قرآن
ﮐ
ﰽ
ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ٥٣ ٥٣ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ٥٤ ٥٤
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ٥٥ ٥٥
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ٥٦ ٥٦ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ٥٧ ٥٧ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ٥٨ ٥٨ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ
ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ٥٩ ٥٩
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُۖ وَمَن يَلۡعَنِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ نَصِيرًا ٥٢
(أُوْلَٰٓئِكَ)یہ لوگ جن کی اللہ تعالیٰ نے یہ صفت بیان کی کہ انہیں(اللہ کی ) کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا تھا اس کے باوجود وہ ‘‘جِبت” اور ‘‘طاغوت” یعنی جادو، بتوں اور جھوٹے معبودوں پر ایمان رکھتے تھے؛ (ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ) اللہ نے ان ہی کو ملعون قرار دیا۔ بتوں اور جھوٹے معبودوں پر یقین رکھنے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا انکار کرنے اور ان سے نفرت رکھنے کے سبب اللہ نے انہیں رسوا کیا اور اپنی رحمت سے دور کردیا۔ (الطبری: ۸؍۴۷۱)
سوال: کتاب کا علم صاحبِ علم کے لئے کب فائدہ مندہوتا ہے؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيهِمۡ نَارٗا كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُودُهُم بَدَّلۡنَٰهُمۡ جُلُودًا غَيۡرَهَا
چونکہ جہنم کی آگ (ہماری جانکاری اورسمجھ کے مطابق) فنا کردینے والی اور مٹادینے والی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے نئے سرے سے یہ بات فرمائی: (كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُودُهُم) جب بھی ان کی کھالیں پک جائیں گی،جل اور جھلس جائیں گی ۔یعنی: ان کی کھالیں جہنم کی گرمی سے پکے ہوئے کھانے کے گوشت کی شکل میں ہوجائیں گی؛ اور پھر وہ زخم کے مردار گوشت کی صورت اختیار کرلیگا کہ کوئی درد والم محسوس نہ ہو تب (بَدَّلۡنَٰهُمۡ) ہم بدل دیں گے۔ یعنی: ہم ان کے اوپر پیدا کردیں گے؛(جُلُودًا غَيۡرَهَا)دوسری کھالیں۔یعنی پہلی کھالوں کے بدلے نئی کھالیں پیدا کردیں گے جو پکی اور جھلسی ہوئی نہیں ہوں گی ۔اس طرح ہم ان کھالوں کو پہلی حالت میں پھر سے لوٹادیں گے۔یہ (عذاب) بالکل اسی طرح ہوگا جیسے وہ دنیا میں ہر وقت جھٹلانے کے عمل کو دہراتے اور نئے نئے اندازسے تکذیب کرتے رہے تھے ۔تاکہ جیسا عمل تھا ویسے ہی بدلہ بھی رہے ۔(البقاعی: ۲؍ ۲۶۹)
سوال: جہنم میں کفار کی کھالیں کیوں بدلی جائیں گی؟
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ لَّهُمۡ فِيهَآ أَزۡوَٰجٞ مُّطَهَّرَةٞۖ وَنُدۡخِلُهُمۡ ظِلّٗا ظَلِيلًا ٥٧
(ظَلِيلًا) یعنی ایسی چھاؤں جو سلسلہ وار اور گھنی ہوگی۔اس کے درمیان کوئی شگاف نہیں ہوگا۔پھیلی ہوئی اور کشادہ ہوگی ،جس سے کوئی تنگی وپریشانی نہیں ہوگی۔ ہمیشہ رہے گی اس پر کسی بھی دن دھوپ اثر انداز نہیں ہوگی،نہ اس میں گرمی ہوگی اور نہ سردی بلکہ اس کے زیر سایہ ماحول اور موسم نہایت معتدل ہوگا۔ (البقاعی: ۲؍ ۲۷۰)
سوال: جنت میں (ظِلّٗا ظَلِيلًا) یعنی بھرپور سائے کا کیا مطلب ہے؟
إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا وَإِذَا حَكَمۡتُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُواْ بِٱلۡعَدۡلِۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعَۢا بَصِيرٗا ٥٨
حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کریں اور (ٱلۡعَدۡلِۚ) یعنی:انصاف وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:(إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا وَإِذَا حَكَمۡتُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُواْ بِٱلۡعَدۡلِۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعَۢا بَصِيرٗا ) اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ! اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل وانصاف سے فیصلہ کرو! یقیناً وه بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ سنتا ہے، دیکھتا ہے۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۲۷۲)
سوال: آیت کریمہ میں ‘‘عدل”سے کیا مقصود ومراد ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ
اُولواالامر (حکام، مسلمانوں کے ذمہ داروعلماء) کی اطاعت وفرمانبرداری اس شرط کے ساتھ کی جائیگی کہ وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں، اگر وہ نافرمانی کا حکم دیں تو پھر خالق کی نافرمانی میں کسی بھی مخلوق کی فرمانبرداری نہیں کی جائیگی۔ اورشایدیہی راز ہے کہ حاکم کی اطاعت کا حکم دیتے ہوئے اس کے ساتھ فعل (أَطِيعُواْ) “اطاعت کرو”۔کو حذف کردیا گیا۔ اور اسے (ٱلرَّسُولَ) کی اطاعت کے ساتھ ذکر کیا گیا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کے علاوہ کوئی بھی حکم نہیں دیتے ۔ چنانچہ جو رسول ﷺ کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اللہ کا فرمانبردار ہے۔ (السعدی: ۱۸۴)
سوال: اطاعت کا فعل“رسول” کے ساتھ ذکر کیا گیا اور ‘‘اولواالامر” کے ساتھ حذف کردیا گیا۔کیوں؟
وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ
اس لئے کہ لوگوں کا کوئی دینی معاملہ ہو یا دنیوی ، ان کی اطاعت اور تابعداری کے بغیر درست اور ٹھیک نہیں ہوسکتا۔(السعدی: ۱۸3)
سوال: مسلمانوں کے حاکم کی اطاعت کیوں واجب ہے؟
فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا ٥٩
(فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ) تو اس اختلافی معاملہ یا مسئلہ کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹا دو۔اللہ کی طرف لوٹانا۔اس کی کتاب میں غور وفکر کرنا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹانے کا مطلب ہے کہ آپ کی زندگی میں آپ سے پوچھنا اور سوال کرنا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی سنتوں میں غوروفکر کرنا ۔(ابن جزی: ۱؍۱۹۶)
سوال: اختلافات اور جھگڑوں کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹانے کی کیا صورت ہے؟