قرآن
ﮐ
ﰽ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ٤٦ ٤٦ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ٤٧ ٤٧ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
٤٨ ٤٨ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ٤٩ ٤٩ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ٥٠ ٥٠ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٥١ ٥١
وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِأَعۡدَآئِكُمۡۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَلِيّٗا وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ نَصِيرٗا ٤٥
(وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِأَعۡدَآئِكُمۡۚ) اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہے۔ لہذا تم ان سے خیر کی امید نہ رکھو۔اس لئے کہ وہ حقیقت میں تمہارے دشمن ہیں۔
(وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَلِيّٗا وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ نَصِيرٗا) اور ۔تمہارے لئے۔اللہ کا دوست ہونا کافی ہے اور اللہ کا مددگار ہونا کافی ہے۔ (البغوی: ۱؍۵۴۲)
سوال: قرآن نے اس آیت میں ہمیں کس چیز سے منع کیا ہے؟
وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِأَعۡدَآئِكُمۡۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَلِيّٗا وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ نَصِيرٗا ٤٥
غرض، نہ تم ان کی طرف توجہ دواور نہ ان کے بارے میں سوچ بچار کرو۔ (وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَلِيّٗا) اللہ کی دوستی کافی ہے ۔ وہ تمہارے معاملات کی حمایت ونگہبانی کریگا اور جس چیز سے چاہیگا تمہیں نفع (فائدہ) پہنچائیگا۔ (وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ نَصِيرٗا) اور اللہ کا مددگار ہونا کافی ہے۔ وہ ان کی چالبازی اور شرارتوں کو تم سے دفع کردیگا اور تم کو بچائیگا۔ لہذا تم اللہ کی دوستی اور مددکو کافی سمجھو اور ان کی پروا کرونہ ان کی سازشوں سے پریشانی میں پڑو۔ (الألوسی: ۵؍۴۵)
سوال: اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنوں کو اپنی دوستی اور مدد کی خبر دینا کیا معنی رکھتا ہے؟
مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُواْ يُحَرِّفُونَ ٱلۡكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَيَقُولُونَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا
علم کے تعلق سے ان کی یہ جہالت انتہائی بدترین حالت ہے کہ انہوں نے حقائق اور سچائیوں کو الٹ دیا ،حق کی جگہ باطل کو دے کرحق کا انکار کردیا۔ رہا عمل اور اطاعت میں ان کا حال تو وہ (وَيَقُولُونَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا ) صاف صاف کہتے تھے کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا۔ (السعدی: ۱۸۱)
سوال: یہود علم اور عمل میں سب سے بدترین لوگ ہیں ۔اس بات کو آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ ءَامِنُواْ بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقٗا لِّمَا مَعَكُم مِّن قَبۡلِ أَن نَّطۡمِسَ وُجُوهٗا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰٓ أَدۡبَارِهَآ
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں:کعب اَحباررحمہ اللہ کے اسلام لانے کی پہل یوں ہوئی کہ رات کے وقت ایک آدمی کے پاس سے ان کا گزر ہوا ۔وہ آدمی قرآن کی یہ آیت پڑھ رہا تھا: (ييَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ ءَامِنُواْ...) اے اہل کتاب! ہم نے جو کچھ نازل کیا ہے جو اس چیز کی بھی تصدیق کرنے والا ہے جوتمہارے پاس ہے ، اس پر اس سے پہلے ہی ایمان لے آؤ کہ ہم تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور انہیں لوٹا کر پیچھے کردیں۔ آیت کو سن کر کعب نے اپنی دونوں ہتھیلیوں سے اپنا چہرہ چھپالیا اور الٹے پاؤں اپنے گھر کی طرف پلٹے ، اسی وقت اسلام قبول کرلئےاور کہنے لگے : اللہ کی قسم! میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے گھر پہنچنے سے پہلے ہی میرا چہرہ بگڑ جائے۔ (القرطبی: ۶؍۴۰۴)
سوال: کعب احبار رحمہ اللہ نے جب اس آیت کو سنا توان پر اس کا کیا اثر ہوا؟
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُمۚ بَلِ ٱللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَآءُ وَلَا يُظۡلَمُونَ فَتِيلًا ٤٩ ٱنظُرۡ كَيۡفَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۖ
یہ اللہ تعالیٰ پر سب سے بڑا جھوٹ اور بہتان ہے ۔ کیونکہ خود کو پاک صاف بتانے کامطلب یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے طریقہ (دین وموقف) کو حق قرار دیا ہے اور مومنوں کے دین اور راستے کو باطل ٹھہرایا ہے ۔حالانکہ یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے اور حق کو باطل نیز باطل کو حق بنا کر سچائیوں (حقائق) کو الٹ دینا ہے۔ (السعدی: ۱۸۲)
سوال: ان (اہلِ باطل وکفر) کا اپنے نفس کا تزکیہ کرنا،اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کس طرح ہوا؟
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُمۚ بَلِ ٱللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَآءُ وَلَا يُظۡلَمُونَ فَتِيلًا ٤٩
یہ آیت کریمہ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: (ﯙ ﯚ ﯛﯜ) (سورۂ نجم: ۳۲) پس تم (خود) اپنی پاکیزگی بیان نہ کرو۔
ان دونوں آیتوں کا تقاضہ ہے کہ خود اپنی زبان سے اپنی پارسائی بیان کرنے والا ،اس عمل سے باز آجائے۔اسی طرح یہ دونوں آیتیں بتاتی ہیں کہ حقیقت میں نیک اور پاک وہ شخص ہے جس کے اعمال اچھے ہوں اور پارسا وہ ہے جسے اللہ عزوجل نے پاکیزہ بنایا ہو یا پاک صاف قرار دیاہو ۔ لہذا انسان کا اپنے آپ کو پاکیزہ بتانے (اور خود کا تزکیہ کرنے)کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔اعتبار تو اس بات کا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا تزکیہ فرمائے۔ (القرطبی: ۶؍ ۴۰۷۔۴۰۸)
سوال: حقیقت میں پارساہ بندہ کون ہے؟
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبٗا مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡجِبۡتِ وَٱلطَّٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ هَٰٓؤُلَآءِ أَهۡدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ سَبِيلًا ٥١
(ٱلۡجِبۡتِ) کا معنی ہے جادو،سحر ۔ اور(الطَّاغُوْتِ) سے مراد شیطان اور بت ہیں۔
دین سے منسوب بہت سارے لوگوں کا یہی حال ہے کہ وہ جادو اور شرک کی تعظیم کرتے ہیں ۔اور شریعت کے پابندبہت سے مومنوں کے مقابلہ میں کافروں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۲۶۶)
سوال:امت پر شرک اور جادو کا کیا خطرہ ہے؟بیان کیجئے.