قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮒ

ﰿ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ
ﭚ ﭛ ٨٢ ٨٢
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٨٣ ٨٣

ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٨٤ ٨٤

ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
٨٥ ٨٥
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ٨٦ ٨٦
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ٨٧ ٨٧
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ٨٨ ٨٨
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ٨٩ ٨٩
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ٩٠ ٩٠
138
سورۃ الأنعام آیات 0 - 83

وَتِلۡكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيۡنَٰهَآ إِبۡرَٰهِيمَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦۚ نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ

ابراہیم علیہ السلام نے ہماری کامل اطاعت کی ،اپنے رب کی توحید کو خالص اور بے غباررکھااور اللہ کے ساتھ شرک کرنے والی اپنی قوم کے دین کو چھوڑ کر ان سے علیحدگی اختیار کرلی ۔ان عظیم نیکیوں کے بدلے میں ہم نے ان پر یہ نوازشیں کیں کہ علیین میں ان کے درجے اور مرتبے کو بہت بلند کردیا ، دنیا میں بھی اجروثواب سے ان کا دامن بھردیااور انہیں ایسی اولاد بخشی جنہیں ہم نے نبوت کی خصوصیت سے نوازا،ایسی ذریت اور نسل دی جنہیں ہم نے اپنی طرف سے عزت وکرامت کا شرف اور تاج پہنایااور عمومی طور پر تمام دنیا جہاں کے لوگوں پر انہیں فضیلت اور برتری عطاکردی۔(الطبری: ۱۱؍۵۰۷)
سوال:جو شخص اللہ کے واسطے کسی چیز کو چھوڑتا ہے ،اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر بدلہ عطاکرتا ہے ۔اس بات کو آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.

سورۃ الأنعام آیات 0 - 83

وَتِلۡكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيۡنَٰهَآ إِبۡرَٰهِيمَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦۚ نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ

(ہم نے علم و حجت کی بنا پر ابراہیم علیہ السلام کا درجہ بڑھا دیا) اس لئے کہ علم ایسی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحبِ علم کو اس کی بدولت دوسرے بندوں کے مقابل درجات میں بلند کردیتا ہے ۔خاص طور سے وہ عالم جو عامل بھی ہو اور معلّم بھی ۔یعنی خود بھی عمل کرنے والا ہو اور دوسروں کو بھی اپنا علم سکھانے والا ہو ،ایسے علم والے شخص کو اللہ تعالیٰ اس کی حالت وتقاضے کے مطابق لوگوں کا امام بنادیتا ہے ۔اس کے کردار وعمل پر لوگوں کی نگاہیں ٹکی ہوتی ہیں، اس کے نقشِ قدم کی پیروی کی جاتی ہے ،اس کے نور سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اس کے علم کی مدد سے زندگی کے راستے طے کئے جاتے ہیں ۔(وہ گھٹاٹوپ اندھیروں میں لوگوں کے لئے منارۂ نور اور مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔) (السعدی:۲۶۳)
سوال: ابراہیم علیہ السلام کو ان کی قوم کے مقابل درجات میں بلند کئے جانے کا کیا سبب ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 83

نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٞ ٨٣

یعنی:ہم جس کے درجات بلند کرنا چاہتے ہیں اسے علم ومعرفت ،سوجھ بوجھ،شرف وفضیلت اور عقل وشعورسے نوازتے ہیں،جس طرح ہم نے ابراہیم ۔علیہ السلام۔کے درجات کو بلند کیا ،یہاں تک کہ وہ ہدایت یاب ہوگئے اور پھر توحید کے سلسلہ میں اپنی قوم پر حجت قائم کردی۔ (البغوی: ۲؍۴۱)
سوال: بندے کے درجات ومراتب کس طرح بلند ہوتے ہیں؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 84

وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَۚ كُلًّا هَدَيۡنَاۚ وَنُوحًا هَدَيۡنَا مِن قَبۡلُۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٨٤

