کے رب کے بیچ سرگوشی ہوتی تھیں”۔ (القرطبی: ۹؍۲۴۴۔۲۴۵)
سوال: سرّی (چھپا کر) عبادت کرنا افضل وبہتر ہے یا علانیہ اور دکھاکر؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 55

ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ ٥٥

اللہ تعالیٰ ارشاد فرمارہا ہے کہ : اے لوگو! صرف اپنے اکیلے رب کو پکارو۔ پس !اس کے علاوہ جن معبودوں اور بتوں کو تم پکارتے ہو انہیں چھوڑکر ،دعا کو صرف اسی رب کے لئے خالص کرو۔ کسی اور سے مانگ کر اپنی دعا میں ملاوٹ اور شرک نہ کرو۔ (تَضَرُّعًا) گڑگڑاتے ہوئے،آہ وزاری کرتے ہوئے ۔
فرماتا ہے : عاجزی سے ،نیاز مندی کے ساتھ اور اس کی فرمانبرداری میں جھک کر اسے پکارو۔
(وَ خُفْيَةً) اور چپکے چپکے بھی ۔ آوازبہت اونچی نہ ہو، اورنہ ہی کسی طرح کی ریاکاری ہو۔نیز اہل نفاق اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو دھوکا دینے والوں کے عمل کی طرح یہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ دعاکرتے ہوئے تمہارے دلوں میں اللہ کی وحدانیت اور ربوبیت کا یقین نہ ہو۔ (الطبری: ۱۲؍ ۴۸۵)
سوال: بندۂ مومن کو دعا کی حالت میں کون سی صفات اکٹھا رکھنا چاہئے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 56

وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَا

جو شخص مخلوق کے حالات پر غور وفکرکریگا ،وہ اس حقیقت کو جان لے گاکہ دنیا میں جو بھی بھلائی اور اچھائی ہے اس کا سبب اللہ کی توحید ،اس کی عبادت اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے، اور دنیا کی ہر برائی ،فتنہ وفساد ،مصیبت وبلاء ،قحط وخشک سالی ،دشمن کا مسلط ہونا ،اور دیگر جتنی خرابیاں ہیں سب کا سبب رسول اللہ ﷺ کی مخالفت، اور لوگوں کو اللہ کے علاوہ اوروں کی طرف بلانا،اورشرک کی طرف بلانا ہے ۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۱۷۰)
سوال: دنیا کی ہر اچھائی کا سبب اور ہربرائی کی جڑ کیا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 56

وَٱدۡعُوهُ خَوۡفٗا وَطَمَعًاۚ إِنَّ رَحۡمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٞ مِّنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٥٦

یہ بات اچھی طرح جان لیجئے کہ خوف کے تین درجے ہیں:
1. پہلا درجہ: خوف ایسا کمزور ہو جو دل میں کھٹکتا تو ہو لیکن آدمی کی اندرونی اوربیرونی حالت پر اثر انداز نہ ہوتا ہو۔ تو اس خوف کاہونا نہ ہونے کے برابر ہے۔
2. دوسرا درجہ: خوف مضبوط ہو ،اتنا مضبوط کہ بندے کو غفلت سے بیدار کردے، اور ثابت قدمی پر ابھارے۔
3. اور تیسرا درجہ : خوف اس قدر شدید ہو کہ بندے کو ناامیدی اور مایوسی کی حد تک پہنچادے اور یہ خوف جائز نہیں ہے ۔
یقیناًمیانہ روی یعنی بیچ کا راستہ ہر معاملے میں سب سے بہتر ہے ۔
اسی طرح ڈر،خوف میں لوگوں کے بھی تین مرتبے ہیں:
1۔عام لوگ گناہوں سے ڈرتے ہیں ۔
2۔ خاص لوگ برے خاتمہ سے ڈرتے ہیں۔
3۔ انتہائی خاص لوگ سابقہ (یعنی نیکیوں میں دوسرے نمبر پر ہونے)سے ڈرتے ہیں۔وہ ڈرتے ہیں کہ اعمالِ خیر میں پیچھے نہ رہ جائیں ،نیک کاموں میں پچھڑ نہ جائیں ۔کیونکہ حسنِ خاتمہ اسی پر منحصر ہے ۔(ابن جُزی: ۱؍ ۳۶۰)
سوال: اس آیت میں ذکر کیا گیا خوف ‘کون سا خوف ہے جس کے ذریعہ اللہ کی عبادت کی جاتی ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 56

وَٱدۡعُوهُ خَوۡفٗا وَطَمَعًاۚ إِنَّ رَحۡمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٞ مِّنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٥٦

رَجاء: یعنی امید کے بھی تین درجات ہیں:
أ۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ: اللہ کی رحمت کی آس و آرزو ہو۔لیکن یہ آس اور امید یوں ہی خالی خولی نہ ہو۔ بلکہ امید کے اسباب وذرائع کے ساتھ ہو۔ اور اس کے اسباب ہیں: نیکی اور فرمانبرداری کے کاموں کو کرنا، اور برائی ونافرمانی کے کاموں کو چھوڑدینا، تو یہ قابلِ تعریف اور اچھی امید ہے ۔
ب۔ دوسرا درجہ: کوتاہیاں اور نافرمانیاں کرتے ہوئے امید رکھنا۔ ایسی امید رکھنا خود کو دھوکے میں رکھنا ہے ۔
ج۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ: امید مضبوط ہو ۔اتنی مضبوط کہ حدِ اعتدال سے آگے بڑھ جائے ۔یہاں تک کہ اللہ کے عذاب سے بے خوفی تک پہنچ جائے ۔ تو اس درجے کی امید حرام ہے ۔
نیز لوگ امید ورجاء کے معاملے میں بھی تین مرتبے کے ہوتے ہیں:
1۔ عوام کا مقام ہے:اللہ کے ثواب کی امید رکھنا۔
2۔ خاص لوگوں کا مقام ہے :اللہ کی رضا وخوشنودی کا امیدوار ہونا۔
3۔ انتہائی خاص لوگوں کا مقام ہے:اللہ سے ملاقات کی امید رکھنا ،جس میں اللہ کی محبت اور اس سے ملنے کا شوق شامل ہو۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۶۰)
سوال: اس آیت میں ذکر کردہ امید کون سی امید ہے جس کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنی چاہئے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 56

إِنَّ رَحۡمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٞ مِّنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٥٦

اللہ کی رحمت سے قریب ہونے میں اہلِ احسان کو خاص کیا گیا ہے کہ خصوصیت کے ساتھ وہی لوگ اللہ کی رحمت سے قریب ہیں جو احسان کرنے والے ہیں۔ کیونکہ یہ اللہ عزوجل کا احسان وکرم ہے جو بذات خود ارحم الراحمین ہے، اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا احسان اہلِ احسان کے لئے ہی ہوتا ہے، اس لئے کہ جزاء عمل کی جنس سے ہوتی ہے، یعنی جس قسم کا عمل ہوتا ہے اسی قسم کا بدلہ ملتا ہے ۔غرض بندے اپنے اعمال میں جتنا احسان کرتے جاتے ہیں بدلے میں اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کے ساتھ اتنا ہی احسان وکرم کرتا جاتا ہے ۔ (ابن تیمیہ: ۱۵؍۲۷)
سوال: اللہ کی رحمت سے قربت ونزدیکی میں اہلِ احسان کو خاص کیوں کیا گیا ہے؟