قرآن
ﮒ
ﰿ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٧٤ ٧٤ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
٧٥ ٧٥ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ٧٦ ٧٦ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ٧٧ ٧٧ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
٧٨ ٧٨ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ٧٩ ٧٩ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ٨٠ ٨٠ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٨١ ٨١
وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصۡنَامًا ءَالِهَةً إِنِّيٓ أَرَىٰكَ وَقَوۡمَكَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٧٤
ابراہیم علیہ السلام کے اس خطاب میں ایسی کوئی بات نہیں جو باپ کے ساتھ حسنِ سلوک یا فرمانبرداری کے خلاف ہو کیونکہ کسی طرح کی بدکلامی اور زیادتی کے بغیر حق کا اظہار کرنا، حسن سلوک کے خلاف نہیں ہے ۔ (ابن عاشور: ۷؍۳۱۷)
سوال: آیت میں ابراہیم علیہ السلام کا جو اسلوبِ بیان آیا ہے کیا اس میں والدین کے ساتھ حسنِ معاملہ اور اچھے سلوک کی مخالفت پائی جاتی ہے اس کی وضاحت کریں؟
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ ٱلَّيۡلُ رَءَا كَوۡكَبٗاۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّيۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلۡأٓفِلِينَ ٧٦
بات یہ ہے کہ محبت ہی عبادت کی اصل ہے لہذا اس میں شرک کرنا، اصلی شرک ہے جیسا کہ اللہ نے یہ بات امام الحُنفاء ابراہیم خلیل علیہ السلام کے قصے میں بیان فرمائی ہے چنانچہ فرمایا: (فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ ٱلَّيۡلُ رَءَا كَوۡكَبٗاۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّيۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلۡأٓفِلِينَ) پھر جب ان پر رات کی تاریکی چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا اور کہا: یہ میرا رب ہےلیکن جب وہ ڈوب گیا توکہا : میں ڈوب جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔یعنی ستارے کے رب ہونے کی تردید اس طرح کی کہ میں محبت نہیں رکھتا۔ (ابن تیمیہ:۳؍ ۳۴)
سوال: محبت عبادت کی اصل ہے جسے جاہلوں نے شرک کی اصل بنادیا۔اس بات کو آیت کریمہ کی مدد سے بیان کیجئے.
قَالَ هَٰذَا رَبِّيۖ
یعنی: ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو حجت پیش کرتے اور سمجھاتے ہوئے بطور تنزّل (یعنی اپنے حقیقی موقف سے وقتی طور پر نیچے اترتے ہوئے)یہ بات کہی کہ ٹھیک ہے ،چلو مان لیایہ ستارہ میرا رب ہے ،اب آؤ ہم دیکھیں اور غور کریں کہ کیا یہ واقعی رب ہونے کا مستحق ہے ؟اور کیا ہمارے سامنے اس بات کی کوئی دلیل ہے ؟ کیونکہ کسی بھی عقل والے انسان کے لئے ایسی بات جائز وروانہیں کہ بغیر حجت اور واضح دلیل کے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالے ۔ (السعدی: ۲۶۲)
سوال: ستارے کے بارے میں ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ‘‘وہ ان کا رب ہے’’۔اس کی کیا وجہ ہے؟
فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلۡأٓفِلِينَ ٧٦
(ٱلۡأٓفِلِينَ) یعنی: ڈوب جانے اورچھپ جانے والے سے مرادوہ چیز یا ہستی ہے جو اپنی عبادت کرنے والے کے سامنے سے اوجھل ہوجائے۔ (ابراہیم علیہ السلام نے فرمایاکہ :ایسے ڈوب جانے والے سے میں محبت نہیں کرتا) کیونکہ معبود کا ایسا ہونا ضروری ہے کہ وہ اپنے بندے اور عبادت کرنے والے کی مصلحتوں کا خیال رکھنے والا اور ضرورتوں کو پورا کرنے والاہو نیز بندے کے تمام معاملات کا انتظام وتدبیر اور بندوبست کرنے والاہو۔اس کے برخلاف جو ہستی ایسی ہو کہ زیادہ تر اوقات میں وہ غائب رہے ۔وہ کہاں سے اور کیسے عبادت کی مستحق ہوسکتی ہے ؟ایسی ہستی کو معبود بنانا،سب سے بڑی حماقت اور سب سے بڑا جھوٹ نہیں تو اور کیا ہوگا! (السعدی: ۲۶۲)
سوال: جو ہستی اپنے عابد(عبادت کرنے والے،پجاری) سے چھپ جائے اور اوجھل ہوجائے۔وہ عبادت کی مستحق کیوں نہیں ہے؟
قَالَ لَئِن لَّمۡ يَهۡدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلضَّآلِّينَ ٧٧
انبیاء کرام علیہم السلام پابندی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ایمان پر ثابت قدمی کی دعامانگتے رہتے تھے ۔خود ابراہیم علیہ السلام یہ کلمات کہا کرتے تھے : (وَاجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ) (سورۂ ابراہیم :۳۵) یعنی:مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھ! (البغوی: ۲؍ ۴۱)
سوال: انبیاء کرام علیہم السلام دین پر ثابت قدم رہنے کی سخت خواہش رکھتے تھے۔اس بات کی دلیل بیان کیجئے۔
إِنِّي وَجَّهۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ حَنِيفٗاۖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٧٩
یقیناًمیں اپنی عبادتوں میں اس ذات کی طرف اپنا رخ کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ،جو ذات لازوال اور دائمی ہے ، ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، فنا ہونے والی نہیں ہے اور جوجِلاتی اورمارتی ہے۔میں اُن معبودانِ باطلہ کی طرف رخ نہیں کرتا جو خود فانی ہیں ،باقی رہنے والے نہیں ہیں ،جن کا انجام زوال ہے اور انہیں دوام وبقاء حاصل نہیں ہے اور وہ ایسے ہیں کہ نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں نہ فائدہ۔ (الطبری: ۱۱؍۴۸۷)
سوال: دوسروں کی عبادت کی بجائے صرف اللہ کی عبادت واجب ہونے کے کیا اسباب ہیں؟
وَكَيۡفَ أَخَافُ مَآ أَشۡرَكۡتُمۡ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمۡ أَشۡرَكۡتُم بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطَٰنٗاۚ فَأَيُّ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ أَحَقُّ بِٱلۡأَمۡنِۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٨١ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ ٨٢
یعنی: میں ۔لاچار وبے بس۔مُردوں سے کیوں کرڈروں؟ جبکہ تم شرک کرتے ہوئے بھی اس اللہ سے نہیں ڈرتے جو ہر چیزپر قدرت رکھتا ہے ....!
(فَأَيُّ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ أَحَقُّ بِٱلۡأَمۡنِۖ) پس دونوں فریق میں اللہ کے عذاب سے امن وسلامتی کا زیادہ حقدار کون ہے؟ موحِّد (توحید پر قائم رہنے والا) یا مشرک؟ چنانچہ اس سوال پر اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ سناتے ہوئے فرماتا ہے: (ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ) جو لوگ ایمان لائے،اللہ کو مانااور اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا یعنی شرک کی ملاوٹ نہیں کی تو امن اور سلامتی انہی کے لئے ہے۔ (القرطبی: ۸؍۴۴۴)
سوال: اللہ سے زیادہ مُردوں سے ڈرنا، انتہائی جہالت ہے ۔اس بات کو آیت کی مدد سے واضح کیجئے