قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے






ﭿ

٦ ٦



٧ ٧



٨ ٨

٩ ٩
108
سورۃ المائدہ آیات 0 - 6

مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُم مِّنۡ حَرَجٖ ٦

(اللہ تمہیں کسی حرج میں نہیں ڈالنا چاہتا ہے) یعنی: نہ کسی تنگی میں اور نہ مشقت میں۔رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی اسی معنی میں ہے کہ: ‘‘دین اﷲ یسر’’ ۔ اللہ کا دین آسان ہے۔ (ابن جزی: ۱؍ ۲۲۹)
سوال: آیت میں ایک ایسی صفت کا بیان ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔وہ کیا ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 6

وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَلِيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ٦

محمد بن کعب قُرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں:آیت میں نعمت کے پوری کئے جا نے سے مراد، وضوء کے ذریعہ گناہوں کو مٹانا ہے۔ (البغوی: ۱؍ ۶۴۷)
سوال: وضوء کرنے والے کو کامل اور پوری نعمت کیسے ملتی ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 6

وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَلِيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكُمۡ

پانی اور مٹی کے ذریعہ ظاہری طہارت حاصل کرنا ،دراصل توحید اور خالص توبہ کے ذریعہ ملنے والی باطنی طہارت کی تکمیل ہے ۔ (السعدی: ۲۲۴)
سوال: ( غسل،وضوء اور تیمم کی) طہارت کے ذریعہ ہم پر نعمت پوری کئے جانے سے کیا مراد ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 7

وَٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ اپنے دلوں اور زبانوں سے اس کی نعمتوں کو یاد کریں کیونکہ نعمتوں کا ہمیشہ اور مسلسل ذکر کرتے رہنے سے اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری اور اس کی محبت کا جذبہ پیدا ہوتاہے اور آدمی کا دل اللہ کی احسان مندی سے لبریز ہوتا ہے۔ نیز اس کے ذریعہ دینی نعمتوں کے بارے میں نفس سے خود پسندی (گھمنڈ) کا خاتمہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی اللہ کے فضل واحسان میں زیادتی اور اضافہ ہوتارہتا ہے۔ (السعدی: ۲۲۴)
سوال: ایک مسلمان جب اپنے اوپر کی گئی اللہ کی نعمتوں کو مسلسل یا دکرتا ہے تو اسے کیا فائدہ ملتاہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 7

وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ٨

یعنی: دلوں میں چھپے اور بسے ہوئے افکار، راز واسرار اور کھٹک وخیالات سے اللہ پوری طرح واقف ہے ۔لہذا تم اس بات سے ڈرتے اور بچتے رہو کہ وہ تمہارے دلوں کی کسی ایسی بات پر مطلع ہوجائے جس سے وہ ناراض ہوتا ہے۔یا تم سے ایسا کوئی قول وعمل سرزد ہوجسے وہ ناپسندکرتا ہے۔ (السعدی: ۲۲۴)
سوال: مسلمان کو یہ معرفت اور جانکاری کیا فائدہ دیتی ہے کہ اللہ اس کے سینے کی باتوں کو خوب جانتا ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 8

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعۡدِلُواْۚ ٱعۡدِلُواْ هُوَ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۖ

حق اور سچائی کے ساتھ گواہی دو،نہ اپنوں کی حمایت وطرفداری کرو اور نہ دشمنوں کی مخالفت اور ان پر زیادتی کرو۔ (القرطبی: ۷؍۳۷۲)
سوال: مومن حق کو قائم کرنے والا کیسے بن سکتا ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 8

وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعۡدِلُواْۚ ٱعۡدِلُواْ هُوَ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۖ

(اللہ تعالیٰ نے دشمنان حق سے بغض اور دشمنی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔) جس بغض ونفرت کو اختیار کرنے کا خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ،جب اس نفرت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے بندے کو منع کیا ہے کہ جس سے نفرت اور بغض ہے اس پر بھی ظلم نہ کرو۔ تو پھر کسی تاویل اور بہانے ،شک وشبہ یا خواہشِ نفس کی بنیاد پر کسی مسلمان سے بغض اور دشمنی رکھنے کی گنجائش یا جواز کیسے ہوسکتا ہے؟ مسلمان تو زیادہ حقدار ہے کہ اس پر ظلم نہ کیا جائے بلکہ (لازمی طور سے ) اس کے ساتھ عدل وانصاف کیا جائے اور اس کا حق ادا کیاجائے۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۴۵۶)
سوال:آیت کی مدد سے وضاحت کیجیے کہ کس طرح دوسروں کے ساتھ عدل وانصاف کرنے کا عمل، اللہ کے نزدیک عظیم مرتبہ رکھتا ہے؟