قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




١٣٥ ١٣٥

ﭿ


١٣٦ ١٣٦


١٣٧ ١٣٧
١٣٨ ١٣٨

١٣٩ ١٣٩


ﯿ
١٤٠ ١٤٠
100
سورۃ النساء آیات 0 - 135

إِن يَكُنۡ غَنِيًّا أَوۡ فَقِيرٗا فَٱللَّهُ أَوۡلَىٰ بِهِمَاۖ

یعنی : جس آدمی کے بارے میں انصاف اور فیصلہ کیا جارہا ہو، یاجس کے لئے گواہی دی جارہی ہو، اگر وہ مالدار ہو یا محتاج ہو تو اس کے حق میں فیصلہ کرنے یا اس کے خلاف فیصلہ کرنے میں نیز اس کے حق میں گواہی دینے یا اس کے خلاف گواہی دینے میں اس کی مالداری اثرانداز ہونا چاہئے نہ اس کی محتاجی کو وجہ بننا چاہئے ۔
اس حکم کا مقصدایسے حالات سے ڈرانا اور بچانا جن میں باطل حق سے خلط ملط ہوجاتا ہے اور انصاف کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور وہ اس طرح ہوتا ہے کہ کچھ ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں جن سے گمان ہوتاہے کہ ان حالات کا پاس ولحاظ کرنا مصلحتوں کو حاصل کرنے اور عدل وانصاف کی حفاظت کرنے کا ایک حصہ ہے ۔ (ابن عاشور: ۵؍۲۲۶)
سوال: کیا دوجھگڑنے والے فریقین میں سے کسی ایک کی مالداری یا فقیری کا قاضی کے فیصلہ یا گواہ کی گواہی میں اثر ہوتا ہے ؟

سورۃ النساء آیات 0 - 135

فَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلۡهَوَىٰٓ أَن تَعۡدِلُواْۚ وَإِن تَلۡوُۥٓاْ أَوۡ تُعۡرِضُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا ١٣٥

خواہشاتِ نفس کی پیروی ہلاکت خیز ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇﰈ ) (سورۂ ص:۲۶) پس آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجئے اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیجئے ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکادیگی۔
خواہشاتِ نفس کی پیروی ہے جوآدمی کو ناحق (جھوٹی ) گواہی دینے اور فیصلوں میں ظلم جیسے کاموں پر ابھارتی ہے ۔امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ عزوجل نے حکام سے تین چیزوں کا عہد وپیمان لیا ہے ۔ ایک یہ کہ وہ خواہشاتِ نفس کی پیروی نہیں کریں گے؛ دوسرے یہ کہ وہ لوگوں سے نہیں ڈریں گے صرف اللہ سے ڈریں گے؛ اور تیسرے یہ کہ اللہ کی آیتوں کو معمولی قیمت میں نہیں بیچیں گے( یعنی دنیاوی چیزوں کے بدلے دین کا سودا نہیں کریں گے)۔ (القرطبی:۷؍۱۷۸)
سوال: اتباعِ ہویٰ (خواہشاتِ نفس کے پیچھے چلنے ) کے کیا نقصانات ہیں؟

سورۃ النساء آیات 0 - 135

فَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلۡهَوَىٰٓ أَن تَعۡدِلُواْۚ

خواہشاتِ نفس سے آدمی کی بصیرت کھو جاتی ہے ،نتیجہ میں وہ حق کو باطل اور باطل کو حق دیکھنے اور سمجھنے لگتا ہے ۔یا پھر یہ ہوتا ہے کہ وہ حق کو پہچان تو لیتا ہے مگر اپنی خواہشِ نفس کی خاطراسے چھوڑدیتا ہے ۔ (السعدی: ۲۰۹)
سوال: نفس پرست کو خواہشاتِ نفس سے کیا خطرات لاحق ہوتے ہیں؟

سورۃ النساء آیات 0 - 139

ٱلَّذِينَ يَتَّخِذُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ أَيَبۡتَغُونَ عِندَهُمُ ٱلۡعِزَّةَ فَإِنَّ ٱلۡعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعٗا ١٣٩

