قرآن
ﮓ
ﱀ
ﮓ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٢ ٢ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
٣ ٣ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ٤ ٤ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ٥ ٥ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ٦ ٦ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ٧ ٧
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ٨ ٨ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ٩ ٩ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
١٠ ١٠ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ١١ ١١
الٓمٓصٓ ١ كِتَٰبٌ أُنزِلَ إِلَيۡكَ فَلَا يَكُن فِي صَدۡرِكَ حَرَجٞ مِّنۡهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ ٢
قرآن کی مختلف سورتوں کے آغاز میں حروف مقطّعات آئے ہیں، جیسے یہاں(الٓمٓصٓ)ہے۔ایسی ہر جگہ ان حروف کے بعد یا تو قرآن کا ذکر کیا گیا ہے یا وحی کا،یا پھر ان دونوں کی ہم معنی چیز کا ذکر آیا ہے ،اس بنیاد پر یہ قول راجح معلوم ہوتا ہے کہ ان حروفِ تہجی کا مقصد ہے : اہل عرب کو چیلنج دینا اور کھلا اعلان کرنا کہ تم قرآن کے جیسا کلام کبھی نہیں لاسکتے ۔ (ابن عاشور: ۸؍۱۰)
سوال: قرآن میں حروف مقطعات کے بعد زیادہ تر(كِتَٰبٌ)یعنی قرآن کا ذکر کیوں آتا ہے؟
ٱتَّبِعُواْ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡ وَلَا تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَۗ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ ٣
آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نص یعنی قرآن وحدیث کی واضح دلیل کی موجودگی میں لوگوں کی رائے اور قیاس کی اتباع چھوڑ دینی چاہئے ۔یعنی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے سامنے کسی کا قول قبول یا اختیار نہیں کرنا چاہئے۔(القرطبی: ۹؍۱۵۱)
سوال: لوگوں کے افکار اور آراء کی وجہ سے دلیل یعنی قرآن وحدیث کو چھوڑدینے والے کے لئے قرآن کی کیارہنمائی ہے؟
وَكَم مِّن قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَا فَجَآءَهَا بَأۡسُنَا بَيَٰتًا أَوۡهُمۡ قَآئِلُونَ ٤
یعنی: ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ کے فیصلہ ،اس کے سخت عذاب اور انتقامی سزا نے انہیں (بَيَٰتًا) رات کے وقت آدبوچا۔ (أَوۡ هُمۡ قَآئِلُون) یا اس حالت میں جبکہ وہ دوپہر کے وقت آرام میں تھے ۔ (قَآئِلُون) قیلولہ سے بنا ہے ،جس کے معنی ہیں: دن کے درمیانی حصے یعنی دوپہر کے وقت آرام کرنا۔عذابِ الٰہی آنے کے یہ دونوں اوقات غفلت وبے خبری کے وقت ہیں۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۱۹۲)
سوال: رات اور دوپہر کے دو وقت عذاب نازل ہونے کے لئے خاص کیوں کئے گئے؟
فَمَا كَانَ دَعۡوَىٰهُمۡ إِذۡ جَآءَهُم بَأۡسُنَآ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ ٥
ان کاجھٹلانا ظلم قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے کہ یہ ایسی چیز کوجھٹلاناتھا جس کے سچ ہونے پر بہت سے ثبوت موجود تھے اور دلیلیں قائم ہوچکی تھیں، لہذا ایسے سچ کو جھٹلانا سچائی کی دلیلوں پر ظلم ہے ۔ (ابن عاشور: ۸؍۳۲)
سوال: جس چیز کی سچائی پر دلائل آچکے ہوں ،ایسی چیز کو جھٹلانا ظلم کی ایک قسم ہے ۔اس کی وضاحت کیجئے.
فَلَنَسۡـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرۡسِلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَنَسۡـَٔلَنَّ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٦
اہل علم یعنی اہل کتاب و سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کوئی بھی شخصیت ہو ،اس کے قول کو لیا بھی جاسکتا ہے اور چھوڑا بھی جاسکتا ہے ۔صرف رسول اللہﷺ کا معاملہ اور حیثیت اس قاعدے سے الگ اور مستثنیٰ ہے، کیونکہ آپﷺ کی بیان کردہ ہر خبر کو سچ ماننااور آپ کا ہر حکم بجالاناواجب اورضروری ہے ۔ اس لئے کہ آپﷺ ایسے معصوم تھے جو اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کہتے۔ ان کی کہی ہوئی ہر بات وحی ہوتی ہے جو اُن پر اتاری جاتی ہے، اور آپ ﷺ ہی ایسی شخصیت ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن لوگوں سے سوال اور پوچھ تاچھ ہوگی ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (فَلَنَسۡـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرۡسِلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَنَسۡـَٔلَنَّ ٱلۡمُرۡسَلِينَ) پھر ہم ان لوگوں سے ضرور باز پرس اور پوچھ تاچھ کریں گے جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے تھے، اور ہم پیغمبروں سے بھی ضرور پوچھیں گے ۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۱۳۷)
سوال: ناپسندیدہ تعصب کا ایک علاج اس بات کا علم اور یقین ہے کہ “رسول اللہ ﷺکے سوا ہر شخص کی بات مانی بھی جاسکتی ہے اور چھوڑی بھی”،اس حقیقت کی وضاحت کیجئے.
وَٱلۡوَزۡنُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّۚ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٨
اگر آپ یہ اعتراض یا سوال کریں کہ : اللہ عزوجل بندوں کے اعمال کی مقدار اور وزن سے پوری طرح واقف ہے۔تو پھر ان اعمال کوتولنے میں کیا حکمت ہے؟ تو میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ :اس میں کئی حکمتیں ہیں: ایک مقصد ہے عدل وانصاف کا اظہار کرنا کہ اللہ عزوجل اپنے بندوں پر ظلم قطعی نہیں کرتا۔اسی طرح ایک حکمت یہ بھی ہے کہ بندوں کو ان کے خیر وشر اور بھلائی وبرائی سے آگاہ کردینا وغیرہ۔ (القاسمی: ۱؍ ۲۹۷)
سوال: اعمال وزن کرنے کی کیا حکمت ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں پوری جانکاری رکھتا ہے؟
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنَٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ لَمۡ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ ١١
اللہ تعالیٰ اس مقام پر آدم علیہ السلام کے بیٹوں ۔انسانوں۔کو ان کے باپ آدم علیہ السلام کے شرف وعزت سے آگاہ کررہا ہے ،نیز ان کے دشمن ابلیس کی دشمنی کو اجاگر کررہا ہے ،ساتھ ہی یہ بھی بیان کررہا ہے کہ یہ دشمن ان کے اور ان کے باپ کے حق میں کس قدر حسد میں مبتلا ہے،تاکہ وہ اس سے ہوشیار وخبردار رہیں، اور اس کے طور طریقوں کی پیروی نہ کریں۔ (ابن کثیر: ۲؍۲۹۳)
سوال:ابلیس نے انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا تھا۔مسلمانوں کو اس بات سے کیا سبق ملتا ہے؟