قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




١٥٢ ١٥٢

ﭿ

١٥٣ ١٥٣


١٥٤ ١٥٤

١٥٥ ١٥٥


١٥٦ ١٥٦



١٥٧ ١٥٧
149
سورۃ الأنعام آیات 0 - 152

وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُۥۚ

یعنی: ایسا طریقہ اختیار کرو جس سے یتیم کے مال میں بہتری اور زیادتی ہو ۔یہ چیز اس کے اصل سرمائے اور پونجی کی حفاظت اور اس کے منافع اور فائدے کو بڑھانے کے ذریعہ ہوسکتی ہے ۔ (القرطبی: ۹؍۱۱۱)
سوال: یتیم کے مال کی بہتری اور اصلاح کیسے ہوسکتی ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 152

وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُۥۚ

یہاں مال کی حفاظت میں یتیم کے حق کوخاص طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ: سرپرست اور ذمہ دار کی جانب سے اس کے حق میں ظلم وزیادتی کا امکان ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ عام طور سے یتیم کی حمایت کرنے والا اور اس کی طرف سے دفاع کرنے والا موجود نہیں ہوتا۔ (ابن عاشور: ۸؍۱۶۴)
سوال:آیت کریمہ میں یتیم کے مال کی حفاظت کا حق خصوصیت سے ذکر کرنے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 152

وَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۖ

یعنی: ہم آدمی کو اتنا ہی مکلف اور پابند بناتے ہیں جتنی اس کی طاقت ہو ،اس چیز کا مکلف نہیں بناتے جو اسے تنگی اور دشواری میں ڈال دے یا جو اس کے بس سے باہر ہو ۔اب جو کوئی ناپ تول کو مکمل کرنے کی پوری کوشش کرے‘پھر بھی اس سے کوئی کمی ہوجائے جس میں اس کی اپنی کوتاہی اور جان بوجھ کر غلطی نہ ہوئی ہو تو اللہ معاف کرنے والا ،بہت بخشنے والا ہے۔ (السعدی: ۲۸۰)
سوال: ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دینے کے بعد یہ ذکر کیوں کیا گیا کہ کسی شخص کو اس کی طاقت وسکت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایا جاتا؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 153

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِي مُسۡتَقِيمٗا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِيلِهِۦۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٥٣

(ٱلسُّبُلَ) (غلط راستے) کا معنی عام ہے ۔اس میں یہودیت ،نصرانیت ،مجوسیت اسلام کے علاوہ دیگرتمام دین وملت والے ،اسی طرح اہل بدعات وضلالت جو خواہشات کی پیروی کرنے والے اور فروعی احکام ومسائل میں شذوذ اور اہلِ حق سے علیحدگی ومخالفت اختیار کرنے والے اور ان کے علاوہ بحث وجدال میں باریک بینی اور بال کی کھال اتارنے والے نیز علم کلام میں غور وخوض کرنے والے اور اس میں عقلی گھوڑے دوڑانے والے سب شامل ہیں۔ یہ سب کے سب راستے۔ ادیان ومذاہب اور مسالک۔ غلطیوں اور ٹھوکروں کی زد میں ہیں اور عقیدے کی خرابی کے خطرے میں ہیں۔ (القرطبی: ۹؍۱۱۷)
سوال: وہ راستے کیا ہیں جن کی اتباع کرنے سے اللہ نے ہمیں ڈرایا ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 153

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِي مُسۡتَقِيمٗا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِيلِهِۦۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٥٣

(وَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلسُّبُلَ) اور دوسری راہوں پر نہ چلو۔ یعنی: الگ الگ دین کے راستے جیسے یہودیت ،نصرانیت اور ان کے علاوہ دوسرے باطل ادیان ومذاہب۔ اس میں بدعتیں اور گمراہ کن خواہشات بھی داخل ہیں ۔اور حدیث میں ہے کہ “نبی ﷺ نے ایک لکیر بنائی پھر فرمایا: “هٰذَا سَبِیْلُ اﷲ”یہ اللہ کا راستہ ہے۔ پھر اس لکیر کے دائیں اور بائیں جانب کچھ لکیریں کھینچیں،اس کے بعد فرمایا: “هٰذِهٖ كُلُّهَا سُبُلٌ عَلٰی کُلِّ سَبِیْلٍ مِنْہَا شَیْطَانٌ یَدْعُواِلَیْہِ”یہ سب الگ الگ راستے ہیں،ان میں سے ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو اسی کی طرف بلاتا ہے۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۲۹۲)
سوال: اہل سنت کے منہج کے مخالف بعض فرقوں کی طرف نسبت کرنا اور اس کی یہ دلیل دینا کہ اس فرقے میں کچھ خیر وبھلائی بھی ہے۔یہ آپ کی رائے میں کیسا ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 153

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِي مُسۡتَقِيمٗا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِيلِهِۦۚ

اللہ نے اپنے راستے کو واحدکے لفظ سے ذکر کیا ہے اس لئے کہ حق ایک ہی ہے ،جبکہ اس کے برخلاف دوسری راہوں کو ( السُّبُلَ) جمع کے لفظ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ان کے بہت سے فرقے اور گروہ ہیں ۔جدا جد ا،الگ الگ راستے ہیں۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۱۸۲)
سوال: اللہ کا راستہ مفرد اور غیر اللہ کے راستوں کے لئے جمع کا صیغہ کیوں آیا ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 155

وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ مُبَارَكٞ

اس قرآن سے بہت سی برکتیں اور بھلائیاں حاصل کی جاتی ہیں ،کوئی خیر وبھلائی ایسی نہیں ہے جس کی طرف اس کتاب نے دعوت نہ دی ہو اور اس کی ترغیب نہ دی ہو۔ اور ہر بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بھی بیان کی ہیں جو لوگوں کو بھلائیاں کرنے پر ابھارتی ہیں ۔اسی طرح کوئی بھی شر اور برائی ہو اس کتاب نے اس سے ضرور روکا ہے ،ڈرایا ہے ،اس پر عمل کرنے سے نفرت دلانے والے اسباب اور اس کے تباہ کن انجام کو بھی بیان کردیا ہے۔ (السعدی: ۲۸۱)
سوال:یہ کتاب( یعنی قرآن کریم) برکتوں کی حامل اور بھلائیوں پر مشتمل ہے ۔ان برکتوں کی کیا شکلیں ہیں؟