قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١١١ ١١١


ﭿ
١١٢ ١١٢

١١٣ ١١٣



١١٤ ١١٤


١١٥ ١١٥

١١٦ ١١٦

١١٧ ١١٧

ﯿ ١١٨ ١١٨
142
سورۃ الأنعام آیات 0 - 112

وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوّٗا شَيَٰطِينَ ٱلۡإِنسِ وَٱلۡجِنِّ يُوحِي بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ زُخۡرُفَ ٱلۡقَوۡلِ غُرُورٗاۚ

قتادہ ،مجاہد اور حسن رحمہم اللہ تینوں حضرات کہتے ہیں:جس طرح جنوں میں شیاطین ہوتے ہیں ویسے ہی انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں۔اور مالک بن دینار رحمہ اللہ نے کہاکہ:انسانوں کے شیاطین جنوں کے شیاطین سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں وہ اس طرح سے کہ میں جب اللہ کی پناہ لیتا ہوں تو شیطان مجھ سے دور بھاگ جاتا ہے لیکن انسانی شیطان میرے پاس آتا ہے اورکھلے عام مجھے گناہوں کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔ (البغوی: ۲؍ ۵۶)
سوال: کیا جنوں کی طرح انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں ؟اور ان میں کس کا خطرہ زیادہ بڑا ہوتا ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 112

يُوحِي بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ زُخۡرُفَ ٱلۡقَوۡلِ غُرُورٗاۚ

یعنی: وہ جن باطل چیزوں کی طرف دعوت دیتے ہیں ،ان چیزوں کو ایک دوسرے کے سامنے سجاسنوارکراور خوبصورت بناکر پیش کرتے ہیں اور وہ اپنی ان باتوں کو خوشنما عبارتوں سے آراستہ کرکے انہیں بہترین شکل وصورت اور دلنشین انداز واسلوب میں ڈھالتے ہیں تاکہ بیوقوف لوگ ان چکنی چپڑی گمراہ کن باتوں سے فریب کھاجائیں، بھولے بھالے لوگ انہیں مان لیں اور ان کے پیچھے چل پڑیں، جو نہ چیزوں کی اصلیت کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ صحیح معنی ومطلب کو جان پاتے ہیں بلکہ انہیں تو بس سنہری الفاظ اور زریں عبارتیں بھاتی ہیں، چنانچہ وہ حق کو باطل سمجھ بیٹھتے ہیں اور باطل کو حق مان لیتے ہیں۔ (السعدی: ۲۶۹۔۲۷۰)
سوال: اہل باطل اپنی باتوں کو سجانے سنوارنے کا اہتمام کیوں کرتے ہیں؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 113

وَلِتَصۡغَىٰٓ إِلَيۡهِ أَفۡـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ وَلِيَرۡضَوۡهُ

اللہ تعالیٰ نے یہ بات بتائی ہے کہ رسولوں کے دشمنوں کی جو باتیں ہوتی ہیں ان کی طرف دھیان دینے والے ،ان کی طرف جھکنے اور مائل ہونے والے لوگ وہی ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ رسولوں کی مخالفت اور آخرت پر ایمان نہ رکھنا دونوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ پس جس کسی کا آخرت پر ایمان ویقین نہیں رہا وہ رسولوں کے دشمنوں کی باتوں میں آگیا اور رسولوں کا مخالف ہوگیا، جیسا کہ اس امت اور دیگر امتوں کے مختلف قسموں کے کفار اور منافقین میں یہ بات پائی جاتی ہے ۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۸۹۔۹۰)
سوال: رسولوں کی مخالفت اور آخرت پر ایمان کو ترک کرنا یہ دونوں لازم وملزوم ہیں ۔اس بات کو بیان کیجئے.

سورۃ الأنعام آیات 0 - 115

وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقٗا وَعَدۡلٗاۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ١١٥

(وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقٗا وَعَدۡلٗاۚ) آپ کے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے۔معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو علم اور انصاف کے ساتھ بھیجا ہے، لہٰذا جو شخص علم اور عدل کے اعتبار سے جتنا کامل ہوگا وہ رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات اور شریعت سے اتنا ہی زیادہ قریب ہوگا۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۳۹)
سوال: وہ کون سی چیزیں ہیں جو رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات سے آپ کے قریب ہونے کا معیار مقرر کرتی ہیں ؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 116

وَإِن تُطِعۡ أَكۡثَرَ مَن فِي ٱلۡأَرۡضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا يَخۡرُصُونَ ١١٦

گمراہ لوگوں کی اس اکثریت کی وجہ یہ ہے کہ حق اور ہدایت کے لئے کئی اوصاف کا ہونا ضروری ہے :عقل سلیم کا ہونا،شریف نفس کا ہونا، نفع و نقصان کی سمجھ کا ہونا،خواہشات نفس پر حق کواور اسی طرح لذت وشہوت پر ہدایت اور سیدھے راستے کو ترجیح دینے کے جذبہ اور جرأت کا ہونا، اور لوگوں کے لئے خیر وبھلائی کو پسند کرنا۔ ان صفات میں سے اگر کسی ایک میں بھی خلل آجائے تو جس قدر ان صفات میں خلل پڑیگا اسی کے مطابق آدمی کے اندر گمراہی کو راستہ ملے گا۔ (ابن عاشور: ۸؍۲۵)
سوال: دنیا میں گمراہ لوگوں کے زیادہ ہونے کا کیا سبب ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 116

وَإِن تُطِعۡ أَكۡثَرَ مَن فِي ٱلۡأَرۡضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ١١٦

یہ آیت کریمہ اس بات پر دلیل ہے کہ کسی گروہ کی تعدادکابہت زیادہ ہوناان کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں بنتی، اور نہ ہی کسی بھی طریقے پر چلنے والوں کی تعداد کی کمی ان کے ناحق ہونے کی دلیل ہے۔بلکہ سچائی اس کے برخلاف ہے۔اس لئے کہ اہل حق تعداد میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں لیکن اللہ کے یہاں مقام ومرتبے میں اور اجر وثواب میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ (السعدی: ۲۷۰)
سوال: آج لوگوں میں اکثریت پر ایمان لانے یعنی کثرت تعداد کی بات ماننے کا اور اکثریت کو اقلیت پر ترجیح دینے کارجحان عام ہے۔ اس بارے میں شریعت کا نقطۂنظر کیا ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 118

فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤۡمِنِينَ ١١٨

اللہ کے فرمان: (إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤۡمِنِينَ) “اگر تم اللہ کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو” کا مطلب ہے:اگر تم اس کے احکامات اور ہدایات کو اختیار کرتے ہو۔ کیونکہ آیتوں پرایمان رکھنے کا یہ تقاضا بھی ہے کہ انہیں قبول کرلے اور ان کاپابند بن جائے۔ (ابن عطیہ: ۲؍ ۳۳۸)
سوال: جن جانوروں پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو،ان کے کھانے کا حکم ایمان کے ذکر کے ساتھ کیوں ختم کیا گیا ہے؟