قرآن
ﮐ
ﰽ
ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ٨٧ ٨٧ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ٨٨ ٨٨ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ٨٩ ٨٩ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ٩٠ ٩٠
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٩١ ٩١
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيهِۗ وَمَنۡ أَصۡدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثٗا ٨٧
جھوٹا آدمی اس لئے جھوٹ بولتا ہے کہ اس کے ذریعہ اپنے لئے کوئی فائدہ حاصل کرے یا خود کو کسی نقصان سے بچائے اور اللہ تعالیٰ بذاتِ خود نفع نقصان کا خالق (پیدا کرنے والا ) ہے لہذا یہ بات قطعی طور سے جائز (اور ممکن )نہیں کہ اس کی جانب سے جھوٹ صادر ہو ۔ (الطبری: ۸؍۵۹۳)
سوال: کوئی اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے زیادہ سچی بات والا کیوں نہیں ہوسکتا؟
وَمَنۡ أَصۡدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثٗا ٨٧
اس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر بات ،اس کی اطلاعات اور اس کے اقوال اعلیٰ درجے کے سچے ہوتے ہیں بلکہ تمام طرح کے اعلیٰ درجات سے اعلیٰ ہوتے ہیں ۔لہٰذا عقائد،علوم اور اعمال میں کوئی ایسی بات کہی جائے جو اللہ کی خبر کے خلاف ہو تو وہ باطل ہوگی۔ چونکہ وہ بات یقینی طور پر اللہ کی سچی ذات کی خبر کے مخالف ہے اس لئے اس کا حق ہونا ممکن ہی نہیں ہے ۔(السعدی: ۱۹۱)
سوال: جو شخص اپنے عقائد واصول قرآن سے لیتا ہے او ر جو قرآن کے علاوہ دوسری چیزوں سے لیتا ہے ، دونوں میں کیا فرق ہے؟
فَمَا لَكُمۡ فِي ٱلۡمُنَٰفِقِينَ فِئَتَيۡنِ وَٱللَّهُ أَرۡكَسَهُم بِمَا كَسَبُوٓاْۚ
یعنی :مسلمانو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دوفریق بن کر بٹ گئے ہو اور ان سے بیزاری اختیار کرنے میں تم متفق نہیں ہوتے؟ یہاں سوال (استفہام) انکار ونفی کے لئے ہے۔اور اگرچہ اس بات کے مخاطب تمام مومنین ہیں لیکن اس میں ڈانٹ ڈپٹ کا جو معنی ہے اس کا رخ صرف بعض مسلمانوں کی طرف ہے ۔یہ اس وجہ سے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا تھا جو اُن منافقوں کے لئے اپنے دلوں میں نرم گوشہ رکھتا تھا ،ان کی حمایت کرتا اور ان سے دوستی اورقربت رکھتا تھا۔جبکہ مسلمانوں کا ایک دوسرا گروہ ایسا تھا جو منافقین سے دوری اور دشمنی رکھتا تھا ۔ لہذا انہیں اس اختلاف سے منع کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ وہ منافقین سے علیحدگی اور بیزاری ظاہر کرکے سب ایک ہی راستے اور طریقے پر قائم ہوجائیں کیونکہ ان کے نفاق اور کفر کے دلائل اور نشانات بالکل ظاہر اور واضح ہوچکے ہیں۔ (القاسمی: ۱؍ ۲۰۰)
سوال: منافقین کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا واجب ہے جس کی اللہ نے مسلمانوں کو تلقین فرمائی ہے ؟
فَمَا لَكُمۡ فِي ٱلۡمُنَٰفِقِينَ فِئَتَيۡنِ وَٱللَّهُ أَرۡكَسَهُم بِمَا كَسَبُوٓاْۚ
درحقیقت اللہ تعالیٰ نے منافقین کو ان کے برے عقیدے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اخلاص کی کمی کے بدلے اور سزا میں انہیں کفر کی طرف پلٹا دیا۔ کیونکہ اعمال اپنی جنس (قسم) کے مطابق وجود پاتے ہیں لہذا نیک عمل مزید اچھائیوں کو لاتا ہے اور برا عمل گناہوں کی انتہا تک پہنچاتا ہے۔ (ابن عاشور:۵؍ ۱۵۰)
سوال: اللہ تعالیٰ نے منافقین کو نفاق سے کفر کی طرف کیوں لوٹادیا؟
فَلَا تَتَّخِذُواْ مِنۡهُمۡ أَوۡلِيَآءَ
ممانعت کے اس حکم کالازمی تقاضہ ہے کہ ان منافقین سے محبت نہ رکھی جائے اس لئے کہ دوستی محبت کی ایک قسم ہے ۔اسی طرح یہ ممانعت اس بات کو بھی لازم ٹھہراتی ہے کہ منافقین سے نفرت اور دشمنی رکھی جائے کیونکہ کسی چیز سے منع کرنا اس کی ضد کا حکم ہے ۔(السعدی: ۱۹۱)
سوال: منافقین سے دوستی رکھنے کی بابت اللہ کا حکم کس بات کو لازم وضروری ٹھہراتا ہے؟
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَخُذُوهُمۡ وَٱقۡتُلُوهُمۡ حَيۡثُ وَجَدتُّمُوهُمۡۖ
(فَإِن تَوَلَّوۡا) یعنی اگر وہ ہجرت کرنے سے منہ پھیر لیں ۔یہ ان کو سزا دینے اور پکڑنے سے پہلے ان کے لئے تنبیہ ہے کیونکہ آیت کا مطلب ہے کہ : ان لوگوں تک ہجرت کا یہ حکم پہنچادو۔ پھر اگر وہ اس سے منہ موڑ لیں اور اس حکم کو قبول نہ کریں تو پھر انہیں پکڑلواور جان سے ماردو۔ یہ حکم اس بات پر دلیل ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی ایسی چیز یا عمل سرزدہو جس سے آدمی کے کافر ہونے کا امکان ہو تو فوراً اس کی گرفت نہیں کی جائیگی بلکہ پہلے اسے تنبیہ کی جائیگی،اس سے صادر ہونے والی بات کو سمجھایا جائیگا اور اسے عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائیگا لیکن ان سب کے باوجود اگر وہ اپنے کفریہ عمل سے لگا اور چمٹا رہے تب اس کی پکڑ اور بازپرس کی جائیگی اور اس کے بعد توبہ کروائی جائیگی۔ (ابن عاشور: ۵؍۱۵۲)
سوال: کسی شخص سے اگر ایسا عمل سرزد ہو جس میں کفر کا احتمال ہو تو اس کا مواخذہ (باز پرس) کب کیا جائیگا؟
وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَيۡكُمۡ فَلَقَٰتَلُوكُمۡۚ
اللہ تعالیٰ کا مشرکین کو مسلمانوں پر مسلط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ انہیں اس کی قدرت اور طاقت دے دے۔ اللہ کی طرف سے یہ چیز یا تو لوگوں میں برائی پھیل جانے اور گناہ عام ہونے کی صورت میں سزا اور انتقام کے طور پر ہے، یا بندوں کی آزمائش اور امتحان کی خاطر ۔یا پھر مومنوں کو گناہوں سے پاک وصاف کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ مشرکین کو مسلمانوں پر مسلط کرتا ہے۔ ( القرطبی: ۶؍۵۱۱)
سوال: کس وجہ سے اللہ تعالیٰ کبھی کبھار مشرکین کو مسلمانوں پر مسلط کردیتا ہے؟