قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﰿ


٦٩ ٦٩



ﭿ

٧٠ ٧٠




٧١ ٧١

٧٢ ٧٢



ﯿ ٧٣ ٧٣
136
سورۃ الأنعام آیات 0 - 69

وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنۡ حِسَابِهِم مِّن شَيۡءٖ وَلَٰكِن ذِكۡرَىٰ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ ٦٩

آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ وعظ ونصیحت کرنے والے کو ایسی گفتگو کا انتخاب کرنا چاہئے جس سے تقویٰ کا مقصد حاصل ہونے کا زیادہ امکان ہو۔ (السعدی: ۲۶۱)
سوال: لوگوں کو وعظ ونصیحت کرتے وقت داعی کو اپنے سامنے کونسا ہدف ومقصد رکھنا ضروری ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 70

وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ دِينَهُمۡ لَعِبٗا وَلَهۡوٗا وَغَرَّتۡهُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَاۚ

یعنی: اگرچہ آپ کو انہیں وعظ ونصیحت کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن ان سے دل نہ لگائیے اس لئے کہ وہ ہٹ دھرم لوگ ہیں۔ اور (لَعِبٗا وَلَهۡوٗا) کھیل اور تماشا۔ سے یہ معنی مراد ہے: اس دین کی ہنسی اڑانا جس کی آپ انہیں دعوت دے رہے ہیں۔ نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ: انہوں نے اس دین کو ہنسی مذاق بنالیاجس پر وہ خود تھے،چنانچہ انہوں نے اپنے دین پر عمل نہیں کیااور کسی بھی دین ومذہب كا ہنسی مذاق اڑانا درست نہیں ہے۔ (القرطبی: ۸؍۴۲۳)
سوال: اللہ کے دین کو کھیل تماشا بنانا کس طرح ہوتا ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 70

وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ دِينَهُمۡ لَعِبٗا وَلَهۡوٗا وَغَرَّتۡهُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَاۚ

اس جگہ (ٱلۡحَيَوٰةُ) یعنی زندگی کا تذکرہ بر موقع اور انتہائی مفید ہے ۔وہ اس طرح کہ ان لوگوں کی دنیا سے بس یہی چاہت ہے کہ اس میں زندہ رہیں ،جیتے رہیں،دنیا میں کمائی جانے والی اُن بھلائیوں ونیکیوں سے ان کو دلچسپی نہیں ہے جن کے نتیجہ میں آخرت کی سعادت حاصل ہوتی ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ: دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا ہے اور اس وہم میں مبتلا کردیا ہے کہ دنیا کی زندگی کے بعدکوئی زندگی نہیں ہے۔ (ابن عاشور: ۷ٖ؍۲۹۶)
سوال: آیت کریمہ میں حیات کے ذکر کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 70

وَذَكِّرۡ بِهِۦٓ

یعنی قرآن کے ذریعہ وعظ ونصیحت کیجئے جو بندوں کے لئے فائدہ مند ہے ۔قرآن کے احکام کو بیان کرکے اور اس کی تفصیلات بتا کر ۔نیز قرآن میں جو خوبیاں اور اچھائیاں ہیں انہیں ذکر کرکے ،خوبصورت اور دلکش انداز میں اسے پیش کیجئے ۔اسی طرح جو چیزیں بندوں کے لئے نقصان دہ ہیں، ان سے منع کرتے ہوئے اور ممنوع چیزوں کی مختلف قسموں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے قرآنی وعظ ونصیحت کرتے رہئے۔ (السعدی: ۲۶۱)
سوال: دعوت اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کرنے میں قرآن کے استعمال کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 70

وَذَكِّرۡ بِهِۦٓ أَن تُبۡسَلَ نَفۡسُۢ بِمَا كَسَبَتۡ

یعنی: نفس اپنے گناہوں کی بدولت ان کاموں سے روک دیا جائے جن کو کرنے سے اسے دنیا اور آخرت کی نجات مل سکتی ہے ۔ اس لئے کہ آدمی کے گناہ اسے قیدی بنالیتے ہیں اسے گرفتار کرلیتے ہیں اور جکڑ کر توحید کی فضا میں چلنے پھرنے سے روک دیتے ہیں ۔اور گناہ بندے کو نیک اعمال کے اچھے نتائج وثواب سے محروم کردیتے ہیں۔اس طرح گنہگار ونافرمان شخص یہاں دنیا میں بھی محروم ہوگا اور وہاں آخرت میں بھی ۔ (السعدی: ۲۶۱)
سوال: گناہ، گنہ گار کے لئے قید اور گرفت ہے ۔اس بات کو آیت کے تناظر میں بیان کیجئے.

سورۃ الأنعام آیات 0 - 71

قُلۡ أَنَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعۡقَابِنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِي ٱسۡتَهۡوَتۡهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِي ٱلۡأَرۡضِ حَيۡرَانَ لَهُۥٓ أَصۡحَٰبٞ يَدۡعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلۡهُدَى ٱئۡتِنَاۗ

کچھ لوگ ایسے ہیں جو تمام معاملات میں یا اکثر معاملات میں ہدایت کی طرف بلانے والے کے ساتھ ہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس کے بالکل برعکس یعنی داعئ ضلالت کے ساتھ ہوتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے نزدیک ہدایت اور گمراہی دونوں کے داعی برابر اور ایک جیسے ہوتے ہیں اور دونوں اپنی اپنی جانب کھینچتے ہیں ۔ ان دومخالف کشش کے مقام پرنیک بخت اوربدبخت کی پہچان ہوتی ہے۔(السعدی: ۲۶۱ـ۲۶۲)
سوال: داعئ ہدایت یعنی ہدایت کی طرف بلانے والے کے سامنے لوگوں کی کتنی قسمیں ہوتی ہیں ؟اور آپ کس قسم میں ہونے کی امید رکھتے ہیں؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 71

كَٱلَّذِي ٱسۡتَهۡوَتۡهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِي ٱلۡأَرۡضِ حَيۡرَانَ لَهُۥٓ أَصۡحَٰبٞ يَدۡعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلۡهُدَى ٱئۡتِنَاۗ قُلۡ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلۡهُدَىٰۖ وَأُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٧١

(لَهُۥٓ أَصۡحَٰبٞ) اس کے کچھ ساتھی ہیں۔ مراد رُ فقاء واحباب ہیں جو اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں یعنی : اسےہدایت کے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: ہمارے پاس آجا۔لیکن وہ بھٹک گیا ہے اور ان سے دورہوگیاہے چنانچہ ان کی بات نہیں مانتا ۔یہ سب کچھ ایسے شخص کی مثال بیان کی گئی ہے جو دین کے معاملے میں ہدایت سے بھٹک جائے ،گمراہی میں پڑجائے ۔اب اسے اسلام کی طرف واپس بلایا جاتا ہے لیکن وہ اس ۔سچی اور اچھی۔دعوت کو قبول نہیں کرتا۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۲۷۵)
سوال:آیت کی روشنی میں بیان کیجئے کہ (حَيۡرَانَ) بھٹکا اور کھویا ہواکون ہے؟