قرآن
ﮑ
ﰿ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ٩١ ٩١ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ٩٢ ٩٢ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ٩٣ ٩٣ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ٩٤ ٩٤ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ٩٥ ٩٥
إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيۡنَكُمُ ٱلۡعَدَٰوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ فِي ٱلۡخَمۡرِ وَٱلۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِۖ فَهَلۡ أَنتُم مُّنتَهُونَ ٩١
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بند وں کو اس بات سے آگاہ فرمایا ہے کہ شیطان تو چاہتا ہے کہ شراب کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی پیدا ہو اور ہر اس چیز کے ذریعہ جو مومنوں کے درمیان بغض وعداوت بھڑکاسکے۔ نیز وہ شراب کی طرح جوئے کے ذریعہ بھی تمہارے درمیان دشمنی اور پھوٹ ڈالنا چاہتا ہے ،یہ بات اس لئے کہی گئی ہے کیونکہ لوگ اپنے مال واسباب اور گھر بارکی بازی لگاکر آپس میں جوا کھیلتے تھے تو بسااوقات ہارجانے والا جواری خالی ہاتھ اور محتاج ہوکر غم وافسوس میں مبتلا ہوجاتا ۔جس کے نتیجہ میں بغض وکینہ اور عداوت ودشمنی کے جذبات جنم لیتے تھے پھر اگر بات دشمنی کی حد تک نہ بھی پہنچے تو کم ازکم دل کی نفرت اور دشمنی کا جذبہ ضرور رہتا ہےاور آپس میں بغض ونفرت رکھنے والی قوم کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ (ابن عطیہ: ۲؍ ۲۳۴)
سوال: ہم کس طرح سمجھیں گے کہ آیت میں ذکر کردہ چیزیں معاشرے میں پھوٹ ڈالتی ہیں اور امن وچین کو غارت کرتی ہیں؟
إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيۡنَكُمُ ٱلۡعَدَٰوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ فِي ٱلۡخَمۡرِ وَٱلۡمَيۡسِرِ
یہ کھلی حقیقت ہے کہ شراب پینے سے عقل پر تالے اور پردے پڑجاتے ہیں جو کے شرابی اور اس کے مومن بھائیوں کے درمیان دشمنی کا سبب بنتاہے، خاص طورپر جب اس کے ساتھ گالی گلوچ اور فحش گوئی بھی شامل ہوجائے جو شراب پینے کے لازمی نتائج میں سے ہے توایسی صورت میں کئی مرتبہ یہ شراب نوشی جان سے ماردینے اور قتل کردینے کے اقدام تک پہنچادیتی ہے۔
نیز جوئے میں ایک فریق کو دوسرے پر جو جیت ملتی ہے اور وہ ہارنے والے کا مال بغیر کسی بدل اور متبادل کے ہڑپ لیتا ہے، وہ بھی دشمنی اور نفرت پیدا کرنے کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ (السعدی: ۲۴۳)
سوال: شراب او رجوئے کے رسیا اورعادی لوگوں میں کس طرح نفرت اور دشمنی جنم لیتی ہے؟
إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيۡنَكُمُ ٱلۡعَدَٰوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ فِي ٱلۡخَمۡرِ وَٱلۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِۖ فَهَلۡ أَنتُم مُّنتَهُونَ ٩١
اس آیت کی رو سے ہر وہ کھیل ،تماشہ جس سے تھوڑا لگاؤزیادہ سے زیادہ کی خواہش جگائے اور اس میں مشغول لوگوں کے درمیان نفرت ودشمنی کا بیج بوئے، اللہ کی یاد سے اور نماز سے رکاوٹ بنے توایسا ہر کھیل ،تماشہ اور تفریح شراب پینے کی طرح ہے ۔یعنی وہ بھی شراب کی طرح ناجائز ہوگا۔ ( القرطبی: ۸؍۱۶۵)
سوال: حرام کھیل اور تفریح کی کیا علامتیں ہیں؟
لَيۡسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جُنَاحٞ فِيمَا طَعِمُوٓاْ إِذَا مَا ٱتَّقَواْ وَّءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ثُمَّ ٱتَّقَواْ وَّءَامَنُواْ ثُمَّ ٱتَّقَواْ وَّأَحۡسَنُواْۚ
تقویٰ کی خوبی اور اس کے شرف وعظمت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ:جب اللہ تعالیٰ نےمتقی ہونے کی عمومی شرط لگائی تو کھانوں کا ذکرکرتے ہوئے بطور خاص اس کی تلقین فرمائی۔اور یہ کھانے پینے میں ورع، پرہیزگاری اور احتیاط برتنے پر انتہائی درجہ کی ترغیب ہے۔ساتھ ہی اس میں اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ تقویٰ کے بغیر احسان کے بلند اور اعلیٰ مقام تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔(البقاعی: ۲؍ ۵۳۹)
سوال: احسان جو ایمان کاسب سے بلند مرتبہ ہے ۔اس تک پہنچنے کا کھانے پینے سے کس حد تک تعلق ہے؟
لَيۡسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جُنَاحٞ فِيمَا طَعِمُوٓاْ إِذَا مَا ٱتَّقَواْ وَّءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ثُمَّ ٱتَّقَواْ وَّءَامَنُواْ ثُمَّ ٱتَّقَواْ وَّأَحۡسَنُواْۚ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٩٣
(ثُمَّ ٱتَّقَواْ وَّأَحۡسَنُواْۚ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ) پھر وہ پرہیزگاری اختیار کریں اور احسان یعنی خوب نیک عمل کریں اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صرف ایمان والےمتقی پرہیزگار کے مقابل نیک عمل و کردار والامتقی پرہیزگار مؤمن افضل وبہتر ہے۔ (القرطبی: ۸؍۱۷۲)
سوال: آیت ‘‘اہل احسان’’ یعنی نیکوکار لوگوں کی جو فضیلت بتاتی ہے، اسے بیان کیجئے.
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَيَبۡلُوَنَّكُمُ ٱللَّهُ بِشَيۡءٖ مِّنَ ٱلصَّيۡدِ تَنَالُهُۥٓ أَيۡدِيكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ لِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ مَن يَخَافُهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ
(بِٱلۡغَيۡبِۚ) “غیب”حاضررہنےاور مشاہدہ ومعاینہ کرنے کی ضد ہے ۔یہاں آیت میں غیب کو ذکر کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں اللہ سے ڈرنے والوں کی تعریف ہے۔اللہ نےان کے ایمان کی سچائی اور بصیرت کے روشن ہونے کی تعریف کی ہے اس لئے کہ وہ اللہ کا خوف رکھتے ہیں حالانکہ انہوں نے اللہ کی عظمت وجلال اور اس کی نعمت وثواب کو نگاہوں سے دیکھا نہیں ہے مگر دلیلوں و رہنمائیوں کو سچا مان کر اِن اَن دیکھی حقیقتوں پر پختہ یقین کرلیا۔(ابن عاشور: ۷؍۴۰)
سوال:آیت کریمہ میں غیب کے لفظ کو ذکر کرنے کا کیا فائدہ ہے؟
لِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ مَن يَخَافُهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ
جو شخص غائبانہ طور پر اورلوگوں کی غیر موجودگی میں اور تنہائی میں اللہ سے ڈرے تو اسی کا ڈر خوف معتبر ہے ۔رہا لوگوں کے سامنے اللہ کے خوف کا اظہار تو یہ چیز کبھی کبھار لوگوں کے خوف سے بھی ہوسکتی ہے ۔(یعنی یہ حقیقت میں اللہ کا خوف نہیں ہے لہذا اس کا کوئی اعتبار نہیں ۔) (السعدی: ۲۴۴)
سوال: غیب میں یعنی لوگوں کی نگاہوں سے چھپ کر اللہ سے ڈرنے اور لوگوں کے سامنے ڈرنے میں کیا فرق ہے؟