قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے





٣٨ ٣٨
ﭿ
٣٩ ٣٩



٤٠ ٤٠

٤١ ٤١


٤٢ ٤٢


ﯿ
٤٣ ٤٣
155
سورۃ الأعراف آیات 0 - 38

قَالَ ٱدۡخُلُواْ فِيٓ أُمَمٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِكُم مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ فِي ٱلنَّارِۖ كُلَّمَا دَخَلَتۡ أُمَّةٞ لَّعَنَتۡ أُخۡتَهَاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُواْ فِيهَا جَمِيعٗا قَالَتۡ أُخۡرَىٰهُمۡ لِأُولَىٰهُمۡ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمۡ عَذَابٗا ضِعۡفٗا مِّنَ ٱلنَّارِۖ قَالَ لِكُلّٖ ضِعۡفٞ وَلَٰكِن لَّا تَعۡلَمُونَ ٣٨

اللہ تعالیٰ نے مختلف امتوں کے سرداروں اور ان کے پیروکاروں کے بیچ آخرت میں ہونے والی بات چیت اور تکرار کو بیان کیا ہے ۔اس میں مسلمان قائدین اوررہنماؤں کے لئے نصیحت اور سبق ہے ۔ساتھ ہی ان کے لئے اس بات سے تنبیہ اور ڈراوا بھی ہے کہ وہ اپنے پیچھے چلنے والوں کو ایسے کاموں میں لگادیں جو انہیں گمراہی کی کھائی میں گرادیں، اور ان کی خواہشات اور من مانی چیزوں کو حسین بناکر پیش کریں۔
اسی طرح آخرت اور جہنم کی اس بحث وتکرار میں عام مسلمانوں کے لئے بھی وعظ ونصیحت ہے کہ ہر اس شخص کی تائید میں پسیج نہ جائیں اور نہ ہی نرم پڑجائیں جو اُن کی خواہشاتِ نفس اورمن مانیوں کی موافقت کرے،مگر ان تک نصیحت کی باتیں پہنچنے نہ دے۔ (ابن عاشور: ۸؍۱۲۵)

سوال: آیت کریمہ میں سرداروں اور ان کے پیروکاروں کے بیچ ہونے والی بحث وتکرار کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اس بیان اور حکایت سے کیا سبق ملتا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 38

قَالَ لِكُلّٖ ضِعۡفٞ وَلَٰكِن لَّا تَعۡلَمُونَ ٣٨

مطلب یہ ہے کہ جہنم میں بحث وتکرار کرنے والے دونوں گروہوں میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہوگا کہ دوسرے گروہ کا عذاب کس درجہ کا ہے اور ان کی حالت کتنی ابتر اور سنگین ہے ۔کیونکہ کسی جہنمی کو اگر یہ معلوم ہوجائے کہ دوسرے کا عذاب اس کے اپنے عذاب سے بڑھ کر ہے تو یہ چیز اس کے لئے ایک طرح کی تسلی ہوگی۔ (القرطبی: ۹؍۲۲۲)
سوال: اللہ تعالیٰ اہل جہنم سے ایک دوسرے کے عذاب کو چھپاکر (مخفی) کیوں رکھے گا؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 40

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسۡتَكۡبَرُواْ عَنۡهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمۡ أَبۡوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلۡجَمَلُ فِي سَمِّ ٱلۡخِيَاطِۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُجۡرِمِينَ ٤٠

آیت کے مضمون ومعنیٰ کا مخالف مفہوم یہ ہے کہ مومنوں کی روحیں جو اللہ کے حکم کی فرمانبردار وتابعدار ہوتی ہیں ،اس کی آیتوں کی تصدیق کرنے والی ہیں،ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئے جائیں گے، یہاں تک کہ یہ روحیں اوپر چڑھتی جائیں گی، اور عالمِ بالامیں اس مقام اور درجے تک پہنچیں گی جس درجے تک اللہ چاہیگا، اور اپنے مالک کی نزدیکی اور اس کی رضا وخوشنودی کی سعادت پاکر لطف اندوز ہوں گی۔ (السعدی: ۲۸۸)
سوال: اس آگاہی اور خبر سے کہ کافروں کی روحوں کے لئے آسمان کے دروازے بند ہوتے ہیں ،آپ کیا فائدہ بیان کریں گے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 41

لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٞ وَمِن فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٖۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلظَّٰلِمِينَ ٤١

(لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٞ) ان کے لئے جہنم کی آگ بچھونا ہوگا۔ (مِهَادٞ) سے مراد فراش یعنی بستر ،بچھونا۔
(وَمِن فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٖۚ) اور ان کا اوڑھنا بھی اسی جہنم کی آگ کا ہوگا۔(غَوَاشٖۚ)یہ غَاشِيَۃٌ کی جمع ہے ،اس سے مراد لحاف یا اوڑھنے کی چادر ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ان پر چھائی ہوئی ہوگی اور انہیں ڈھانپے ہوئے ہوگی۔چنانچہ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جہنم کی آگ انہیں ہر طرف سے گھیرے رہے گی۔(البغوی: ۲؍۱۰۳)
سوال: آدمی جس طرح دنیا میں حرام طریقے سے حاصل کی ہوئی نعمتیں استعمال کرکے اپنے پورے جسم کو لذت اور فائدہ دیتا ہے ،اسی طرح قیامت کے روز عذاب بھی اس کے پورے جسم کے لئے عام ہوگا۔ اسے واضح کیجئے۔

سورۃ الأعراف آیات 0 - 42

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَآ

(وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے۔ یعنی :ان کے دلوں نے ایمان قبول کیا اور اعضاء وجوارح نے اچھے اعمال کئے۔برعکس ان لوگوں کے جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار اور کفر کیا، اور ان سے گھمنڈ کرتے ہوئے اعراض کیا۔ساتھ ہی یہاں اللہ تعالیٰ اس حقیقت سے آگاہ فرمارہا ہے کہ ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا آسان ہے۔ اسی لئے اس نے فرمایا: (لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَآ) ہم ہر شخص کو اتنا ہی پابند بناتے ہیں جتنی اس کی طاقت ہو ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۰۵)
سوال: ایمان اور ہدایت کی راہ میں رکاوٹ بننے والی چیز یہ نہیں ہے کہ یہ دونوں مشکل اور پرمشقت ہیں ۔ آیت کی مدد سے اس بات کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 43

وَنَزَعۡنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنۡ غِلّٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمُ ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ہم نے یہ جن اہل ایمان کے اوصاف بیان کئے ہیں اور بتایا ہے کہ یہ جنتی لوگ ہیں،دنیا میں ان کے اندر ایک دوسرے کے خلاف جو کینہ تھا ،جو رنجش اور دشمنی تھی ،وہ سب ہم ان کے سینوں سے ختم کردیں گے۔ اب جب وہ جنت میں جائیں گے تو ان کی یہ تصویر ہوگی کہ بھائی بھائی بن کرایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔اللہ نے اگر کسی جنتی کو کسی خاص نعمت سے نوازا ہوگا، اور اپنی مہربانی اور کرم سے اسے دوسرے پر فضیلت عطا کی ہوگی تو ایسی کسی بھی چیز پر کوئی جنتی دوسرے کے لئے اپنے دل میں حسد نہیں رکھے گا ۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ (الطبری: ۱۲؍۴۳۷)
سوال:“کینہ اور حسد کوچھوڑدینے میں ہی انسان کی سعادت وبھلائی ہے ”۔آیت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کریں.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 43

وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي هَدَىٰنَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡلَآ أَنۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُۖ

جو شخص نیکیاں کرتا ہے تو جس وقت وہ عمل کررہا ہوتا ہے،اس وقت اس کااچھا کام کرنا بذات خود اللہ کے فضل واحسان کی وجہ سے ہوتا ہے کہ اس نے بندے پر ہدایت اور ایمان کی توفیق دے کر اپنا فضل وکرم کیا ۔لہذا اس کے فضل واحسان کی بدولت ہی وہ بھلے کام کرنے والا بنا۔ اس بات کو اہل جنت ان الفاظ میں بیان کریں گے: (ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي هَدَىٰنَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡلَآ أَنۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُۖ ) تعریف اور شکر تو اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں یہ راہ دکھائی، اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا تو ہم کبھی یہ راہ نہ پاتے اور یہاں نہ پہنچتے۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۱۶۲)
سوال:بھلے کام کرنا یہ اللہ ہی کا احسان ہے ۔ آیت کریمہ کی روشنی میں اس حقیقت کو بیان کیجئے.