قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٤٣ ١٤٣



ﭿ

١٤٤ ١٤٤




١٤٥ ١٤٥



ﯿ ١٤٦ ١٤٦
147
سورۃ الأنعام آیات 0 - 144

أَمۡ كُنتُمۡ شُهَدَآءَ إِذۡ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَٰذَاۚ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٤٤

(أَمۡ كُنتُمۡ شُهَدَآءَ)کیا تم حاضر تھے! یعنی کیا تم اللہ کے پاس موجود تھے جب اس نے اسے حرام قراردیا؟
اب جب ان پر یہ بات لازم ٹھہری کہ وہ اپنے دعوے کی دلیل اور حجت پیش کریں تو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے او ر کہنے لگے کہ :اللہ نے ایسا حکم دیا ہے، اللہ نے ایسا ہی حکم دیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ) پھر بتلاؤ! اس آدمی سے زیادہ ظلم کرنے والا کون ہوگا جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کسی دلیل اور علم کے بغیر اللہ پر جھوٹ بات باندھے ۔ اس طرح اللہ نے صاف صاف بیان کردیا کہ وہ اپنے دعوے اور بات میں جھوٹے ہیں کیونکہ انہوں نے ایسی بات کہی ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ (القرطبی: ۹؍۷۹)
سوال: ہر وہ شخص جو کسی حکم شرعی یا مسئلے یا نئے پیش آنے والے معاملے میں بات کرنا چاہے ،اس کے لئے کیا واجب ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 144

فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٤٤

اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹ باندھنے کے برے مقصد کو بیان کیا ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر بے مقصد بھی جھوٹ باندھے تو یہ عظیم ظلم ہوگا۔تو پھر ایسا جھوٹ باندھنا کتنا سنگین ظلم ہوگاجس کا مقصد ایک پوری امت کو گمراہ کرنا ہو! (ابن عطیہ: ۲؍ ۳۵۵)
سوال: جھوٹ کے برے سے برے درجات ہیں۔ ان میں سے کون سا جھوٹ سب سے نچلے درجے کا ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 144

فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٤٤

ظلم کی ایک شکل یہ ہے کہ کوئی شخص دین میں ۔علم کے بغیر۔فتویٰ دینے کی جرأت کرے۔ جب تک اسے اس بات کا غالب گمان نہ ہو کہ وہ درست فتویٰ دے سکتا ہے جس پر اللہ راضی ہوگا۔او ر یہ اس وقت ہوگا جب وہ مجتہد ہو۔تب ایسی دلیل کی بنیاد پر فتویٰ دے جس کے متعلق اس کا گمان غالب ہو کہ یہ اللہ کی مراد کے مطابق ہے۔اوراگر وہ مقلد ہے تو اپنے اس غالب گمان کی بنیاد پر فتویٰ دے کہ اس کا فتویٰ اس کے امام کے مذہب کے مطابق ہے جس کی اس نے تقلید کی ہے۔ (ابن عاشور:۸؍۱۳۵)
نوٹ: یہاں قول امام یا مذہبِ امام کی بنیاد پر فتویٰ دینے کا جو ذکر ہے وہ جواز کے لئے ہے یا بیانِ واقعہ کے لئے ہے مکمل واضح نہیں ہے اس کے باوجود یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ بہت سے اہل علم نے یہ صراحت فرمائی ہے کہ جو شخص قرآن یا حدیث کی دلیل جانے بغیر محض اقوال رجال کی بنیاد پر فتویٰ دیتا ہے تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیتا ہے، اس لئے کہ علم قرآن وحدیث اور اجماع کا نام ہے، لہذا وہ بغیر علم کے فتویٰ دینے والوں میں شامل ہوگا۔ (دیکھئے اعلام الموقّعین لابن القیم وغیرہ فی مبحث التقلید۔ مترجم)
سوال: علم کے بغیر فتویٰ دینے کی جرأت کرنا جائز نہیں ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الأنعام آیات 0 - 145

أَوۡ دَمٗا مَّسۡفُوحًا

یہ وہ خون ہے جو ذبح کرنے کے وقت ذبح کئے جانے والے جانورکے گلے سے بہتا ہے ۔اس لئے کہ اس خون کا بدن میں رکا رہنا نقصاندہ ہے لہذا جب یہ خون جانور کے بدن سے بہہ نکلے تو اس کا گوشت کھانے میں ضرر اور نقصان نہیں رہ جاتا۔ (السعدی: ۲۷۷)
سوال: اللہ تعالیٰ نے جانور کو ذبح کرتے وقت اس کا خون بہانے کا حکم کیوں دیا ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 145

أَوۡ دَمٗا مَّسۡفُوحًا

(بہنے والا خون حرام ہے۔) اس لفظ کا مفہوم یعنی مخالف مطلب یہ ہوا کہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں باقی رہ جاتا ہے ،بہہ کر نکلتا نہیں وہ حلال اور پاک ہے۔ (السعدی: ۲۷۷)
سوال: اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے بہنے والے خون کا حکم بیان کردیاکہ وہ حرام ہے۔تو ذبح کے بعد جانور کے جسم واعضاء اور رگوں میں باقی رہ جانے والے خون کا کیا حکم ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 146

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٖۖ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ وَٱلۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُورُهُمَآ أَوِ ٱلۡحَوَايَآ أَوۡ مَا ٱخۡتَلَطَ بِعَظۡمٖۚ ذَٰلِكَ جَزَيۡنَٰهُم بِبَغۡيِهِمۡۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ ١٤٦

یعنی: آیت میں ذکر کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا جانا ان کی سزا کے طور پر تھا (بِبَغْيِهِمْ) یعنی ان کی سرکشی پر۔ اور ان کی سرکشی تھی :انبیاء کرام علیہم السلام کو قتل کرنا،لوگوں کواللہ کے راستے سے روکنا،سود لینا،باطل طریقوں سے لوگوں کا مال ہڑپ کرنا اور اسے جائز سمجھناوغیرہ۔ (البغوی: ۲؍ ۷۵)
سوال: گناہ،گناہ گار کے حق میں بدبختی اور برائی کا سبب ہوتا ہے۔آیت کے تناظرمیں اس بات کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الأنعام آیات 0 - 146

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٖۖ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ وَٱلۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُورُهُمَآ أَوِ ٱلۡحَوَايَآ أَوۡ مَا ٱخۡتَلَطَ بِعَظۡمٖۚ ذَٰلِكَ جَزَيۡنَٰهُم بِبَغۡيِهِمۡۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ ١٤٦

(وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُواْ ) یعنی بطور خاص یہودیوں پر حرام کیا۔ (بِبَغۡيِهِمۡۖ) یعنی ان کے ظلم کے بدلے میں۔ اور وہ ظلم تھا: ان کا انبیاء کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کرنااورسود کھاناجبکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا ۔اسی طرح لوگوں کے اموال باطل وناجائز طریقوں سے کھانا بھی ان کا ظلم تھا،اور یہ یہود جب جب کسی معصیت ونافرمانی کا ارتکاب کرتے تو ان کے لئے حلال کی گئی چیزوں میں سے کسی چیز کو ان پر حرام کرکے انہیں سزا دی جاتی رہی۔ (الألوسی: ۸؍۴۰۵)
سوال:نیک اور صالح لوگوں کو ستانا اور انہیں جان سے ماردینا،ربانی سزاؤں اور قدرتی آفتوں کا پیغام اوراعلان ہے۔اس بات کی وضاحت کیجئے.