قرآن
ﮐ
ﰽ
ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ١٢٢ ١٢٢ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ١٢٣ ١٢٣ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ١٢٤ ١٢٤ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ١٢٥ ١٢٥ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ١٢٦ ١٢٦ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ١٢٧ ١٢٧
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٗاۚ وَمَنۡ أَصۡدَقُ مِنَ ٱللَّهِ قِيلٗا ١٢٢
جنت میں ایسی نعمتیں ہیں جنہیں پہلے کسی آنکھ نے دیکھاہے ،نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گذراہے ۔ وہ نعمتیں ہیں: انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور پینے کی چیزیں، دل کش نظارے، حسین بیویاں ،عالیشان محل اورزرین وآراستہ بالاخانے،پھلوں سے لدے ہوئے پیڑ،انوکھے اور نادر میوے، خوش کن اورفرحت بخش سریلی آوازیں ،بھرپور وبے حساب نعمتیں ،بھائیوں اور دوستوں سے میل جول اور دلچسپ مجلسیں اور جنت کے مَرغزاروں اور عمدہ باغیچوں میں اپنے ماضی کےحالات کے خوشگوار تذکرے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ان تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور عظیم الشان نعمت ہوگی : ان سے اللہ کا راضی ہونا ، اللہ کی قربت سے فیضیاب ہونا ،آنکھوں کا اس کے دیدار سے بہرہ مندہونا اور کانوں کا اس کے کلام سے لطف اندوز ہونا ۔ یہ نعمت ایسی عظیم نعمت ہوگی جو دوسری تمام نعمتوں کو بھلا دے گی۔ (السعدی: ۲۰۵)
سوال: جنت کی وہ کون سی نعمت ہے جو کھانے پینے کی نعمتوں سے افضل وبرتر ہے ؟
مَن يَعۡمَلۡ سُوٓءٗا يُجۡزَ بِهِۦ وَلَا يَجِدۡ لَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا ١٢٣ وَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَأُوْلَٰٓئِكَ يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ
(مَن يَعۡمَلۡ سُوٓءٗا يُجۡزَ بِهِ) جو بھی برا کام کریگا ، اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ یہ کافروں کے حق میں اٹل اور پکی دھمکی ہے ۔مگر مومنوں کے حق میں سزا کی یہ دھمکی، اللہ تعالیٰ کی مشیئت وارادے سے مشروط (مقیّد)ہے ۔
(وَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ) اور جو کوئی اچھے کام کریگا۔ یہاں (مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ)میں حرفِ“ مِنْ” بعض (کچھ ،تھوڑا) کا معنی دینے کے لئے آیا ہے اس میں بندوں کے ساتھ نرمی اور سہولت کا اظہارہے کیونکہ کوئی بھی انسان یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ تمام نیک اعمال کو کامل طریقہ سے کرسکے۔ (ابن جزی:۱؍ ۲۱۱)
سوال: کیا جنت میں داخل ہونے کے لئے تمام نیکیوں اور اچھے کاموں پر عمل کرنا شرط ہے؟ جواب کی وجہ بھی بتائیے کہ کیوں؟
وَمَنۡ أَحۡسَنُ دِينٗا مِّمَّنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ وَٱتَّبَعَ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۗ
آیت میں جب اللہ تعالیٰ نے عقیدہ کے کامل ہونے کو فعل ماضی یعنی گذرے زمانے سے بیان کیا تو اگلے حصہ میں(وَهُوَ)کے ذریعہ ظاہری اعمال اور عقیدہ پر قائم ودائم رہنے کی شرط لگادی ۔ (وَهُوَ) یعنی صحیح عقیدہ والے شخص کی حالت زمانۂ حال میں یہ ہو کہ وہ (مُحۡسِنٌ) نیک عمل والا ہو۔ یعنی ایمان والا،اللہ کا دھیان رکھنے والا ہو ،بنیادی طور سے اس کے اندر غفلت بالکل نہ ہو بلکہ احسان اس کی مضبوط صفت ہو اس لئے کہ وہ اس طرح اللہ کی عبادت کرنے والا ہے جیسے اللہ کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہو۔ (البقاعی: ۲؍ ۳۲۴)
سوال: دین کے اعتبار سے سب سے اچھا اور بہترین شخص کون ہے؟اور کیوں؟
