قرآن
ﮒ
ﰿ
ﭜ ٣٦ ٣٦ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ٣٧ ٣٧ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ٣٨ ٣٨
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ٣٩ ٣٩ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ٤٠ ٤٠ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ٤١ ٤١ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ٤٢ ٤٢ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ٤٣ ٤٣ ﯸ
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ
ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ٤٤ ٤٤
إِنَّمَا يَسۡتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسۡمَعُونَۘ
یہاں سننے سے مراد ہے دل کاسننااور اسے قبول کرنا۔ورنہ صرف کانوں سے سننے میں تو اچھے اور برے سب شامل ہیں۔معلوم ہوا کہ اللہ کی آیات کو سن لینے سے تمام مکلّفین یعنی تمام عاقل وبالغ انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے حجت قائم ہوگئی۔ (السعدی: ۲۵۵)
سوال: وعظ ونصیحت کو سننے کے معاملے میں مومن اور غافل شخص کے درمیان کیا فرق ہے؟
وَٱلۡمَوۡتَىٰ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ
مَوتیٰ یعنی مُردوں سے مراد کفار ہیں۔ اس لئے کہ ان کے دل مرے ہوئے ہیں چنانچہ اللہ نے انہیں مُردوں سے تشبیہ دی ہے ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۱۲۴)
سوال: کافر اورمیت( مردہ) کے بیچ مشابہت کی کیا وجہ ہے؟
مَّا فَرَّطۡنَا فِي ٱلۡكِتَٰبِ مِن شَيۡءٖۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ يُحۡشَرُونَ ٣٨
کائنات کی تمام چھوٹی اور بڑی چیزیں لوحِ محفوظ میں اپنی حقیقی شکل میں محفوظ ہیں ۔ اور تقدیر کے قلم نے جو کچھ لکھا ہے، کائنات کی تمام چیزیں ہوبہو اسی کے مطابق واقع ہوتی ہیں ۔مذکورہ آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ کتابِ اول یعنی لوح محفوظ پوری کائنات میں رونما ہونے والی ہر چیز کو شامل ہے ۔ اور یہ حقیقت اللہ کی قضا وتقدیر کے چارمراتب میں سے ایک ہے ۔تقدیر کے چار مراتب یا درجات یہ ہیں:
1.اللہ کا علم جو تمام چیزوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔
2.اللہ کا لکھنا جو تمام موجودات اور واقعات کو گھیرے ہوئے ہے۔
3.اللہ کی مشیئت وقدرت یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ ارادہ اور قدرت جو ہر مخلوق کے لئے عام ہے اور ہر چیز پر نافذ وجاری ہے ۔
4. تخلیق: یعنی اللہ تعالیٰ کا تمام مخلوقات کو پیدا کرنایعنی ہر وجودمیں آنے والی چیز اورہر عمل کا خالق وہی ہے۔(السعدی: ۲۵۵)
سوال: آپ کی زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ تقدیر کے مقرر کردہ چار مراتب سے گذرتاہے۔وہ چار مراتب کیا ہیں؟
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَأَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُونَ ٤٢ فَلَوۡلَآ إِذۡ جَآءَهُم بَأۡسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَٰكِن قَسَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٤٣
اللہ تعالیٰ نے دوگروہوں کی مذمت بیان کی ہے :ایک وہ گروہ جن پر کوئی تکلیف یا مصیبت آتی ہے تب بھی وہ اللہ کو نہیں پکارتے ، نہ اللہ کی جناب میں عاجزی کرتے اور گڑگڑاتے ہیں اور نہ ہی اس کی طرف پلٹتے اور توبہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: (وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَأَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُونَ ٤٢ فَلَوۡلَآ إِذۡ جَآءَهُم بَأۡسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَٰكِن قَسَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ)یعنی:آپ سے پہلے گزری ہوئی امتوں کی طرف ہم رسول بھیج چکے ہیں،پھرہم نے انہیں تنگدستی اور بیماری میں گرفتار کرلیا تاکہ وہ عاجزی سے دعا کریں مگر جب ان پر ہماری سختی اور سزا آئی تو وہ کیوں نہیں گڑگڑائے ،عاجزی کیوں نہیں اختیار کی؟ ۔ اور دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو دکھ اور مصیبت کے وقت اللہ کی بارگاہ میں عاجزی اور آہ وزاری کرتے ہیں اوراس کی طرف پلٹتے ہیں مگر جب اللہ تعالیٰ ان کا دکھ دور کردیتا ہے تو وہ پھر اللہ سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
اللہ کے یہاں تیسرے گروہ والے تعریف کے لائق ہیں جو اللہ کو پکارتے ،دعا کرتے اور اس سے توبہ کرتے رہتے ہیں ۔ خوشی کی حالت میں بھی اللہ کی عبادت اور توبہ وانابت پر جمے رہتے ہیں ۔یعنی خوشحالی اور بدحالی دونوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں لگے رہتے ہیں۔(ابن تیمیہ: ۳؍ ۲۴۔۲۵)
سوال: خوشحالی اور بدحالی کی حالتوں میں دعا کرنے والے لوگوں کی کئی قسمیں ہیں ۔انہیں بیان کیجئے.
