قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٢٣ ٢٣

٢٤ ٢٤

٢٥ ٢٥

ﭿ
٢٦ ٢٦




٢٧ ٢٧


٢٨ ٢٨

٢٩ ٢٩

ﯿ
٣٠ ٣٠
153
سورۃ الأعراف آیات 0 - 23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٢٣

بعض بزرگوں نے کہا کہ :دولوگوں نے گناہ کا ارتکاب کیا:آدم علیہ السلام نے اور ابلیس نے ۔ آدم علیہ السلام نے تو اپنے گناہ سے توبہ کرلی چنانچہ اللہ نے نہ صرف ان کی توبہ قبول کی بلکہ انہیں نبوت کے لئے چن لیا اورہدایت سے نواز دیا ۔جبکہ ابلیس گناہ کرکے اڑ گیا اور تقدیر کے ذریعہ اپنے گناہ کے جواز میں حجت پیش کی ۔لہذا اب جو شخص اپنے گناہ سے توبہ کرتا ہے ،وہ اپنے باپ آدم علیہ السلام کی مشابہت اختیار کرتا ہے، اور جوکوئی گناہ پر اڑ جاتا ہے اور اس پر تقدیر کو دلیل بناتا ہے وہ ابلیس کے جیسا ہے ۔(ابن تیمیہ: ۳؍ ۱۴۲)
سوال:گناہ کافوراً اعتراف کرلینا اور اس پر معافی مانگ لینافضیلت والا عمل ہے ۔آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٢٣

مغفرت کا مطلب ہے برائیوں کو مٹانااور رحمت سے مراد ہے بھلائیوں کو اتارنا۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۱۴۲)
سوال: آیت کریمہ میں مذکور مغفرت اور رحمت کے درمیان کیا فرق ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٢٣

گناہوں کے سرزد ہوجانے کے بعد جو شخص حضرت آدم علیہ السلام کی طرح گناہ کا اعتراف کرلے ، مغفرت طلب کرے، نادم و شرمندہ ہواور گناہ سے دامن جھٹک کر باز آجائے تو نتیجے میں اللہ تعالیٰ اسے چن لیتا ہے او ر ہدایت سے نواز کر سیدھے راستے پر ڈال دیتا ہے ۔ لیکن گناہ کا ارتکاب کرلینے کے بعد جو شخص ابلیس کے جیسا طور طریقہ اپناتا ہے وہ نافرمانیوں میں بڑھتا چلاجاتا ہے ،گناہ پر گناہ کرتا جاتا ہے تو ایسے شخص کو اللہ سے دوری میں اضافہ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ (السعدی: ۲۸۵)
سوال: گناہ میں پڑجانے والے شخص کے لئے آدم علیہ السلام اور ابلیس کے قصے میں بہت بڑا سبق ہے ۔وہ کیا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 26

وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٰلِكَ خَيۡرٞۚ

تقوے کا لباس حسی اور ظاہری لباس سے بہت بہتر ہے ۔اس لئے کہ تقوے کا لباس بندے کے ساتھ ہمیشہ اور ہر وقت رہتا ہے جو نہ پرانا اور بوسیدہ ہوتا ہے اور نہ برباد ہوتا ہے ۔نیز یہ لباسِ تقویٰ قلب وروح کی زینت اور خوبصورتی ہے۔ رہا ظاہری لباس تو اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ یہ ہے کہ یہ ظاہری وجسمانی ستر ڈھانپتا ہے وہ بھی ہمیشہ نہیں ، صرف محدود مدت اور کچھ وقت تک۔یا پھر یہ لباس انسان کے لئے خوبصورتی کا ذریعہ بنتا ہے اس سے ہٹ کر اس لباس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ (السعدی: ۲۸۶)
سوال: تقوے کا لباس ظاہری لباس سے بہتر کیوں ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 27

إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمۡ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡۗ

مالک بن دینار رحمہ اﷲ کہتے ہیں کہ :یقیناًوہ دشمن جو تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم اسے نہیں دیکھ سکتے ،اس کی لڑائی ،حملہ اور وار بہت ہی سخت ہوں گے۔ سوائے اس کے جسے اللہ محفوظ رکھے۔ (البغوی: ۲؍۹۷)
سوال: اس دشمن کا خطرہ بیان کیجئے جو آپ کو دیکھ رہا ہے لیکن آپ اسے نہیں دیکھ پاتے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 27

إِنَّا جَعَلۡنَا ٱلشَّيَٰطِينَ أَوۡلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ ٢٧

یعنی: ان بے ایمان لوگوں کی سزا میں زیادتی کے طور پرہم نے حق سے دور ہونے میں ان کے درمیان برابری کردی، یعنی: انہیں اور شیاطین کو ایک جیسا بنادیا۔ (القرطبی: ۹؍۳۹۳)
سوال: شیطانوں کے دوست اور رفیق کون لوگ ہیں؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 30

إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُواْ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُم مُّهۡتَدُونَ ٣٠

آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہدایت اللہ کے فضل واحسان سے ملتی ہے ۔ اور گمراہی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد چھوڑدے۔اور اللہ تعالیٰ بندے کو اپنی مدد اور توفیقِ ہدایت سے اس وقت محروم کرتا ہے جب بندہ اپنی جہالت اور ظلم کی بناپر شیطان سے دوستی گانٹھ لیتا ہے، اور اپنی ذات کے لئے خود ہی گمراہی کا سبب بنتاہے۔ اور جو شخص گمراہ ہوتے ہوئے خود کوہدایت یاب سمجھے تو اس کے لئے کوئی عذر نہیں ہوگا۔ (السعدی: ۲۸۷)
سوال:اکثر گمراہ اور بدعتی لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ،تو کیا یہ یقین انہیں فائدہ دیگا؟