یہ ابراہیم علیہ السلام کی جزاء تھی،ان کے عمل کا بدلہ تھا کہ جب وہ اپنی قوم سے الگ ہوگئے ، انہیں چھوڑدیا، ان کی بستی سے نکل گئے اور وطن سے ہجرت کرلی تاکہ دنیا کے کسی ایسے مقام کا راستہ لیں جہاں صرف اللہ کی عبادت کریں ۔اس وقت اللہ عزوجل نے انہیں ان کی صلبی(حقیقی) نیک اولاد کی شکل میں ان کی قوم اور خاندان کا بدل عطافرمادیا۔ تاکہ ان کے ذریعہ ابراہیم علیہ السلام کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ (ابن کثیر :۲؍ ۱۴۷)
سوال: ابراہیم علیہ السلام کی اولاد اور بیٹے کس طرح ان کے حسنِ عمل کا بدلہ تھے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 88

وَلَوۡ أَشۡرَكُواْ لَحَبِطَ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٨٨

(وَلَوۡ أَشۡرَكُواْ ) اگر وہ۔ذکر کردہ انبیاء کرام ۔شرک کربیٹھتے۔یعنی ۔یہ اگرچہ ناممکن اور محال بات ہے لیکن۔فرض کرلیں کہ اگر ایسا ہوتا (لَحَبِطَ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ) تونتیجہ میں ان کا سب کیا دھرا اور سارے اعمال برباد ہوجاتے کیونکہ شرک ایسا عمل ہے جو تمام اعمال کو برباد کردیتا ہے اور جہنم میں داخل کرنے کا ہی نہیں بلکہ اس میں ہمیشگی کا سبب بنتا ہے۔چنانچہ اللہ کے فرمان کے مطابق اگر اللہ کے یہ برگزیدہ اور بہترین بندے یعنی انبیاء کرام بھی شرک کرتے۔ جبکہ ان پاکباز نفوس سے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا تھا۔تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے ۔ اب جب انبیاء کے بارے میں اللہ کا یہ فیصلہ ہے تو ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے اعمال شرک کی وجہ سے برباد ہوجانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ ( السعدی:۲۶۴)
سوال: شرک اعمال کوبرباد کردیتا ہے خواہ وہ بڑے بڑے بزرگوں اور صالحین سے ہی کیوں نہ سرزد ہو ۔ اس بات کو آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.

سورۃ الأنعام آیات 0 - 88

وَلَوۡ أَشۡرَكُواْ لَحَبِطَ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٨٨

یعنی۔ اگر یہ انبیاء کرام بھی۔میرے علاوہ دوسرے کی عبادت کرلیتے تو ان کے سارے کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ،ساری نیکیاں اور قربانیاں ضائع ہو جاتیں، لیکن میں (اللہ)نے انہیں بچالیا ۔ (القرطبی: ۸؍ ۴۵۱)
سوال: اس شخص کی جزاء کیا ہے جو اللہ کے ساتھ شرک کرے جبکہ اس کے نیک اعمال بھی ہیں؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 90

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡۗ

یعنی : اے رسول کریم! آپ ان برگزیدہ انبیاء کے پیچھے چلئے ،ان کی ملت کی پیروی کیجئے۔
نبی ﷺ نے اللہ کے اس حکم کی پوری تعمیل کی چنانچہ آپ نے اپنے سے پہلے انبیاء اور رسولوں کا طریقہ اور ان کی سیرت اختیارفرمائی اور الگ الگ رسولوں کی تمام خوبیاں،کمالات اور خصوصیات اپنی ذاتِ بابرکات میں اکٹھاکرلیں۔اس طرح آپ کے دامنِ اقدس میں تمام فضیلتیں اور خصوصیتیں سمٹ گئیں اور آپ کی ذات وشخصیت مخلوق میں سب سے کامل اور سب سے جامع شخصیت بن گئی۔اور آپ رسولوں کے سردار اور متقیوں کے امام ہوگئے۔صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلیہم أجمعین۔ (السعدی: ۲۶۴)
سوال: یہ آیت کس طرح ہمارے رسولِ کریم ﷺ کی دیگر رسولوں پر افضلیت کو ثابت کرتی ہے؟