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَأَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُونَ ٤٢ فَلَوۡلَآ إِذۡ جَآءَهُم بَأۡسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَٰكِن قَسَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٤٣
(فَأَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ) ہم نے انہیں تنگدستی اور بیماری میں مبتلا کردیا۔
یہ چیز اللہ کی جانب سے ان کے ساتھ نرمی برتنے اور ادب سکھلانے کے طور پر ہلکی سزاتھی ۔ (فَلَوۡلَآ) تو ایسا کیوں نہیں ہوا؟یہ ان کے سامنے ایک پیشکش اور ترغیب ہے ۔اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ مصیبت وتکلیف کے وقت عاجزی سے دعا کرنابندے کے لئے فائدہ مند ہے ۔ (ابن جزی: ۱؍ ۲۷۰)
سوال: آیت کی روشنی میں بیان کیجئے کہ سختیوں اور مصیبتوں میں تضرّع یعنی عاجزی کے ساتھ دعا کرنے کی کیا اہمیت ہے؟
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِۦ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَبۡوَٰبَ كُلِّ شَيۡءٍ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُوٓاْ أَخَذۡنَٰهُم بَغۡتَةٗ فَإِذَا هُم مُّبۡلِسُونَ ٤٤
ہم نے ان پرخوشحالی کے وہ تمام دروازے کھول دئیے جو بند تھے۔ (حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُوٓاْ) اس کا معنی ہے کہ جب وہ فراوانی سے ملنے والی نعمتوں اور خوشحالی پراترانے لگے،تکبر میں مبتلا ہوگئے اور اس گمان میں پڑ گئے کہ یہ نوازشات کبھی ختم نہیں ہوں گی اور یہ نعمتیں اور نوازشیں اس بات کی علامت ہیں کہ اللہ عزوجل ان سے خوش ہے۔ (أَخَذۡنَٰهُم بَغۡتَةٗ)یعنی ہم نے انہیں جڑسے اکھاڑ دیا،نیست ونابود کردیا اورانہیں اپنے عذاب میں گھیر لیا۔(بَغۡتَةٗ)اس کا معنی ہے اچانک ،دفعۃً،ناگہاں۔مطلب ہے بے خبری میں پکڑ لینا۔ (القرطبی: ۸؍۳۷۹)
سوال: آیت کے تناظر میں بتائیے کہ اللہ تعالیٰ غفلت میں مبتلا لوگوں کے ساتھ کس طرح ڈھیل دینے کا معاملہ کرتا ہے؟
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِۦ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَبۡوَٰبَ كُلِّ شَيۡءٍ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُوٓاْ أَخَذۡنَٰهُم بَغۡتَةٗ فَإِذَا هُم مُّبۡلِسُونَ ٤٤
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں:اللہ تعالیٰ جس شخص پر نعمتوں کی بارش اور کشادگی کرے اور وہ یہ نہ سمجھے کہ اللہ اس کے ساتھ تدبیر یعنی ڈھیل دینے والا معاملہ کررہا ہے تو ایسا شخص ناسمجھ ہے ۔نیزاسی طرح جس پر اللہ تعالیٰ تنگی ڈال دے اور وہ یہ نہ سمجھے کہ اللہ اسے مہلت وموقع عطاکررہا ہے تویہ بھی بے عقل ہے ۔
یہ بیان کرکے حسن بصری رحمہ اللہ نے یہی آیت تلاوت کی: (فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِۦ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَبۡوَٰبَ كُلِّ شَيۡءٍ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُوٓاْ أَخَذۡنَٰهُم بَغۡتَةٗ فَإِذَا هُم مُّبۡلِسُونَ) (ابن کثیر: ۲؍ ۱۲۶)
سوال: ایک مسلمان اپنی مالی کشادگی اور تنگی میں کس طرح کا رویہ اپناتاہے؟