قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٣١ ٣١



٣٢ ٣٢


٣٣ ٣٣


٣٤ ٣٤

٣٥ ٣٥


٣٦ ٣٦

ﯿ

٣٧ ٣٧
154
سورۃ الأعراف آیات 0 - 31

يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٖ وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ ٣١

اس آیت کی تفسیر میں ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ یہاں زینت سے مراد وہ زینت ہے جو عام لباس اور سترپوشی سے زائد ہوتی ہے، جیسے جمعہ کے لئے اچھے سے اچھا لباس پہن کر ،مسواک کرکے، اور خوشبولگاکر زیب وزینت اختیار کرنا۔
(وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ) اور کھاؤ،پیو مگر حد سے نہ گذر جاؤ۔یقیناًاللہ حدسے آگے نکل جانے والوں کوپسند نہیں کرتا۔
یعنی : کھانے میں اعتدال سے کام لو۔ جتنی ضرورت ہو اس سے زیادہ مت کھاؤ۔
اطباء کا کہنا ہے کہ :اس آیت کریمہ (وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ) میں پوری کی پوری طب یعنی علاج معالجے کا علم اور اس کی تفصیل سمیٹ دی گئی ہے ۔
(ابن جزی: ۱؍۳۰۰)
سوال: اس آیت نے جسم ودل دونوں کی اصلاح کے نسخے کوسمیٹ لیا ہے ۔ اس بات کی وضاحت کیجئ.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 32

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِيٓ أَخۡرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَٰتِ مِنَ ٱلرِّزۡقِۚ قُلۡ هِيَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا خَالِصَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٣٢

یہ اللہ کی طرف سے بندوں کو کشادگی اورچھوٹ دی گئی ہے کہ پاکیزہ چیزوں میں سے جو چاہیں استعمال کریں ۔ اللہ نے یہ سہولت اس لئے دی ہے تاکہ بندے اس کے ذریعہ اس کی عبادت میں مدد لیں۔چنانچہ اسے صرف اپنے مومن بندوں کے لئے جائز ومباح کیا ہے اور اسی لئے فرمایا ہے: (قُلۡ هِيَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا خَالِصَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ)آپ کہہ دیجئے کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ان لوگوں کے لئے ہیں جو ایمان لائے، اور قیامت کے دن تو خالصۃً یعنی صرف اور صرف انہی کے لئے ہوں گی۔
یعنی: ان نعمتوں کے بارے میں ان پر کوئی تاوان یا بدلہ عائد نہیں ہوگا۔اور آیت کے معنی کا مفہومِ مخالف یہ ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے بلکہ اللہ کی دی ہوئی ان نعمتوں اور پاکیزہ چیزوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد لیتے ہیں تو یہ نعمتیں نہ ان کے لئے خالص اور نہ خاص ہیں اور نہ ہی جائز ومباح، بلکہ ان سے لطف ولذت اٹھانے پر ان کو سزا دی جائیگی، اور قیامت کے دن نعمتوں کے بارے میں ان سے باز پرس ہوگی ۔ (السعدی: ۲۸۷)
سوال: مومنوں کے لئے (وَٱلطَّيِّبَٰتِ) یعنی پاکیزہ چیزوں کو حلال کرنے کی کیا حکمت ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 32

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِيٓ أَخۡرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَٰتِ مِنَ ٱلرِّزۡقِۚ قُلۡ هِيَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا خَالِصَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٣٢

آیت میں دلیل ہے کہ محفلوں میں،تقریبات میں ،تہواروں کے موقع پر،لوگوں سے ملاقات کے وقت اور دوستوں ،بھائیوں کی زیارت کی مناسبت سے اونچے اور اعلیٰ قسم کے لباس پہن کر آراستہ ہوسکتے ہیں۔ (القرطبی: ۹؍۲۰۳)
سوال: اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسندفرماتا ہے ۔اس بات کو آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 32

قُلۡ هِيَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا خَالِصَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ

قیامت کے دن مومنوں کو یہ نعمتیں اس طرح خالص اور بے میل ملیں گی کہ اس میں کوئی ناپسندیدہ اور مزہ خراب کرنے والی چیز ہوگی نہ غم اور فکر ہوں گے۔ جبکہ دنیا میں انہیں یہ نعمتیں بہت سی ناپسندیدہ چیزوں، آلودگیوں،کدورتوں اور غموں کے ساتھ ملتی ہیں۔ (البغوی: ۲؍۱۰۰)
سوال: “متاعِ حَسن” یعنی لذت کے سامان اور اچھی چیزیں قیامت کے روز مومنوں کے لئے کس طرح خالص ہوں گی؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 33

كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٣٢ قُلۡ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ

(كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ) ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں۔
یعنی انہیں اچھی طرح واضح کردیتے ہیں اور آیتوں کو کھول کھول کر بیان کردیتے ہیں۔ (لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ)ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔
اس لئے کہ اللہ نے جن آیتوں کو وضاحت اور تفصیل کے ساتھ پیش فرمادیا ہے ،ان سے یہی علم والے فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہی لوگ یہ علم اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ آیتیں اللہ کی طرف سے ہیں، لہذا ان میں سنجیدگی سے غور وفکر کرتے ہیں اور اچھی طرح سمجھتے بوجھتے ہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان حرام چیزوں کا ذکر فرمایا ہے جنہیں اس نے تمام شریعتوں میں حرام قراد دیا ہے ،چنانچہ فرمایا: (قُلۡ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ) آپ کہہ دیجئے کہ :میرے رب نے جو حرام کیا ہے وہ تو یہ ہیں:بے حیائی کے کام جو کھلے ہوں اور جو چھپے ہوں۔فواحش سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کی برائی اور خرابی ظاہر ہو، اسی وجہ سے انہیں بہت برا اور قبیح (گھناؤنا اور معیوب)سمجھاجاتا ہے جیسے زناکاری اور عمل قوم لوط (اغلام بازی) وغیرہ۔ (السعدی: ۲۸۷)
سوال: آیتوں کو تفصیل سے اور صاف صاف بیان کرنے کی بات علم وسمجھ رکھنے والوں کے ساتھ خاص کیوں کی گئی ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 33

قُلۡ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلۡإِثۡمَ وَٱلۡبَغۡيَ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَأَن تُشۡرِكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗا وَأَن تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٣٣

حرام چیزوں کی بنیادیں اوراصول یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (قُلۡ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلۡإِثۡمَ وَٱلۡبَغۡيَ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَأَن تُشۡرِكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗا وَأَن تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ) آپ ان سے کہئے میرے رب نے جو کچھ حرام ٹھہرایا ہے وہ تو یہ ہیں: بے حیائی کے کام ،ان میں سے جو کھلے ہوں اور جو چھپے ہوں،گناہ کے کام ،ناحق ظلم وزیادتی، اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نہیں اتاری ،نیز یہ کہ تم اللہ کے ذمہ ایسی بات کہوجس کا تمہیں علم نہیں۔
آیت میں ذکر کردہ یہ چیزیں حرام چیزوں کی جڑاور اصل ہیں۔ جن کے حرام ہونے پر تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعتیں متفق ہیں۔(ابن تیمیہ: ۳؍۱۵۷)
سوال: آیت کریمہ کے مطابق “اصول محرمات” یعنی حرام چیزوں کی بنیادیں کون کون سی چیزیں ہیں؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 33

قُلۡ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ

چیزوں میں برائی اور اچھائی کا معیار شریعت ہے ۔شریعت کی رو سے ہی یہ بات معلوم ہوگی کہ کون سی چیز بری ہے اور کون سی اچھی۔بالکل یہی معاملہ فحش چیز یعنی بے حیائی کا ہے کہ اس کے بارے میں شریعت کا فیصلہ ہی لیا جائیگا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہاں جو(ٱلۡفَوَٰحِشَ) کہا ہے تو اس میں یہی اشارہ ہے کہ فواحش سے مراد وہی چیزیں ہیں جن کا حرام ہونا شریعت نے دوسری جگہوں پر صاف صاف بیان کردیا ہے ۔
خلاصہ یہ ہوا کہ ہر وہ چیز جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے وہ فحش چیزہے، گرچہ عقل اسے برا نہ سمجھے۔ جیسے مردوں کے لئے ریشم کا کپڑا پہننا،اور سونا استعمال کرنا وغیرہ۔(ابن عطیہ۲؍۳۹۵)
سوال:حلال اور حرام ٹھہرانے میں اثر انداز ہونے والی اچھائی اور برائی کا پیمانہ کیا ہے؟