قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے





ﭿ

٣ ٣



٤ ٤





ﯿ ٥ ٥
107
سورۃ المائدہ آیات 0 - 3

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحۡمُ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلۡمُنۡخَنِقَةُ وَٱلۡمَوۡقُوذَةُ وَٱلۡمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسۡتَقۡسِمُواْ بِٱلۡأَزۡلَٰمِۚ

یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے اور جان لیجئے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ جو کچھ حرام قرار دیتا ہے تو دراصل اپنے بندوں کی حفاظت کے لئے اور ان حرام چیزوں میں موجود نقصان سے انہیں بچانے کے لئے حرام ٹھہراتا ہے لیکن اس کی حکمت کو بندوں کے سامنے وہ کبھی بیان فرماتا ہے اور کبھی بیان نہیں کرتا ۔(السعدی: ۲۱۹)
سوال: عبادت کے کاموں کو کرنے کے لئے کیا ان کی حکمت کا جاننا ضروری ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 3

ٱلۡيَوۡمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَٱخۡشَوۡنِۚ

یعنی: تمہارے لئے بلکہ تم میں سے کسی کے لئے بھی اب کافروں سے موافقت کے اظہارکا کچھ بھی بہانہ باقی نہیں رہا اور نہ ہی ان (کافروں) میں سے کسی سے چھپ کر رہنے کی ضرورت رہ گئی۔ پس میں تمہیں خبر دے رہا ہوں —جبکہ تم میرے علم کی وسعت سے بخوبی واقف ہو—کہ کافروں کی قوتیں جواب دے چکی ہیں ،ان کا زور ٹوٹ چکا ،ان کے ارادے بے جان ہوگئے ،وہ ہمت ہار چکے ہیں، ان کا غرورمٹی میں مل گیا ہے اور ان کے عزائم پست ہوچکے ہیں۔لہذا ان کی یہ امید ٹوٹ چکی ہے کہ وہ تم پر غالب ہوں گے یا تمہیں کسی بھی شکل میں اپنے دین کی طرف مائل کرسکیں گے ۔اس لئے کہ انہوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ تمہارے دین کے منارے پائیداری کے ساتھ قائم ہوچکے ہیں اور لوگوں کے بیچ اس کا ستارہ بلندی پر پہنچ چکا ہے ۔ (البقاعی: ۲؍ ۳۹۲)
سوال: کفار ، دینِ اسلام سے مایوس کیوں ہوگئے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 3

ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ

جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ روپڑے تو نبی ﷺ نے پوچھا: ‘‘مَايُبْكِیْكَ یَا عُمَر؟’’ اے عمر! کس بات پر رورہے ہو؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ بات رلا رہی ہے کہ اب تک معاملہ یہ تھا کہ ہمارا دین بڑھتا جارہا تھا اب جبکہ یہ مکمل ہوگیا ہے تو کوئی بھی چیز ہو کامل ہونے کے بعد ہمیشہ گھٹتی ہی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا: ‘‘صَدَقْتَ’’ تم نے سچ کہا۔ (البغوی: ۱؍ ۶۳۶)
سوال: اس آیت کریمہ پر غور وتدبر کرتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کیوں روپڑے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 3

ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ

(چونکہ دین مکمل ہے) اسی لئے دین کے اصولی احکام ہوں یا فروعی ، (عقائد ہو ں یا دیگر احکام ومسائل) ان تمام احکامات میں کتاب وسنت پوری طرح کافی ہیں۔ لہٰذا ہر وہ شخص جو تکلّف و بناوٹ میں پڑ کر یہ گمان کرتا ہے کہ عقائد واحکام جاننے کے لئے لوگ کتاب وسنت کے علوم کے علاوہ دیگر علوم کے محتاج ہیں جیسے ‘‘علمِ کلام’’ (عقائد وایمان کے مسائل کو فلسفہ ومنطق پر مشتمل عقلی دلائل سے ثابت کرنے کا علم) وغیرہ کو ضروری سمجھے تو وہ جاہل ہے۔ اس کا دعویٰ باطل ہے ۔وہ اس گمان میں مبتلا ہے کہ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے اور جس کی طرف دعوت دے رہا ہے اس کے بغیردین مکمل ہی نہیں ہوتا ۔ یقیناًیہ بہت بڑا ظلم ہے نیز اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو جاہل ٹھہرانا ہے ۔ (السعدی: ۳۲۰)
سوال: اہلِ بدعت کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ علم کلام وغیرہ میں گہری نظر اور باریک بینی سے کام لیتے اور کتاب وسنت کے ساتھ سستی اورلاپرواہی برتتے ہیں۔ آیت کی مدد سے اس بات کی وضاحت کیجیے.

