قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ٦٢ ٦٢ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ٦٣ ٦٣ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ٦٤ ٦٤ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ٦٥ ٦٥ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ٦٦ ٦٦ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
٦٧ ٦٧ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ٦٨ ٦٨ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ٦٩ ٦٩
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱلَّذِينَ هَادُواْ وَٱلنَّصَٰرَىٰ وَٱلصَّٰبِٔينَ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَلَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٦٢
یہ قرآن کا طریقہ ہے کہ جب آیتوں کے سیاق میں کسی مقام پر بعض لوگوں کے دلوں میں کوئی وہم اور غلط فہمی پیدا ہوتی ہو تو آپ لازمی طور پر ایسا بیان پائیں گے جو اس وہم کا ازالہ کردیتا ہے اس لئے کہ یہ اس ذات کا اتاراہوا کلام ہے جسے تمام چیزیں ان کے وجود میں آنے سے پہلے ہی سے معلوم ہیں اوراس کی رحمت ہر چیز کوشامل ہے ۔
اوریہاںوہم کا ازالہ اس طرح ہے ۔واﷲ أعلم۔کہ جب (پچھلی آیات میں)اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا ذکر کرکے ان کی مذمت کی اور ان کے گناہوں اور بری کرتوتوں کا تذکرہ کیا تو بعض لوگوں کے دل میں بسا اوقات یہ خیال پیدا ہوسکتاتھا کہ اس مذمت میں بنی اسرائیل کے تمام افراد شامل ہیں ،لہٰذا باری تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی کچھ ایسی پہچان کے ساتھ وضاحت فرمادی جواس مذمت سے باہراور الگ ہیں (وہ ان میں سے ایمان لانے والے لوگ ہیں) اور چونکہ یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر بنی اسرائیل کا ذکر کیا ہے اس سے یہ وہم پیدا ہوسکتا ہے کہ مذکورہ باتیں صرف بنی اسرائیل کے ساتھ خاص ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے (مذکورہ آیت میں)ایک عمومی حکم بیان کردیاہے،جو تمام گروہوں(اہل مذاہب) کوشامل ہے تاکہ حق واضح ہوجائے اور وہم واشکال دور ہوجائے۔ ( السعدی: ۵۴)
سوال:بنی اسرائیل کی برائیوں کے ذکر کے بعد اس عام آیت کے لانے کی کیا وجہ ہے؟
وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُواْ مَآ ءَاتَيۡنَٰكُم بِقُوَّةٖ
یہاں(قُوَّةٍ)سے مراد کوشش اور محنت کرنا اور سستی وغفلت برتنے سے بچناہے۔(الألوسی:۱؍۲۸۱)
سوال:آیت میں اللہ کے نازل کردہ حکم کو ‘‘قوت کے ساتھ پکڑ لینا’’کس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے؟
وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ ٱلَّذِينَ ٱعۡتَدَوۡاْ مِنكُمۡ فِي ٱلسَّبۡتِ فَقُلۡنَا لَهُمۡ كُونُواْ قِرَدَةً خَٰسِٔينَ ٦٥
اس آیت میں یہودیوں کی زیادتی اور نافرمانی کا دن ہفتہ کو بتایاگیا ہے حالانکہ وہ مچھلیاں پکڑنے کے لئے گڑہے کی کھدائی جمعہ کے دن کرتے تھے ۔ کیونکہ اس کھدائی کا نتیجہ جس پر نافرمانی مرتب ہوئی ہے وہ ہفتہ کے دن واقع ہوتا تھا، وہ ہے مچھلیوں کا حوض میں داخل ہونا(یعنی مچھلیاں ہفتہ کے دن حوض میں آتی تھیں، جبکہ ہفتہ کے دن یہودیوں کوکمائی سے روک دیا گیا تھا)۔(ابن عاشور:۱؍۵۴۴)
