قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٣٨ ٣٨

٣٩ ٣٩

ﭿ
٤٠ ٤٠

٤١ ٤١


٤٢ ٤٢





٤٣ ٤٣

ﯿ ٤٤ ٤٤
85
سورۃ النساء آیات 0 - 40

وَإِن تَكُ حَسَنَةٗ يُضَٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِن لَّدُنۡهُ أَجۡرًا عَظِيمٗا ٤٠

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب اللہ تعالیٰ (أَجۡرًا عَظِيمٗا) بہت بڑا اجر کہے تواس کی مقدار کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا ’’۔ (القرطبی: ۶؍ ۳۲۴)
سوال: اللہ تعالیٰ جو اپنے ثواب کے بارے میں (عَظِيمٗا) فرماتا ہے ۔اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 40

وَإِن تَكُ حَسَنَةٗ يُضَٰعِفۡهَا

نیکی کی کیفیت اور فائدہ مند ہونے کے اعتبار سے اسی طرح نیکی کرنے والے کی حالت ،اس کے اخلاص ،محبت اور کمال کے لحاظ سے دس گنابلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ (گنا درگناثواب )بڑھاکردیگا۔ (السعدی: ۱۷۹)
سوال: کون سے اسباب ہیں جن کی بنیاد پر نیکیوں میں اضافہ کی شرح مختلف ہوجاتی ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 41

فَكَيۡفَ إِذَا جِئۡنَا مِن كُلِّ أُمَّةِۢ بِشَهِيدٖ وَجِئۡنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ شَهِيدٗا ٤١

نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: “اِقْرَاْعَلیَّ الْقُرْآن”۔ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔انہوں نے کہا: میں آپ کے سامنے پڑھوں جبکہ قرآن تو آپ ہی پر نازل ہوا ہے ! آپ نے فرمایا: “اِنِّی أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَہُ مِنْ غَیْرِیْ”۔میں اپنے علاوہ دوسرے سے سننا پسند کرتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: تب میں نے آپ کے سامنے سورۂ نساء کی قرأت شروع کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا (فَكَيۡفَ إِذَا جِئۡنَا مِن كُلِّ أُمَّةِۢ بِشَهِيدٖ وَجِئۡنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ شَهِيدٗا ) “تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہر امت میں سے ہم ایک گواہ لائیں گے اور ہم آپ کو ان لوگوں پر گواہ بناکر لائیں گے”۔تب آپ ﷺ نے فرمایا: ‘‘حَسْبُكَ” ۔بس کرو،اتناکافی ہے۔ پھر میں نے دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۲۴۹)
سوال: اس (مذکورہ)آیتِ کریمہ کو سن کر نبی ﷺ کیوں روپڑے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 43

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقۡرَبُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمۡ سُكَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعۡلَمُواْ مَا تَقُولُونَ

آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نمازی کو ہر ایسی چیز سے بچنا چاہئے جو دل کو غافل اوربے پروا کردے۔ اور اپنے نفس کوآلودہ کردینے والی ہرچیز سے پاک وصاف کرلینا چاہئے اس لئے کہ جب بدن کو پاک صاف کرنا واجب ہے تو دل کی صفائی بدرجۂ اَولی ضروری ہے ۔یا پھر اس لئے کہ جب نماز کی جگہ (مسجد) کو ایسے آدمی سے محفوظ کردیا گیا جس کے ساتھ گندگی (نشہ ومستی) لگی ہو تو پھر دل کو ناپاک خیال سے بچانے کی اہمیت بالکل ظاہر ہے ۔(الألوسی: ۵؍۴۰۱)
سوال: نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے کی ممانعت کس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ؟

سورۃ النساء آیات 0 - 43

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقۡرَبُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمۡ سُكَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعۡلَمُواْ مَا تَقُولُونَ

اس آیت سے یہ معنی نکالا جاتا ہے کہ جب آدمی کو سخت اور بھرپور اونگھ آرہی ہو اور اسے یہ احساس وشعور نہ ہو کہ وہ کیا بول اور پڑھ رہا ہے ،کیا کررہا ہے تو ایسی حالت میں اس کا نمازپڑھنا درست نہیں ہے ۔بلکہ آیت کے حکم میں غالباً یہ اشارہ بھی ہے کہ جو شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ ایسی ہر مشغولیت سے کٹ جائے جو اس کی توجہ کو بانٹتی ہو جیسے پیشاب ،پاخانے (کی حاجت) کو روکناا ور کھانے کی چاہت (تیز بھوک)اور اس قسم کی دوسری حاجت کے ہوتےہوئے نمازپڑھنا وغیرہ۔ (السعدی: ۱۷۹)
سوال: آیت اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص نماز پڑھنا چاہتا ہے ، اسے اپنا ذہن فارغ کرلینا واجب ہے ۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 43

فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا فَٱمۡسَحُواْ بِوُجُوهِكُمۡ وَأَيۡدِيكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ٤٣

میرے خیال میں اسے شرعی حکم اور قانون بنانے کی حکمت یہ ہے کہ : مومنوں کے دل میں طہارت وپاکیزگی کے لازم ہونے کی بات بٹھا دی جائے ،نماز کی حرمت وتقدس کو جتا دیا جائے اور ان کے دلوں میں نماز کی اہمیت کو بلند کیا جائے ۔لہذا ان کے لئے ایسی کوئی حالت باقی نہ رہے جس میں وہ بلا طہارت نماز پڑھنے کی سوچ سکیں، اور اس حکم کا سبب اللہ سے مناجات وسرگوشی کی عظمت کا لحاظ رکھنا ہے۔ (ابن عاشور: ۵؍۶۹)
سوال: تیمم کو شرعی حکم بنانے کی کیا حکمت ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 43

فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا فَٱمۡسَحُواْ بِوُجُوهِكُمۡ وَأَيۡدِيكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ٤٣

اللہ تعالیٰ کا ارشاد: (إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا) یقیناًاللہ بہت معاف کرنے والا،بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ رخصت (سہولت)کے حکم کی دلیل ہے ۔ کہ اللہ نے مسلمانوں کے ساتھ درگزر اور معافی کا برتاؤ کیا ہے چنانچہ بیماری کی حالت میں غسل کرنے یا وضوء کرنے کا مکلَّف (پابند) نہیں بنایا اور نہ پانی نہ ملنے کی صورت میں پانی ملنے کا انتظار کرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ انتظار کرتے کرتے ان پر بہت سی نمازوں کا بوجھ لد جائے۔نتیجہ میں ان نمازوں کی قضاء ان کے لئے دشوار ہوجائے۔ (ابن عاشور: ۵؍۷۱)
سوال: تیمم کے حکم کی آیت کو اللہ تعالیٰ کے قول: (إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا) کے ساتھ ختم کرنے کی کیا مناسبت ہے؟