قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮑ

ﰾ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ١٨ ١٨
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ١٩ ١٩
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ٢٠ ٢٠
ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ٢١ ٢١
ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ٢٢ ٢٢
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ٢٣ ٢٣
111
سورۃ المائدہ آیات 0 - 18

وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ وَٱلنَّصَٰرَىٰ نَحۡنُ أَبۡنَٰٓؤُاْ ٱللَّهِ وَأَحِبَّٰٓؤُهُۥۚ قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُمۖ

اگر تمہارا یہ گمان درست ہے کہ تم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہو تو پھر ایسا تو نہیں ہوتا کہ باپ اپنے بیٹے کو عذاب دے اور نہ ہی محبت کرنے والا اپنے محبوب اور پیارے کو عذاب دیتا ہے ۔جبکہ تم خود اعتراف کرتے ہو کہ اللہ تمہیں عذاب دیتا رہا ہے ۔
اور اس کی یہ تشریح بھی کی گئی ہے کہ : (فَلِمَ يُعَذِّبُكُم) پھر وہ تمہیں کیوں عذاب دیتا رہا؟ یعنی: تم سے پہلے کے لوگوں کو (تمہارے آباء واجداد کو) ان کی بدعملیوں اور گناہوں کی وجہ سے اللہ نے کیوں عذاب دیااور ان کی صورتوں کو مسخ کرکے بندروں اور سوروں کی شکلیں بنادیں؟
(بَلۡ أَنتُم بَشَرٞ مِّمَّنۡ خَلَقَۚ) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیدا کئے ہوئے انسانوں میں سے تم بھی انسان ہو۔
مطلب: تم بھی سب انسانوں کی طرح ہی ہو جنہیں برائی اور اچھائی کے کاموں کا بدلہ دیا جائیگا۔ (البغوی: ۱؍ ۶۵۵)
سوال: بعض انسانوں پر شیطان یہ ہتھکنڈہ آزماتا ہے کہ وہ خود کو دوسروں سے الگ سمجھنے لگیں کہ ہم باقی لوگوں کی طرح نہیں ہیں ۔اس خیال کی بناپر وہ دھوکے اور فریب کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس بات کی وضاحت کیجیے.

سورۃ المائدہ آیات 0 - 19

يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمۡ عَلَىٰ فَتۡرَةٖ مِّنَ ٱلرُّسُلِ

مقصود یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو اس وقت بھیجا جبکہ رسولوں کی آمد مدتوں سے بند تھی ۔آپ ایک وقفہ کے بعد مبعوث ہوئے ۔ اس وقت رسولوں کی تعلیمات اور راہیں مٹ چکی تھیں۔ ان کے دین بدل چکے تھے اور بتوں کی عبادت ،آگ کی پوجا،صلیبوں اور دیگر مخلوقات وآثار کی پرستش کا دور دورہ تھا ۔ ایسے میں خاتم النبیین ﷺکی آمد سب سے اہم اور غیر معمولی نعمت تھی،اور دنیا کی عام حالت آپ کی سخت محتاج تھی اس لئے کہ دنیا کے گوشے گوشے میں فساد وبگاڑ عام تھا اور چپے چپے میں سرکشی اور جہالت چھائی ہوئی تھی ۔ہاں! کہیں کہیں چند لوگ تھے جو پرانے انبیاء کرام علیہم السلام کے دین کی بچی کھچی کچھ تعلیمات کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے ۔ ان لوگوں میں سے بعض یہودی علماء تھے ،نصاریٰ میں سے کچھ عبادت گزار افراد اور چند صائبین تھے۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۳۴)
سوال: بیان کیجیے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت وآمد کی لوگوں کو کتنی سخت حاجت وضرورت ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 20

ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ

اپنے دلوں اور زبانوں سے اللہ کی نعمت واحسان کو یاد کرو۔کیونکہ نعمتوں کا یاد کرنا اللہ تعالیٰ کی محبت کا جذبہ ابھارتا ہے اور عبادت میں چستی وسرگرمی پیدا کرتا ہے ۔ (السعدی: ۲۲۷)
سوال: اللہ تعالیٰ باربارحکم دیتا ہے کہ ہم پر اس کی جو نعمتیں ہیں، ہم ان کو یاد کرتے رہیں۔کیوں؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 20

وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ جَعَلَ فِيكُمۡ أَنۢبِيَآءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكٗا وَءَاتَىٰكُم مَّا لَمۡ يُؤۡتِ أَحَدٗا مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٢٠