سوال:یہودیوں کی نافرمانی و زیادتی کا دن ہفتہ کو کیوں بتایا گیاجب کہ انہوں نے جمعہ کے دن (شکار کے )گڑھے کھودے تھے؟
فَجَعَلۡنَٰهَا نَكَٰلٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهَا وَمَا خَلۡفَهَا وَمَوۡعِظَةٗ لِّلۡمُتَّقِينَ ٦٦
(بنی اسرائیل کو ملنےوالی سزا تمام قوموں کے لئے نصیحت ہے) لیکن یہ نصیحت صرف متقی لوگوں کے لئے فائدہ مندہوتی ہے،رہے ان کے علاوہ دوسرے لوگ وہ تو اللہ کی آیات سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔(السعدی:۵۴)
سوال:وعظ ونصیحت کو متقیوں کے ساتھ خاص کیوں کیا گیا؟
وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تَذۡبَحُواْ بَقَرَةٗۖ
ماوَردی( رحمہ اللہ) کہتے ہیں:کسی دوسرے جانور کے بجائے گائے کو ذبح کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا ۔واﷲ أعلم۔کیونکہ وہ اس بچھڑے کی جنس سے ہے ،جس کی انہوں نے عبادت کی تھی۔چنانچہ یہ حکم دیا گیا تاکہ ان کے دلوں سے گائے،بیل کی عظمت نکل جائے اور انہیں معمولی سمجھنے لگیں اور ساتھ ہی اس حکم کو قبول کرنے سے یہ معلوم ہوجائے کہ ان کے دلوں میں بچھڑے کی عبادت کا کتنا اثر باقی ہے!(القرطبی:۲؍۱۷۷)
سوال:اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا،اس کی کیا حکمت تھی؟
قَالُوٓاْ أَتَتَّخِذُنَا هُزُوٗاۖ قَالَ أَعُوذُ بِٱللَّهِ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ ٦٧
(یہ استہزاء سے براءت کا اظہار ہے)اس لئے کہ یہ عقل وفضل والوں کو زیب نہیں دیتا کیونکہ یہ مزاح سے زیادہ خاص(معنی رکھتا)ہے۔اس لئے کہ‘‘استہزاء’’ میں ہنسی مذاق کے ساتھ ساتھ سامنے والے کی بے عزتی اور تحقیر بھی شامل ہوتی ہے ۔ جبکہ مزاح (ہنسی مذاق) بھی عام محفلوں اورتقریروں کے مقام پر زیب نہیں دیتا۔ علاوہ ازیں یہ رسول کے مقام ومرتبہ کے لائق اورشایانِ شان بھی نہیں ہے اسی لئے موسیٰ( علیہ السلام )نے اس سے براء ت کا اظہار کیا۔(ابن عاشور:۱؍۵۴۸)
سوال:موسیٰ(علیہ السلام)نے اپنی قوم کے سوال کا جواب: (میں ایسا جاہل ہونے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) کے ذریعے کیوں دیا؟
قَالُواْ ٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَۚ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٞ لَّا فَارِضٞ وَلَا بِكۡرٌ عَوَانُۢ بَيۡنَ ذَٰلِكَۖ فَٱفۡعَلُواْ مَا تُؤۡمَرُونَ ٦٨ قَالُواْ ٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا لَوۡنُهَاۚ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٞ صَفۡرَآءُ فَاقِعٞ لَّوۡنُهَا تَسُرُّ ٱلنَّٰظِرِينَ ٦٩
گائے ذبح کرنے کے حکم پر اگر وہ کھودکرید نہ کرتے تو کوئی معمولی سی گائے بھی ان کے لئے کافی ہوجاتی لیکن انہوں نے سوال درسوال کرکے شدت برتی تو نتیجہ میں ان پر بھی سختی کی گئی۔بالآخر معاملہ اس گائے تک جا پہنچا جسے(بیان کردہ اوصاف کے ساتھ)ذبح کرنے کا انہیں حکم دیا گیا ۔ ایسی گائے انہیں ایک آدمی کے پاس ملی جس کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسری گائے نہیں تھی۔(چنانچہ اس سے جب طلب کی گئی )تو اس نے کہا:اللہ کی قسم! میں اس کی کھال بھر سونے کی قیمت پردوں گا،اس سے کچھ بھی کم نہیں لوں گا۔پھر انہوں نے وہ گائے خریدی اور اسے ذبح کردیا۔( ابن کثیر:۱؍۱۰۳)
سوال:دین میں سختی اور شدت برتنے کا کیا نقصان اور خطرہ ہے؟