قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٤٢ ٤٢

٤٣ ٤٣

٤٤ ٤٤

ﭿ
٤٥ ٤٥


٤٦ ٤٦


٤٧ ٤٧



٤٨ ٤٨

٤٩ ٤٩
ﯿ
٥٠ ٥٠
409
سورۃ الروم آیات 0 - 42

قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ

پچھلی امتوں كے انجام كار پر غور وفكر كرنے كیلئے زمین كے اندر سیر وسیاحت کا جو حکم ہے اس میں بدنى سیاحت كے ساتھ قلبى سیاحت بھى داخل ہے ۔(السعدى: 643)
سوال: غور وفكر كیلئےزمین میں سیاحت كرنا كیا صرف سفر پر منحصر ہے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 42

فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلُۚ كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّشۡرِكِينَ ٤٢

چنانچہ ان(سابقہ معذب اقوام) كے كرتوتوں جیسا كرنے سے بچیں (ورنہ) آپ لوگوں کے ساتھ بھی ان کے جیسا ہی سلوک کیاجائے گا ؛ كیونكہ الله كا عدل اور اسكى حكمت ہرزمانے اور ہرجگہ كیلئےہے۔ (السعدى: 643)
سوال: پچھلی امتوں كے انجام كار میں غور وفكر كركے ایك انسان كیا فائده اٹھاتا ہے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 42

قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلُۚ كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّشۡرِكِينَ ٤٢

فرمانِ الٰہی (كان أكثرهم مشركين) جملہ استئنافیہ ہے (یعنی نیاجملہ ہے) ، اس بات پر دلالت كرنے كیلئے كہ صرف شرك ہى تمام لوگوں کی بربادی کا سبب نہیں تھا، بلکہ وہ اکثر لوگوں کی بربادی کا سبب تھا، اور شرک سے کمترگناہ بھی کچھ لوگوں کی بربادی کا سبب تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے (کہ یہ کہاجائے) کہ یہ اس بات پر دلالت کرنے کے لئے ہے کہ ان کا برا انجام ان کے درمیان شرک کے پھیلنے اور اس کے غالب ہونے کی وجہ سے ہے پس اس میں شرک کی سنگینی کا بیان ہے کہ یہ اتنا بڑا فتنہ ہے جو خاص طور پر صرف ظالموں کو لاحق نہیں ہوتاہے (بلکہ دوسرے بھی اس کی لپیٹ میں آتے ہیں)۔ (الألوسى: 11؍49)
سوال: پچھلى امتوں كى ہلاكت كے كیا اسباب ہیں؟اور ان میں سب سے بڑا سبب كیا ہے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 45

إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٤٥

(اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا ہے)اس كے باوجود وه ان كے ساتھ بھى انصاف كرتاہے ظلم نہیں كرتا۔(ابن كثیر: 3؍420)
سوال: كیا عدم محبت ظلم كا متقاضى ہے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 46

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن يُرۡسِلَ ٱلرِّيَاحَ مُبَشِّرَٰتٖ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحۡمَتِهِۦ

چنانچہ الله تعالىٰ اپنى رحمت كى بارش تم پر نازل كرتا ہے جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہردوڑجاتی ہے، اور اسكى رحمت كا مزه تمہیں ملتا ہے جس سے تمہیں معلوم ہوتا ہے كہ اسكى رحمت ہى بندوں کے لئے سامان نجات اور روزی کا سبب ہے تو تمہارے اندر ان نیک اعمال کو بکثرت انجام دینے کا شوق پیداہوتا ہے جو رحمت کے خزانوں کوکھول دینے والے ہیں۔ (السعدى: 643)
سوال: ایك مسلمان جب الله تعالىٰ كى رحمت كا مزه پاتا ہے تو اس پر كیسا اثر ہوتا ہے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 47

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ رُسُلًا إِلَىٰ قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَٱنتَقَمۡنَا مِنَ ٱلَّذِينَ أَجۡرَمُواْۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيۡنَا نَصۡرُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٤٧

(وكان حقًا علينا نصر المؤمنين) مومنوں كى مدد اور عذاب سے بچانا ہمارے اوپر حق ہے، اس كےاندر نبى كریم ﷺ كو یہ خوشخبرى دى گئى ہے كہ آخركار كامیابى اور دشمنوں پر غلبہ آپ ہى كو ملےگا۔ حسن بصرى رحمہ اللہ نے كہا: امتوں پر جو عذاب آتاتھا اس عذاب سے اللہ نے رسولوں کے ساتھ ان پر ایمان لانے والوں کو بچالیا۔(البغوى: 3؍500)
سوال: كیا اہل باطل كے طویل تسلط سے مومنوں كو مایوس ہوجانا چاہیئے؟ آیت كى روشنى میں اس كى وضاحت كریں.

سورۃ الروم آیات 49 - 50

وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيۡهِم مِّن قَبۡلِهِۦ لَمُبۡلِسِينَ ٤٩ فَٱنظُرۡ إِلَىٰٓ ءَاثَٰرِ رَحۡمَتِ ٱللَّهِ كَيۡفَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٥٠

(من قبله) كو مكرر لایا گیا ہے تاكید كیلئے، اور تاكہ یہ بتایا جائے كہ انسان كے دل جلدى سے كیسے مایوسى سے خوشى كى طرف پلٹ جاتےہیں ۔ (ابن جزى: 2؍170)
سوال: (من قبل)،كے لانے كے بعد اسى آیت میں پھر (من قبله) لانے میں كیا حكمت اور راز ہے؟