قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٤٨ ١٤٨

١٤٩ ١٤٩


ﭿ
١٥٠ ١٥٠

١٥١ ١٥١


١٥٢ ١٥٢




١٥٣ ١٥٣


ﯿ ١٥٤ ١٥٤
102
سورۃ النساء آیات 0 - 148

لَّا يُحِبُّ ٱللَّهُ ٱلۡجَهۡرَ بِٱلسُّوٓءِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ إِلَّا مَن ظُلِمَۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ١٤٨

(إِلَّا مَن ظُلِمَۚ)مگر جس پر ظلم ہوا ہو۔یعنی:مظلوم کا ظالم کے متعلق بری بات کا علانیہ چرچا کرنا۔ لہذا مظلوم شخص کے لئے جائز ہے کہ وہ ظالم پر بددعا کرے اور یہ معنی بھی بیان کیا گیا کہ: مظلوم کے لئے اجازت ہے کہ وہ اپنے ساتھ کئے گئے ظلم کو کھلے عام بیان کرے ۔
آیت کے معنی میں ایک قول یہ بھی ہے :مظلوم کو اجازت ہے کہ اگر کسی نے ظلماً اسے گالی دی ہو ،برابھلا کہا ہو تو اس کے ظلم کی مانند اسے جواب دے سکتا ہے ۔(مثلاً چیخ چلاکر یا بآواز بلند برابھلا کہا ہوتو مظلوم بھی جواباً ایسا کرسکتا ہے ۔) (ابن جزی: ۱؍ ۲۱۶)
سوال: بری بات کا اعلان اور کھلے عام بیان کرنا،کب جائز ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 148

لَّا يُحِبُّ ٱللَّهُ ٱلۡجَهۡرَ بِٱلسُّوٓءِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ

آیت کے مضمون سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کواچھی بات پسند ہے۔ جیسے : ذکر واذکار اور اچھی اور نرم بات۔ (السعدی: ۲۱۲)
سوال: آیت کے مضمون سے ہمیں کس طرح معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے ؟

سورۃ النساء آیات 0 - 148

لَّا يُحِبُّ ٱللَّهُ ٱلۡجَهۡرَ بِٱلسُّوٓءِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ إِلَّا مَن ظُلِمَۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ١٤٨

اللہ تعالیٰ نے مظلوم کو ظالم کی بری بات کھلے عام بیان کرنے کی رخصت دی ہے تاکہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے اور وہ تلوار وہتھیار نہ اٹھالے اور ہاتھا پائی پر نہ اتر آئے۔ (ابن عاشور:۶؍۶)
سوال: شریعتِ اسلامیہ کا ایک حکیمانہ پہلو اور ضابطہ یہ ہے کہ بڑی برائی اور شر کو روکنے کے لئے اس سے کم تر برائی کو اختیار کیا جائے۔آیتِ کریمہ کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کریں.

سورۃ النساء آیات 0 - 149

إِن تُبۡدُواْ خَيۡرًا أَوۡ تُخۡفُوهُ أَوۡ تَعۡفُواْ عَن سُوٓءٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوّٗا قَدِيرًا ١٤٩

یہ آیت چھپے اور کھلے طور پر خیر وبھلائی کے کام کرنے کی رغبت دلاتی ہے ۔ساتھ ہی پچھلی آیت میں ظالم سے بدلہ لینے کی اجازت دینے کے بعد یہ آیت برائی کو معاف کردینے کی ترغیب بھی دیتی ہے اس لئے کہ اللہ کے نزدیک معاف کرنا انتقام اور بدلہ لینے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔اس بات پر زور دینے کے لئےاللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذاتِ اقدس کی صفت کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ سزا اور بدلہ دینے کی پوری قدرت رکھنے کے باوجود معاف کرتے رہتا ہے۔(ابن جزی: ۱؍۲۱۶)
سوال: معاف کردینا اور بدلہ لینا دونوں میں سے کون سا عمل جائز ہے اور کون سا عمل اللہ کے نزدیک مستحب اور پسندیدہ ہے ؟

سورۃ النساء آیات 0 - 149

أَوۡ تَعۡفُواْ عَن سُوٓءٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوّٗا قَدِيرًا ١٤٩