وَمَنۡ أَحۡسَنُ دِينٗا مِّمَّنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ
یہ دوشرطیں ہیں جن کے بغیر کسی عمل کرنے والے کا عمل صحیح اورقابلِ قبول نہیں ہوسکتا: ایک تو یہ کہ خالص ہو اور دوسرے یہ کہ درست ہو ۔ خالص سے مرادیہ ہے کہ وہ عمل صرف اللہ کے لئے کیا گیا ہو ۔اوردرست سے مراد یہ ہے کہ عمل شریعت کے موافق ہو۔چنانچہ عمل، ظاہر میں اتباع سنت سے صحیح ہوتا ہے اور باطن میں اخلاص کی بنیاد پر صحیح ہوتا ہے اور جب عمل میں ان دونوں شرطوں میں سے کوئی ایک شرط موجود نہ ہو تو وہ فاسد اور بے کار ہوجاتا ہے۔اب جس کے اندر اخلاص نہ ہو وہ منافق ہوگا اور یہ وہی لوگ ہیں جو لوگوں کے سامنے دکھاوا کرتے ہیں۔اور جس شخص کے اعمال سنت وشریعت کے موافق نہ ہوں وہ گمراہ ،جاہل ہے۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۵۳۰)
سوال: آیت نے قبولیتِ عمل کی دوشرطیں بتائی ہیں۔وہ کیا ہیں؟
وَمَنۡ أَحۡسَنُ دِينٗا مِّمَّنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ وَٱتَّبَعَ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۗ وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبۡرَٰهِيمَ خَلِيلٗا ١٢٥
جس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تابع کردیا ، وہی شخص اپنی نیت کو اللہ کے لئے خالص کرتا ہے اور اپنے عمل سے اللہ کی خوشنودی چاہتا ہے۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۳۴۵)
سوال: اپنے چہرے کو اللہ کے سامنے جھکانے سے کیا مراد ہے؟
وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبۡرَٰهِيمَ خَلِيلٗا ١٢٥
یہ حضرت ابراہیم( علیہ السلام )کی اتباع پر ابھارنے اور اس کی ترغیب دینے کے واسطے ہے ۔اس لئے کہ آپ قابلِ اقتداء امام ہیں ۔ اللہ کی قربت حاصل کرنے کے واسطے نیکیوں میں بڑھتے بڑھتے جس اونچے سے اونچے مقام تک پہنچ سکتا ہے حضرت ابراہیم( علیہ السلام) اس مقام تک پہنچ گئے تھے۔ چنانچہ وہ اللہ کی “خُلَّت” یعنی دوست ہونے کے درجہ تک پہنچ گئے تھے جو محبت کا سب سے اونچا مقام ہے اور یہ اعلیٰ مقام انہیں صرف اپنے رب کی کامل اطاعت کی وجہ سے حاصل ہوا۔ (ابن کثیر: ۱؍ ۵۳۰)
سوال: حضرت ابراہیم( علیہ السلام) کو “خُلَّت” یعنی اللہ کی دوستی کی صفت سے ذکر کرنے میں بندۂ مومن کے لئے کیا عملی فائدہ حاصل ہوتا ہے؟
وَأَن تَقُومُواْ لِلۡيَتَٰمَىٰ بِٱلۡقِسۡطِۚ
اس حکم میں کئی باتیں شامل ہیں۔وہ یہ ہیں کہ: اللہ کے احکام او ر جو کچھ اس نے بندوں پر فرض کیا ہے ان تمام چیزوں کاپابند بناکر یتیموں کی نگرانی اور دیکھ ریکھ کی جائے ۔چنانچہ یتیموں کے سرپرست اس بات کے مکلف اور ذمہ دار ہوں گے کہ وہ اپنے ماتحت یتیموں کو اللہ کے فرائض وواجبات کا پابند بنائیں ۔
اسی طرح آیت کے حکم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ سرپرست ، یتیموں کے دنیاوی فائدوں اور مصلحتوں کا خیال رکھیں اور پوری توجہ دیں۔اس کے لئے ان کے مال ودولت میں تجارت وغیرہ کے ذریعہ اضافہ کرتے رہیں اوراس میں اچھائی اور بہتری کی کوشش کرتے رہیں ۔تاکہ ان کامال کم یا ختم نہ ہو اور اس کی حیثیت وقیمت گھٹ نہ جائے۔نیز سرپرست ان یتیموں کے مال سے اگر کچھ لیں تو معروف طریقے سےہی لیں۔
اسی طرح ان یتیموں کے حقوق کی پامالی کی غرض سے ان سے شادی کرنے یا دوسرے معاملات کرنے میں کسی دوست وغیرہ کی طرفداری نہ کریں ۔
یہ بندوں پر اللہ کی بڑی رحمت ومہربانی ہے کہ جو (یتیم ہونے یا کسی اور وجہ سے خود) اپنی مصلحتوں اور فائدوں کی دیکھ بھال اور حفاظت نہیں کرسکتے ۔ان کے مصالح کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے (صاحبِ استطاعت قریبی لوگوں کو) زور دے کر خوب خوب ترغیب دی ہے ۔ (السعدی: ۲۰۶)
سوال: یتیموں کے معاملات کی صحیح دیکھ بھال اور ٹھیک ٹھیک نگرانی دوچیزوں پر مشتمل ہے ۔وہ دوچیزیں کیا ہیں؟