حضرت حسن اور حضرت زید بن اسلم رحمہمااللہ سے مروی ہے کہ: جس شخص کے پاس گھر ہو ،بیوی ہو اور خادم ہو تو وہ بادشاہ ہے اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا بھی یہی قول ہے ۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے... اور کہا جاتا ہے کہ :جو شخص دوسروں کا محتاج نہ رہ جائے تو حقیقت میں وہ بادشاہ ہے۔(القرطبی: ۷؍393-394)
سوال: انسان کب بادشاہ کہلاتا ہے ؟اور انسان کب بادشاہ کی صفت والا ہوجاتا ہے؟اور کیا ہم نے اس نعمت کی قدر اور شکر گذاری کی؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 20

وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ جَعَلَ فِيكُمۡ أَنۢبِيَآءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكٗا وَءَاتَىٰكُم مَّا لَمۡ يُؤۡتِ أَحَدٗا مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٢٠

پس اللہ تعالیٰ نے ان پچھلے زمانوں میں یہ نعمتیں یعنی نبوت وبادشاہت اور ان کے علاوہ بھی دوسری نعمتیں تمہارے حصہ میں ڈال کر تمہیں تمام دنیا والوں پر فضیلت وعزت بخشی۔اس طرح تمہارے ساتھ اللہ نے فضل وکرم کا وہ سلوک وبرتاؤ کیا جو ایک محبت کرنے والا اپنے محبوب کے ساتھ اور باپ اپنے بیٹے کے ساتھ کرتا ہے ۔ مگر ان سب کے باوجود جب بھی تم نے نافرمانی کی تو اللہ نے اس کے بدلے میں تمہیں سزادی۔اور جب تم نے حکم ماننے سے انکار کیا تو اللہ تم پر غضبناک اور ناراض ہوگیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزت واکرام اور ذلت ورسوائی دراصل اللہ کی مشیئت وارادے کے بعدفرمانبرداری اور نافرمانی کے گرد گھومتی رہتی ہے ۔نیکی اور برائی کے مطابق آتی جاتی ہے ۔ (البقاعی: ۲؍ ۴۲۴)
سوال: دنیا کی اس زندگی میں نعمتوں کو حاصل کرنے اور سزاؤں (اور مشکلات) کو دورکرنے کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 23

قَالَ رَجُلَانِ مِنَ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمَا ٱدۡخُلُواْ عَلَيۡهِمُ ٱلۡبَابَ فَإِذَا دَخَلۡتُمُوهُ فَإِنَّكُمۡ غَٰلِبُونَۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَتَوَكَّلُوٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٣

(أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمَا) جن دولوگوں کو اللہ نے نعمت عطافرمائی تھی۔
یعنی: اسلام وایمان کی نعمت۔یا یقین اور نیکی واچھائی کی نعمت دی تھی۔
(ٱدۡخُلُواْ عَلَيۡهِمُ ٱلۡبَابَ فَإِذَا دَخَلۡتُمُوهُ فَإِنَّكُمۡ غَٰلِبُونَۚ) (اتنے بے ہمت اور بزدل نہ بنو۔)ہمت کرکے ان لوگوں پر جاپڑو اور(شہر کے) دروازے میں جا داخل ہو، اگر تم داخل ہوگئے تو پھر غلبہ تمہارے لئے ہی ہوگا ۔
ان دونوں نے بنی اسرائیل سے کہا: ان(شہر کے لوگوں)کے بھاری بھرکم جسم تمہیں خوف اور ہیبت میں بالکل نہ ڈالیں کیونکہ ان کے دل توخود تمہارے رعب ودبدبے سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کے دلوں پر تمہاری دہشت چھائی ہوئی ہے ۔پس ان کے تن بدن اور ڈیل ڈول تو مضبوط ہیں لیکن ان کے دل کمزور ہیں ۔وہ ڈھول کے پول ہیں۔ (القرطبی: ۷؍۳۹۶)
سوال: بنی اسرائیل کی حالت کانعمتوں اور عزت وبادشاہت سے ذلت وخواری کی طرف گراوٹ کا کیا سبب تھا؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 23

قَالَ رَجُلَانِ مِنَ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمَا ٱدۡخُلُواْ عَلَيۡهِمُ ٱلۡبَابَ فَإِذَا دَخَلۡتُمُوهُ فَإِنَّكُمۡ غَٰلِبُونَۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَتَوَكَّلُوٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٣

دونوں افراد نے اپنی مذکورہ بات(کہ شہر میں داخل ہوجاؤ...اللہ پر بھروسہ کرو۔)کے آخر میں کہااور یہ ضمیمہ لگایا:(إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ)اگر تم ایمان رکھنے والے ہو۔ اس لئے کہ رسولِ برحق کی سچائی میں شک کرنا،ایمان کو برباد کردیتا ہے۔ (ابن عاشور: ۶؍۱۶۵)
سوال: (موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے)دونوں آدمیوں نے (بنی اسرائیل کو) اپنی نصیحت کے ساتھ اس قول کا ضمیمہ کیوں لگایا : (إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ)؟