قرآن
ﮙ
ﱅ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ٣٥ ٣٥ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
٣٦ ٣٦ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ٣٧ ٣٧ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ٣٨ ٣٨ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ٣٩ ٣٩ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ٤٠ ٤٠ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ٤١ ٤١ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ
ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ٤٢ ٤٢
مَّثَلُ ٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِي وُعِدَ ٱلۡمُتَّقُونَۖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ أُكُلُهَا دَآئِمٞ وَظِلُّهَاۚ
(أكلها دائم) اس کے پھل دائمی ہیں۔اس کے پھل کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ اس کی نعمت ولذت میں کوئی کمی اور رکاوٹ آئیگی(وظلها)اور اس کے سایے بھی۔ یعنی اس کی خوشگوار چھاؤں ہمیشہ چھائی رہیگی،کبھی نہیں ہٹے گی۔ (البغوی: ۲؍۵۳۵)
سوال: آیت میں ذکر کی گئی جنت کے پھلوں اور سائے کی کیا امتیازی شان اورخصوصیت ہے؟
وَٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَفۡرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَۖ وَمِنَ ٱلۡأَحۡزَابِ مَن يُنكِرُ بَعۡضَهُۥۚ قُلۡ إِنَّمَآ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشۡرِكَ بِهِۦٓۚ إِلَيۡهِ أَدۡعُواْ وَإِلَيۡهِ مَـَٔابِ ٣٦
(قُل إِنَّمَآ أُمِرتُ أَن أَعبُدَ الله):فرمادیجئے:مجھے بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں۔ اس جملہ کا تعلق پچھلے جملہ سے اس طرح ہے کہ یہ انکار کرنے والوں کا جواب اور ان کا رد ہے۔گویا یہ کہا گیا ہے کہ:مجھے بس اللہ کی عبادت اور اس کی توحید یعنی اسے ایک ماننے کا حکم دیا گیا ہے تو پھر تم کیسے اس بات کا انکار کررہے ہو! (ابن جزی: ۱؍۴۳۸)
سوال: قرآن نے ایک بنیادی حکم دیا ہے جو فطرت کے موافق ہے،وہ کیا ہے؟
قُلۡ إِنَّمَآ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشۡرِكَ بِهِۦٓۚ
مخالف کی تردید کرنے کے لئے قرآنی بحث وجدل کے طریقے میں بلاغت اوربیان کی خوبی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ اس نزاع اور اختلاف کی بات کو کلام کی شروعات میں نہیں لاتا بلکہ اسے تدریجی انداز میں یعنی درجہ بدرجہ بیان کرتا ہے۔ چنانچہ یہاں پہلے یہ کہا: (أن أعبد الله)کہ میں اللہ کی عبادت کروں۔ اس لئے کہ اہل ِکتاب ہوں یا مشرکین اس بات میں کسی کا جھگڑا نہیں تھا،اللہ کی عبادت کو سب مانتے تھے۔ پھر اس کے بعدیہ جملہ آگیا:(ولا أشرك به)اور میں اس اللہ کے ساتھ شرک نہ کروں۔ یہ دوسرا جملہ مشرکین کے شرک کو رد کرنے کے لئے ہے تاکہ اس سے مشرکین کے شرک کو ناحق اور باطل قرار دیا جائے۔ اور ساتھ ہی اس بات کی طرف اشارہ بھی ہوجائے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا معبود ہونا بھی باطل اور ناحق ہے۔ (ابن عاشور: ۱۳؍۱۵۸)
سوال: قرآن کریم توحید کو ثابت کرنے اور شرک کو رد کرنے میں تدریجی انداز اختیار کرتا ہے۔اس بات کو بیان کیجئے.
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَٰهُ حُكۡمًا عَرَبِيّٗاۚ
اس میں قرآن کے دوکمالات اورخوبیوں کا ذکر ہے۔ ایک کمال اس کے معنی ومطلب اور مقاصد کے اعتبار سے ہے اور یہ چیز قرآن کے حکم ہونے میں موجود ہے۔ اور دوسرا کمال اس کے الفاظ کے اعتبار سے ہے اور اس کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ عربی زبان میں ہے۔(ابن عاشور: ۱۳؍۱۶۰)
سوال: آیت کریمہ نے قرآن کی دوخوبیوں اور کمالات کو ذکر کیا ہے۔وہ کون سی ہیں؟
وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم بَعۡدَ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا وَاقٖ ٣٧
(ولئن اتبعت أهواءهم) اور اگر آپ ان کی خواہشات کے پیچھے چلیں۔ یعنی اگر آپ نے اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے میں مشرکین کی خواہشات کو مان لیا (ما لك من الله من ولي) تواللہ کے مقابلہ میں آپ کا کوئی حمایتی نہیں ہوگا جو آپ کی مدد کرسکے (ولا واق): اور نہ ہی کوئی بچانے والا ہوگا۔ جو آپ سے اللہ کے عذاب کو روک سکے۔یہ خطاب تو نبیﷺ سے ہے مگر اس سے مراد پوری امت کے لوگ ہیں۔ (القرطبی: ۱۲؍۸۴)
سوال: جو شخص مشرق اورمغرب کے کافروں کی خواہشات اورخیالات کے پیچھے چلے۔اس کی سزا اور بدلہ کیا ہے؟
يَمۡحُواْ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُۖ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ ٣٩
(يمحو الله)اللہ یعنی سب سے عظیم بادشاہ،حاکم اعلیٰ مٹادیتا ہے۔(ما يشاء)جو چاہتا ہے۔یعنی شریعتوں اور احکام وغیرہ کو منسوخ کرکے مٹاتا ہے،اور اس طرح انہیں اٹھالیتا ہے(ويثبت) اور ثابت وبرقرار رکھتا ہے۔ان شریعتوں اور احکام میں سے جسے ثابت رکھنا چاہتا ہے،اسے برقرار رکھتا ہے اور اس کا حکم جاری اور قائم رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ ہر زمانہ اور لوگوں کے حالات سے متعلق مصلحتوں کے مطابق کرتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے اور جو چاہتا ہے اسے کرڈالنے والا ہے۔اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ (البقاعی: ۴؍۱۶۰)
سوال:بعض احکام کو منسوخ کرنے(ختم کرنے)اور بعض کو باقی رکھنے میں کیا حکمت اور مصلحت ہے؟
أَوَ لَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا نَأۡتِي ٱلۡأَرۡضَ نَنقُصُهَا مِنۡ مِنۡ أَطۡرَافِهَاۚ
زمین گھٹانے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کے ایک حصہ کے بعد دوسرے حصہ پر مسلمانوں کو فتح اور غلبہ دیتا گیا یعنی اسلام پھیلتا گیا اور کفر کی زمین سمٹتی اورسکڑتی گئی چنانچہ مطلب یہ ہوگا کہ: کیا وہ کفار مسلمانوں کے پھیلاؤ کو نہیں دیکھ رہے ہیں اور اسے دیکھ کر وہ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ ہم آپ کو ان لوگوں پر بھی غلبہ اور قوت دے دیں گے۔
اوراس کا ایک دوسرا معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ: زمین سے مراد جنس(مخلوق) ہے اور اس کے گھٹنے اور کم ہونے کا مطلب ہے دنیا کے لوگوں کا مرتے جانا،پھلوں اور فصلوں کا تباہ ہونا اور بستیوں کا برباد وویران ہوجانا۔ (ابن جُزی: ۱؍۴۳۹)
سوال: زمین کا اپنے کناروں سے گھٹنا اور کم ہونا،اس کے کئی معانی ہیں،انہیں بیان کیجئے.