قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٤٦ ٤٦


٤٧ ٤٧
ﭿ





٤٨ ٤٨



٤٩ ٤٩

ﯿ ٥٠ ٥٠
116
سورۃ المائدہ آیات 0 - 46

وَقَفَّيۡنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡإِنجِيلَ فِيهِ هُدٗى وَنُورٞ وَمُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَهُدٗى وَمَوۡعِظَةٗ لِّلۡمُتَّقِينَ ٤٦

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام اور انجیل کی جو تعریف بیان کی ہے، اس میں ان عیسائیوں کی کوئی تعریف نہیں ہے جنہوں نے محمد ﷺکا انکار کیا، تورات اور انجیل کے احکام بدل ڈالے، اور اتباع کی بھی تو اس چیز کی جو تبدیل شدہ اور منسوخ ہے۔(ابن تیمیہ: ۲؍ ۴۸۵)
سوال: کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اور انجیل کی تعریف اور سراہنا میں موجودہ دور کے نصاریٰ کی تعریف (کا پہلو) بھی شامل ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 48

وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِۖ

(وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِۖ ) اور قرآن اپنے سے پہلے کی ہر آسمانی کتاب پر نگہبان ومحافظ ہے۔
یعنی: قرآن انہی چیزوں پر مشتمل ہے جن پر پچھلی کتابیں مشتمل تھیں بلکہ اس میں کچھ مطالبِ الٰہیہ اور اخلاقِ نفیسہ یعنی عقائد اور زندگی کے آداب واحکام پچھلی کتابوں سے زائد ہیں۔ لہٰذا یہ قرآن ایسی کتاب ہے جس نے دیگر آسمانی کتابوں میں موجودہر حق کو چھان کر چھانٹ دیا ہے،اسی حق پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے ، اسی پر ابھاراہے اور حق تک پہنچانے والے راستو ں کی خوب رہنمائی کی ہے ۔نیز یہ ایسی کتاب ہے جس میں گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بھی ہیں اور آنے والوں کی اطلاع بھی۔اور یہ ایسی کتاب ہے جس میں معاملات کے فیصلے ہیں،احکام بھی ہیں اور حکمتیں بھی۔(السعدی: ۲۳۴)
سوال: قرآن کس طرح گذشتہ آسمانی کتابوں پر(مُهَيۡمِنًا ) یعنی نگہبان ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 48

فَٱسۡتَبِقُواْ ٱلۡخَيۡرَٰتِۚ

یہ فرمان اس بات کی دلیل ہے کہ فرائض کو ادا کرنے میں پہل اور جلدی کرنا ، دیر کرنے سے افضل ہے اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔(القرطبی: ۸؍۳۹)
سوال: فرائض کی ادائیگی میں جلدی افضل ہے یا تاخیر؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 48

فَٱسۡتَبِقُواْ ٱلۡخَيۡرَٰتِۚ

مذکورہ آیت سے اس بات پر دلیل پکڑی جاتی ہے کہ نماز اور دوسری عبادات کو اول وقت میں ادا کرنے کے لئے سبقت کرنی چاہئے ۔
آیت اس بات کی بھی دلیل بنتی ہے کہ بندے کو نماز اور دیگر عبادات میں صرف اتنا ہی عمل کرنے پر اکتفااور بس نہیں کرنا چاہئے جتنا ان عبادات کے کافی ہونے کے لئے واجب اور ضروری ہے۔ بلکہ بہتر اور مناسب ہے کہ سنتوں اور فضیلت کی چیزوں کو بھی بجالائے تاکہ نمازاور عبادات کامل ومکمل ہوں؛ اور ان سے سبقت حاصل ہو۔ (السعدی:۲۳۴)
سوال: بندہ نیکیوں اور بھلائیوں میں سبقت کرنے والا کیسے ہوتا ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 49

وَأَنِ ٱحۡكُم بَيۡنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡ وَٱحۡذَرۡهُمۡ أَن يَفۡتِنُوكَ عَنۢ بَعۡضِ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ

اللہ نے نبی ﷺ کو مشرکین کی خواہشات کے پیچھے چلنے سے منع فرمایا ہے اور اہلِ کتاب کی خواہشات کی پیروی کرنے سے بھی ۔
نیز آپ ﷺ کو اس بات سے ہوشیار کرتے ہوئے تنبیہ فرمائی ہے کہ اللہ نے آپ کی طرف جو حق نازل فرمایاہے، یہ لوگ آپ کو ڈگمگاکر اس حق سے ہٹانہ دیں ۔اس حکم میں رسول اللہ ﷺ کی شریعت اور سنت کے خلاف کسی بھی شخص کی خواہشات وخیالات کی اتباع کرنے سے ممانعت شامل ہے ۔
اسی طرح اس امت کے خواہش پرست بدعتیوں کی اتباع سے بچنے کا حکم بھی اس میں موجود ہے ۔کیونکہ اہلِ بدعت نبی ﷺ کی شریعت وسنت کی مخالفت کرتے ہیں۔) (ابن تیمیہ: ۲؍ ۴۹۴)
سوال: آیت میں ہر ذمہ دار شخص کو ایک بڑی اہم چیز کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔وہ اہم بات کیا ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 49

وَأَنِ ٱحۡكُم بَيۡنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡ

یعنی: ان اہلِ کتاب نے اپنی رائے ،قیاس اور خیال سے جن باتوں پر اتفاق کرلیا ہے اور ان ذاتی اور بناوٹی باتوں کی وجہ سے اللہ کے ان احکامات کو چھوڑدیاجو اس نے اپنے رسولوں پر نازل فرمائے تھے ؛ آپ ان بناوٹی باتوں میں ان کی پیروی نہ کریں۔اسی لئے اللہ نے فرمایا: (ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘﮙ ) یعنی اللہ نے آپ کو جس حق کا حکم دیا ہے اس سے ہٹ کر ان بدنصیب اور بدبخت جاہلوں کی خواہشات کی طر ف رخ نہ کریں۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۶۳)
سوال: جاہلوں اور بدبختوں کے گمان وخیال میں اللہ کے حکم کا بدل کیا ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 49

وَٱحۡذَرۡهُمۡ أَن يَفۡتِنُوكَ عَنۢ بَعۡضِ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ

یعنی : اے نبی !دیکھئے!اپنے دشمن یہودیوں سے ہوشیار رہیں،ایسا نہ ہو کہ ان کی پہنچائی ہوئی باتوں میں آکر آپ حق کے بارے میں ڈانواں ڈول ہوجائیں اورفریب میں پڑجائیں ،ان سے بالکل دھوکا نہ کھائیں اس لئے کہ وہ یقینی طور پر جھوٹے ،ناشکرے ،انکار اور خیانت کرنے والے ہیں۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۶۴)
سوال: مسلمانوں کے لئے یہود ونصاریٰ کے اکثر مشورے، مسلمانوں کی مصیبتوں اور پریشانیوں کا سبب ہوتے ہیں۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجیے.