قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٤٣ ٤٣



٤٤ ٤٤

ﭿ
٤٥ ٤٥

٤٦ ٤٦


٤٧ ٤٧

٤٨ ٤٨

٤٩ ٤٩

٥٠ ٥٠

٥١ ٥١

٥٢ ٥٢
261
سورۃ إبراهيم آیات 0 - 43

مُهۡطِعِينَ مُقۡنِعِي رُءُوسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ إِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡۖ وَأَفۡـِٔدَتُهُمۡ هَوَآءٞ ٤٣

(مهطعين) تیزی سے۔ نہ دائیں جانب مڑیں گے نہ بائیں جانب۔ اور نہ انہیں اپنے قدم پڑنے کی جگہیں سمجھ میں آئے گی۔ (لا يرتد إليهم طرفهم)ان کی نگاہیں خود ان کی اپنی طرف بھی نہ پھر سکیں گی۔سخت منظر اور نظر کے چندھیا جانے کی وجہ سے ان کی نگاہیں خود ان کی طرف نہیں پلٹیں گی۔وہ ٹکٹکی باندھے کھلی اور پھٹی ہوئی ہوں گی۔ دراصل سامنے موجود منظر انہیں بے سدھ اور غافل کردیگا۔ (وأفئدتهم هواء) اور ان کے دل خالی ہوں گے۔ گھبراہٹ اور خوف کی وجہ سے اڑے جارہے ہوں گے۔ ان کے دل سینوں سے اچھل کر ان کے گلے میں اٹک جائیں گے۔پھر نہ ان کے منہ سے باہر نکل پائیں گے اور نہ ہی اپنی جگہ لوٹ سکیں گے۔ (البغوی: ۲؍۵۶۸)
سوال: کیا آپ نے دنیا میں مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کی سخت گیری،پکڑ،سنگ دلی اور بے مروتی کو دیکھا ہے؟بتائیے قیامت کے دن ان لوگوں کا کیا حال ہوگا؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 43

لَا يَرۡتَدُّ إِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡۖ

وہ دہشت وہولناکی،فکر وپریشانی اور اپنے اوپر پڑنے والی مصیبت اور عذاب کے ڈر وخوف میں اتنا زیادہ گھرے ہوئے ہوں گے کہ اس کی وجہ سے وہ ٹکٹکی باندھے مسلسل دیکھ رہے ہوں گے،لمحہ بھر کے لئے بھی پلکیں نہیں جھپکاسکیں گے۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۲۲)
سوال: قیامت کے دن ظالم لوگوں کی نگاہیں خود ان کی طرف بھی نہیں پلٹیں گی اور وہ اپنی آنکھیں بند کرنے یا پلک جھپکانے کی بھی طاقت نہیں رکھ سکیں گے۔ کیوں؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 44

وَأَفۡـِٔدَتُهُمۡ هَوَآءٞ ٤٣

یعنی:حیرت،گھبراہٹ اور دہشت کے بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کے دل عقل وفہم اور سوجھ بوجھ سے خالی ہوجائیں گے۔اسی معنی میں بزدل اور بیوقوف آدمی کے لئے استعمال کرتے ہیں(قَلْبُہُ هَوَآءٌ) اس کا دل خالی ہے یعنی اس میں نہ ہمت ہے،نہ سوچ۔ (الالوسی: ۱۴؍۳۱۰)
سوال:دل (هواء) یعنی خالی کیسے ہوتا ہے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 45

وَضَرَبۡنَا لَكُمُ ٱلۡأَمۡثَالَ ٤٥

یعنی: قوم ثمود اور ان کی طرح دوسری قوموں کی مثالیں ہم تم سے بیان کرچکے ہیں،پھر ہم نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا،ان پر عذاب نازل کرکے تباہ وبرباد کردیا۔یہ سب تمہیں واضح طور پر معلوم ہوچکا۔اس کے بعدبھی تم ان کی بستیوں اور گھروں سے عبرت نہیں پکڑتے،نصیحت اور سبق نہیں لیتے۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۶۳)
سوال:اس شخص کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جو ہلاک ہونے والی قوموں کے علاقوں سے گذرے مگر ان کے انجام سے عبرت نہ حاصل کرے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 47

فَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهِۦ رُسُلَهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٞ ذُو ٱنتِقَامٖ ٤٧

(فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله) چنانچہ آپ کبھی یہ خیال نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کریگا اور اپنا وعدہ پورا نہیں کریگا۔یعنی کافروں کے خلاف مدد کرنے کا وعدہ۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ اللہ نے یہ جملہ اس طرح کیوں فرمایا (مخلف رسله وعده )یعنی دوسرے مفعول کو پہلے مفعول سے پہلے کیوں ذکر کیا؟ (یعنی رُسل پہلا مفعول ہے اسے بعد میں لایا گیا اور وَعْدِهٖ دوسرا مفعول ہے اسے پہلے لایا گیا۔) تو اس کا جواب یہ ہے کہ:اللہ نے (وعده) کو پہلے رکھا تاکہ یہ بات معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ بنیادی طور سے مطلقاً وعدہ خلافی نہیں کرتا یعنی کسی بھی وعدے کو نہیں توڑتا۔ پھر اس کے بعد کہا: (رسله) تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ جب عام لوگوں سے کیا گیا وعدہ نہیں توڑتا تو پھر وہ سب سے افضل انسان یعنی اپنے رسولوں سے کیا ہوا وعدہ کیسے توڑسکتا ہے! چنانچہ وعدہ کو اطلاق کے مقصد سے پہلے ذکر کیا (کہ بغیر کسی قید اور استثناء کے اللہ ہر وعدہ پورا کرتا ہے۔)پھر خصوصیت بتانے کے مقصد سے رسولوں کا ذکر بعد میں کیا یعنی یہ بتانے کے لئے رسول تو اللہ کے قریبی اور پسندیدہ ہوتے ہیں،ان سے کیا گیا وعدہ خاص اہمیت رکھتا ہے اس لئے ضرور پورا ہوگا۔ (ابن جُزی: ۱؍۴۴۸)
سوال: (مخلف وعده رسله) اس جملہ میں دوسرے مفعول کو پہلے اور پہلے مفعول کو بعد میں لانے کی کیا حکمت ہے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 49

وَتَرَى ٱلۡمُجۡرِمِينَ يَوۡمَئِذٖ مُّقَرَّنِينَ فِي ٱلۡأَصۡفَادِ ٤٩

ہر کافر کو اس کے شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں جکڑ دیا جائیگا۔یعنی انہیں زنجیر میں اکٹھا ملادیا جائیگا، اور اس کے معنی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: زنجیروں،بیڑیوں اور رسیو ں کے ذریعہ ان کے ہاتھوں اور پیروں کو ان کی گردنوں میں باندھ کر جکڑ دیا جائیگا۔ (البغوی: ۲؍۵۷۱)
سوال:بیان کیجئے کہ قیامت کے دن مجرموں کو کس طرح جمع کیا جائیگا؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 51

إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ٥١

کیونکہ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے،کوئی بھی چیز اس سے پوشیدہ اور چھپی ہوئی نہیں ہے اور ساری کی ساری مخلوق اس کی قدرت کے سامنے ایسی ہے جیسے ان میں سے کوئی ایک فرد۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۲۵)
سوال:اللہ تعالیٰ کو بہت تیزی سے حساب لینے والا کیوں کہا گیا؟