اللہ تعالیٰ نے منافقین کی اس صفت کو نمایاں کرکے بیان فرمایا ہے جو مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ خطرناک ہے اور وہ صفت ہے : منافقین کا کافروں سے دوستی رکھنا اور ان سے ربط وضبط اور سانٹھ گانٹھ رکھنا نیز ان کا مومنوں سے بے وفائی اوردوری اختیار کرنا ۔اور اللہ تعالیٰ نے اس فساد وبگاڑ سے آگاہ کردیا تاکہ مسلمانوں میں سے کسی شخص کا غفلت ، لاعلمی یا نرم روی کی وجہ سے اس بابت کسی نقصان یا خرابی میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو وہ اس خطرے سے دوررہ کر خود کو محفوظ کرلیں۔ (ابن عطیہ: ۲؍ ۱۲۵)
سوال: منافقین کی تمام صفات مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ہیں ۔ان میں سے سب سے زیادہ ضرر رساں اور پرخطر صفت کو بیان کیجئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 139

ٱلَّذِينَ يَتَّخِذُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ أَيَبۡتَغُونَ عِندَهُمُ ٱلۡعِزَّةَ فَإِنَّ ٱلۡعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعٗا ١٣٩

(ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ) (سورۂ منافقون: ۸) ‘‘عزت تو صرف اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول کے لئے اور ایمان والوں کے لئے ہے۔ لیکن یہ منافق جانتے نہیں’’ ۔اس بیان کا مقصد ہے: مومنوں کو جوش وجذبہ دلانا کہ وہ عزت اللہ کی بارگاہ میں طلب کریں، اس کی بندگی کی طرف متوجہ ہوجائیں اور اس کے مومن بندوں کے زمرے میں شامل ہوجائیں ۔ (ابن کثیر: ۱؍ ۵۳۶)
سوال: اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندوں کو یہ خبر دینا کہ عزت صرف اللہ کے لئے ہے ۔اس کا کیا مقصد ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 140

وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ أَنۡ إِذَا سَمِعۡتُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَأُ بِهَا فَلَا تَقۡعُدُواْ مَعَهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦٓ

چونکہ “سورۂ اَنعام” کی آیت (جو مذکورہ آیت کے ہم معنی ہے) مکی تھی اس لئے اُس آیت میں صرف اعراض کرنے اور ان کی مجلسوں میں شرکت نہ کرنے پر اکتفا کیا گیا تھا اس لئے کہ( مکی دور میں) دل سے برا جاننے کے علاوہ کسی اور چیز کی طاقت نہیں تھی ۔مگر یہ (مذکورہ) آیت مدنی ہے ۔جہاں آیاتِ الٰہی کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو زبان سے اور ہاتھ سے روکنااور اس برائی کو بدلنا ہر مسلمان کے لئے ممکن تھا۔نتیجہ یہ نکلا کہ اب اگر کوئی شخص ایسے لوگوں کی مجلس میں خاموش رہے تو وہ ان کی برائی سے راضی مانا جائیگا۔ (البقاعی: ۲؍ ۳۳۷)
سوال: آیاتِ الٰہی کا استهزاء کرنے والوں سے “سورۂ اَنعام” میں صرف اعراض کرنے کا حکم ہے اور یہاں ان کی ہم نشینی اور مجلس میں شرکت نہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے ۔کیوں؟

سورۃ النساء آیات 0 - 140

وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ أَنۡ إِذَا سَمِعۡتُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَأُ بِهَا فَلَا تَقۡعُدُواْ مَعَهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦٓ إِنَّكُمۡ إِذٗا مِّثۡلُهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ جَامِعُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡكَٰفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا ١٤٠

(فِي جَهَنَّمَ)جہنم میں۔جو حقیقی بادشاہ کا قید خانہ ہے۔ (جَمِيعًا) اکٹھا کرکے۔جس طرح کفر کی مجلس نے انہیں کا فروں کے ساتھ اکٹھا کردیاتھا۔ وہ کفر جو بادشاہ کی بادشاہت میں عیب لگانے کے مترادف ہے۔لہذا ایسے کفرواستہزاء کی باتیں کرنے والے کفار اور ان کی باتوں میں شریک ہونے والے منافقین سب جہنم میں اکٹھےکردیئے جائیں گے۔کافروں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے انہیں کفر میں کافروں کے برابر ٹھہرانا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص کسی گنہگارکے ساتھ میل جول رکھتا ہے اور اس کے گناہ پر نکیر نہیں کرتا تو وہ بھی گنہگار کے گناہ میں برابر کا شریک ہے’’۔(البقاعی: ۲؍۳۳۷)
سوال: اللہ تعالیٰ کافروں اور منافقوں کو جہنم میں اکٹھاکیوں کرے گا؟