سورۃ المائدہ آیات 0 - 4

وَمَا عَلَّمۡتُم مِّنَ ٱلۡجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُۖ

اللہ کا قول: (تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُۖ ) جو کچھ اللہ نے تمہیں سکھایا اور تعلیم دے رکھی ہے اس سے تم شکاری جانوروں کو سکھاتے اور تربیت دیتے ہو۔
یہ جملہ حالِ ثانی (دوسرا حال)ہے ۔ (پہلا حال (مُكَلِّبِينَ)ہے)۔
صاحبِ کشّاف (زمخشری رحمہ اللہ) نے کہاکہ: یہاں حال کی تکرار سے ایک فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ علم حاصل کرنے والے ہر شخص کو چاہئے کہ اسی سے علم سیکھے جو اہل علم میں سب سے زیادہ گہرا اور وسیع علم والا ہو ،زیادہ تجربہ کار ہو ، علمی نکتوں اور حقائق تک پہنچنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔خواہ اس کے لئےلمبے سفر کی مشقتیں جھیلنے کی ضرورت پڑے ۔کتنے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اناڑی اور ناتجربہ کار سے علم حاصل کرکے اپنی زندگی کے قیمتی دنوں کو ضائع اور برباد کردیا اور ماہرین کا سامنا ہونے پر دانتوں تلے اپنی انگلیاں دبالیں ۔ (ابن عاشور:۶؍۱۱۵)
سوال: جو شخص ناتجربہ کار اور نوسیکھئے سے علم حاصل کرے اس کا کیا انجام ہوتا ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 4

وَمَا عَلَّمۡتُم مِّنَ ٱلۡجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُۖ فَكُلُواْ مِمَّآ أَمۡسَكۡنَ عَلَيۡكُمۡ

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ عالم کو جو فضیلت حاصل ہے وہ جاہل کو میسر نہیں ہے اس لئے کہ کتاجب علم والا(تربیت یافتہ) ہوجائے تو اسے دوسرے تمام کتوں پربرتری حاصل ہوجاتی ہے چنانچہ جب کوئی انسان علم والا ہوجائے تو وہ زیادہ لائق ہے کہ اسے دوسرے تمام لوگوں پر فضیلت وبرتری حاصل ہو ۔ خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنے علم پر عمل بھی کرے۔ (القرطبی: ۷؍۳۱۳)
سوال: آیت سے علم اور اہلِ علم کی جو فضیلت معلوم ہوتی ہے اسے بیان کیجیے.

سورۃ المائدہ آیات 0 - 5

إِذَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ

مَہر اور حقِ زوجیت کی عورتوں کی طرف نسبت کرنے میں یعنی اللہ نے جو (أُجُورَهُنَّ) “ان کے مہر” کہا ہے اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت اپنے پورے حق مہر کی تنہا مالک ہے ۔اس میں کسی اور کا کچھ بھی حصہ نہیں ہے ۔ہاں مگر یہ کہ عورت خود اپنی مرضی سے اسے اپنے شوہر کو یا ولی وسرپرست کو یا کسی اور کو دے دے۔ (السعدی: ۲۲۲)
سوال:آیت کس طرح بتاتی ہے کہ عورت اپنے مہر کی پوری طرح مالک ہے؟