قرآن
ﮐ
ﰽ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ١٠٧ ١٠٧ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ١٠٨ ١٠٨ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ١٠٩ ١٠٩ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ١١٠ ١١٠ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ١١١ ١١١ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
١١٢ ١١٢ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ١١٣ ١١٣
وَلَا تُجَٰدِلۡ عَنِ ٱلَّذِينَ يَخۡتَانُونَ أَنفُسَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمٗا ١٠٧
چونکہ ( خَوَّانًا) (بہت خیانت کرنے والا ، بڑا دغاباز) : وہ ہے جو باربار خیانت کرے اور(أَثِيمٗا) (گناہ گار ) وہ ہے جو گناہ کو اپنامقصد بنالے ۔کبھی کبھار کسی سے خیانت سرزد ہوجائے جیسے بلاارادہ یا غفلت ولا علمی میں خیانت کا کوئی عمل ہوجائے توایسا شخص خیانت اورگناہ کی مذکورہ سختی سے باہر سمجھا جائیگا۔ (ابن عطیہ: ۲؍ ۱۱۰)
سوال: آدمی ( خَوَّانًا) (واو کی تشدید کے ساتھ)کب کہلائیگا؟اور(أَثِيمٗا) کب کہلائیگا؟
وَلَا تُجَٰدِلۡ عَنِ ٱلَّذِينَ يَخۡتَانُونَ أَنفُسَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمٗا ١٠٧
(يَخۡتَانُونَ أَنفُسَهُمۡۚ) وہ خود اپنی ہی خیانت کرتے ہیں یعنی نافرمانیاں کرکے اور گناہوں کا ارتکاب کرکے وہ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
(ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ) اللہ تعالیٰ خیانت اور گناہ میں ڈوبے ہوئے شخص کو پسند نہیں کرتا: یعنی بہت زیادہ خیانت کرنے والے اور اس میں خوب آگے بڑھ جانے والے کو۔
ابوحَیّان رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ نے دونوں یعنی خیانت اورگناہ کے الفاظ میں مبالغہ والاصیغہ استعمال کیا ہے تاکہ اس میں وہ لوگ شامل نہ ہوں جن سے ایک مرتبہ ایک گناہ یا خیانت سرزد ہوگئی ہو یا غفلت کے سبب اور بلاارادہ سرزد ہوگئی ہو۔ (الألوسی: ۵؍۱۴۱)
سوال: اللہ تعالیٰ نے (ﭧ ﭨ ) بہت دغاباز ،بڑا گناہ گار۔ مبالغہ کے صیغہ کے ساتھ کیوں کہا؟
وَلَا تُجَٰدِلۡ عَنِ ٱلَّذِينَ يَخۡتَانُونَ أَنفُسَهُمۡۚ
دوسروں کی خیانت کرنے کو اپنے نفس سے خیانت قرار دیا گیا اس لئے کہ اس کا وبال اور نقصان خود انہی پر لوٹنے والا ہے۔ (الألوسی: ۵؍۱۴۰)
سوال: دوسرے کو دغا دینے اور خیانت کرنے کو خود کی خیانت کیوں ٹھہرایا گیا؟
وَمَن يَعۡمَلۡ سُوٓءًا أَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهُۥ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ ٱللَّهَ يَجِدِ ٱللَّهَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ١١٠
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےانہوں نے کہا: مجھ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ،اور ابوبکر نے سچ کہا، فرمایا: کوئی بھی بندہ گناہ کربیٹھے ، پھر وضوء کرے اور دورکعت نماز پڑھے اور اللہ سے مغفرت اور معافی طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور معاف کردیتا ہے ۔پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی: (وَمَن يَعۡمَلۡ سُوٓءًا أَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهُۥ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ ٱللَّهَ يَجِدِ ٱللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا ) جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو وہ اللہ کو بخشنے والا مہربانی کرنے والا پائیگا۔ (القرطبی: ۷؍۱۱۷)
سوال: گناہ کو مٹانے والی چیز یں بہت سی ہیں ۔ان میں سے ایک بیان کیجئے.
أَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهُۥ
اپنے نفس پر ظلم کرنے کو“ ظلم’’ کہا گیا اس لئے کہ بندے کی جان اس کی اپنی ملکیت نہیں ہے کہ اسے جس طرح چاہے استعمال کرے بلکہ حقیقت میں نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔ جسے اللہ نے بندے کو امانت کے طور پر دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ بندہ اسے عدل و انصاف کے راستہ پر قائم رکھے وہ اس طرح کہ اسے علم اور عمل میں صراطِ مستقیم کا پابند بنائے ۔اس کے لئے بندہ اپنے نفس کو ان چیزوں کی تعلیم دینے اور سکھانے کی پوری کوشش کرے جنہیں کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے اور جو چیزیں اس پر فرض کی گئی ہیں ان پر عمل کی بھی پوری کوشش کرے ۔چنانچہ اس راستے سے ہٹ کر دوسرے راستوں میں بندے کا کوشش کرنا اپنے نفس پر ظلم اور خیانت ہے اور عدل وانصاف کےراستے سے اسے دور لے جانا ہے۔ (السعدی: ۲۰۱)
سوال: گناہوں کو نفس کے ساتھ ظلم کیوں کہا گیا ہے؟
وَمَن يَكۡسِبۡ إِثۡمٗا فَإِنَّمَا يَكۡسِبُهُۥ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦۚ
لیکن جب برائیاں عام ہوجائیں اور ان پر انکار نہ کیا جائے تو ان کا عذاب بھی عام ہوجاتا ہے اور ان برائیوں کا گناہ سب کو گھیر لیتا ہے لہذا یہ چیز بھی اس آیتِ کریمہ کے مطلب ومعنیٰ سے باہر نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ جس نے انکارِ منکر کا فریضہ چھوڑ دیا اس نے گناہ کیا ۔ (السعدی: ۲۰۱)
سوال: برائی کا عذاب کب برائی کرنے والے کے ساتھ خاص ہوتا ہے ؟اور کب پورے معاشرے کے لئے عام ہوجاتا ہے؟
وَمَن يَكۡسِبۡ إِثۡمٗا فَإِنَّمَا يَكۡسِبُهُۥ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا ١١١
(ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ) اور اللہ سب کچھ جاننے والا،کامل حکمت والا ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے علم وحکمت کا حصہ ہے کہ وہ گناہ کو اچھی طرح جانتا ہے، جس سے گناہ سرزد ہو اور جو چیز گناہ پر ابھارنے کا سبب بنی ، اسے بھی خوب جانتا ہے ۔اور گناہ کرنے پرعائدہونے والی سزا سے بھی بخوبی واقف ہے۔ نیز وہ گناہ کرنے والے کی حالت سے بھی باخبر ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفسِ اَمّارہ یعنی گناہ پر ابھارنے والے نفس کے غلبہ کی وجہ سے سرزد ہوگیا ہے؛ جبکہ وہ اکثر اوقات اپنے رب کی طرف پلٹنے والا ہے۔چنانچہ اللہ ایسے شخص کی مغفرت فرمادے گا اور اسے توبہ کی توفیق عنایت فرمائیگا لیکن اس کے برخلاف آدمی اللہ کی نگاہ اور نگرانی کو ہلکا سمجھ کر اور اس کے عذاب کو حقیر وکمتر جان کر حرام کردہ چیزوں کے ارتکاب کی جرأت کرتا ہے تو ایسا شخص اللہ کی معافی سے دور اور توبہ کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے ۔ (السعدی: ۲۰۱)
سوال: گناہ گار وخطاکار دوقسم کے ہیں۔ وہ دونوں کون ہیں؟