(أَوۡ تَعۡفُواْ عَن سُوٓءٖ) یا کسی برائی سے درگزر کرو۔ یعنی جو شخص تمہارے جسم وجان ،مال ودولت اور عز ت آبرو کے بارے میں تمہارے ساتھ برائی اور بدسلوکی کرے تو تم اسے معاف کردو۔ کیونکہ عمل جس قسم کا ہوتا ہے ،اس کا بدلہ بھی اسی قسم کاملتاہے۔ لہٰذا جو اللہ کے لئے دوسروں کو معاف کرتا ہے اللہ بھی اسے معاف کرتا ہے۔اور جو شخص دوسروں کے ساتھ احسان وبھلائی کرتا ہے (بدلہ میں) اللہ تعالیٰ اس پر احسان کرتا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کے معنی ومطلب کو سمجھنے او رسیکھنے کی طرف رہنمائی ہے اور خلق و امریعنی اللہ کی ساری تخلیق اور پیدا کرنے کے معاملات اور شرعی احکامات واوامراللہ کے ناموں اور صفتوں سے ہی صادر (واقع) ہوتے ہیں ۔اور خلق وامر یعنی مخلوق اور حکم ،انہی اسماء وصفات کے تقاضے ہیں ۔اسی لئےاللہ تعالیٰ احکام کی علت میں اسماء حسنیٰ کا ذکرفرماتا ہے جیسا کہ اس آیتِ کریمہ میں ہے۔ (السعدی؍۲۱۲)
سوال: قرآن کی آیات میں اکثر وبیشتر اللہ کے اسماء حسنیٰ کے ذریعہ احکام کی علت کیوں بیان کی جاتی ہے؟

سورۃ النساء آیات 150 - 151

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُواْ بَيۡنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٖ وَنَكۡفُرُ بِبَعۡضٖ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيۡنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ١٥٠ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ حَقّٗاۚ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٗا مُّهِينٗا ١٥١

اللہ تبارک وتعالیٰ ان یہود ونصاریٰ کو دھمکی دے رہا ہے جو اس کا اور اس کے رسولوں کا کفر وانکار کرتے ہیں ۔اس طرح سے کہ ایمان لانے میں وہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرتے ہیں چنانچہ بعض انبیاء کرام پر تو ایمان لے آئے مگر بعض کی نبوت کو نہیں مانا اور کفر کیا ۔ایسا انہوں نے صرف اپنی نفسانی خواہش ،عادت وروایت اور باپ دادا کے طریقے کی تقلید کی بناپر کیا ۔کسی دلیل کی رہنمائی وپیروی میں نہیں کیا بلکہ محض خواہشِ نفس اور تعصب میں ڈوب کر کفر کا یہ راسۃ اختیار کیا۔ (ابن کثیر: ۱؍ ۵۴)
سوال: آیت کریمہ نے اس شخص کا حکم بیان کیا ہے جو اللہ کے رسولوں پر ایمان لائے بغیر صرف اللہ پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے یا بعض رسولوں کو چھوڑ کر بعض کو ماننے کا دعویدار ہے ۔ اس(حکم)کو بیان کیجیے.

سورۃ النساء آیات 0 - 153

يَسۡـَٔلُكَ أَهۡلُ ٱلۡكِتَٰبِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتَٰبٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِۚ فَقَدۡ سَأَلُواْ مُوسَىٰٓ أَكۡبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوٓاْ أَرِنَا ٱللَّهَ جَهۡرَةٗ فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ بِظُلۡمِهِمۡۚ ثُمَّ ٱتَّخَذُواْ ٱلۡعِجۡلَ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ فَعَفَوۡنَا عَن ذَٰلِكَۚ وَءَاتَيۡنَا مُوسَىٰ سُلۡطَٰنٗا مُّبِينٗا ١٥٣

رسولوں کا یہ کام نہیں کہ وہ اپنی امتوں کی رائے اورمطالبہ کو قبول کرکے ان کے طلب کردہ معجزات کو (از خود) پیش کریں بلکہ معجزات تو اللہ کے ارادے اور مشیئت سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ (وہ بھی) اس وقت جب انبیاء کرام کو مقابلہ کی دعوت اور چیلنج کا سامنا ہو اور اگر اللہ تعالیٰ معجزات کے بارے میں لوگوں کی ہر تجویز اور مطالبہ کو قبول کرنے لگتا تو وہ خود اپنے رسولوں کی حیثیت جادوکا کرتب بتانے والے بازی گروں اور شعبدہ بازوں (مداریوں)کی طرح بنادیتا ۔ کیونکہ کرتب اور تماشا دکھانے والے محفلوں میں ،عوام اور خواص کی مجلسوں اور مجمعوں میں لوگوں کے من چاہے مطالبات کو بڑھ بڑھ کر قبول (منظور) کرتے ہیں؛ اور اس سے رسالت ونبوت کے مقام ومرتبہ میں گراوٹ اور کمی ہوجاتی۔ (ابن عاشور: ۶؍۱۴)
سوال: آیت کریمہ نبی ﷺ کے لئے تسلی اور دلاسہ ہے ۔اسے بیان کیجیے.