قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٥ ١٥


١٦ ١٦

ﭿ

١٧ ١٧



١٨ ١٨




١٩ ١٩
80
سورۃ النساء آیات 0 - 15

وَٱلَّٰتِي يَأۡتِينَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمۡ فَٱسۡتَشۡهِدُواْ عَلَيۡهِنَّ أَرۡبَعَةٗ مِّنكُمۡۖ

اس کی تشریح میں ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ :زنا کے ثبوت کے لئے چار گواہ مقرر کئے گئے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مدّعی یعنی الزام لگانے والے پر سختی کی جائے تاکہ کوئی بھی کسی پر الزامی دعویٰ نہ کرے اور بندوں کی پردہ پوشی کی جائے۔ (ابن جزی: ۱؍۱۷۹)
سوال: زنا کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے چار گواہ مقرر کرنے کی کوئی ایک حکمت بیان کیجئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 15

وَٱلَّٰتِي يَأۡتِينَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمۡ

(ٱلۡفَٰحِشَةَ) سے مراد زنا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اس کی برائی اور قباحت کی وجہ سے اسے (ٱلۡفَٰحِشَةَ) کے لفظ سے تعبیرکیا ہے۔ (السعدی: ۱۷۱)
سوال: زنا کو (ٱلۡفَٰحِشَةَ) کیوں کہا گیا ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 16

إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابٗا رَّحِيمًا ١٦

(رَّحِيمًا) اللہ رحم کرنے والا ہے۔ یعنی اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنی پسند اور خوشنودی والے عمل کرنے کی خصوصی توفیق دیتا ہے ۔ لہذا تم بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فعل (رحمت) کو اپنے اخلاق وعادات کا حصہ بناؤ ۔اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے جب توبہ کریں اور گناہ سے پلٹیں تو تم ان پر رحم کرو اور مہربانی ونرمی کا برتاؤ کرو۔او ر (دیکھو) تمہاری جانب سے ان کو دی جانے والی اذیت (وسزا) صرف اللہ کے لئے ہونی چاہئے۔ تاکہ وہ گناہ کے راستہ سے لوٹ آئیں اور سدھر جائیں۔ اس لئے ان سے تمہاری زیادہ تر بات ایسے وعظ ونصیحت پر مشتمل ہونی چاہئے جو اُن کے دلوں کے لئے قابلِ قبول ہوں۔ (البقاعی: ۲؍ ۲۶۶)
سوال: آیتِ بالا کو اللہ تعالیٰ کے دونام ‘‘التواب’’ اور‘‘ الرحیم’’ کے ذریعہ ختم کرنے سے کیا معلوم ہوتا ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 17

إِنَّمَا ٱلتَّوۡبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٖ

یعنی : جو شخص برائی کے انجام سے اور اس بات سے ناواقف ہوتا ہے کہ گناہ اور برائی اللہ کی ناراضگی اور سزا کو لازم کرتے ہیں۔اسی طرح وہ اس بات سے لاعلم ہوکہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے ،اس کی نگرانی کررہا ہے ۔نیز یہ بھی نہیں جانتا کہ برائی کے نتیجہ میں ایمان کم یا پھر ختم ہوجائیگا ۔ اس اعتبار سے ہر گنہگارا ورنافرمانی کرنے والا جاہل ہے اگرچہ وہ گناہ کی حرمت کا جاننے والاہو۔ (السعدی:۱۷۱)
سوال: گناہ کا ارتکاب کرنے والے سے کس طرح کی جہالت اور نادانی ہوتی ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 19

وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ

اس حکم کے مخاطب سب ہیں ۔ کیونکہ شوہر ہویا سرپرست رہن سہن اور معاشرت سب کی ہوتی ہے ۔ البتہ آیت کے حکم سے مراد غالب طور پر عورتوں کے شوہرہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرح ہے: (ﮩ ﮪ) (سورۂ بقرہ:۲۲۹) ‘‘(عورتوں کو) معروف اور بھلے طریقہ سے رکھو’’۔اور بھلے طریقہ سے رہنے اوررکھنے کا مطلب ہے:بیوی کا حق :مہر ہو یا نان ونفقہ ،پورا پورا دیا جائے ،بغیر کسی گناہ اور غلطی کے منہ نہ پھلایاجائے،بدمزاجی اور
چڑچڑے پن سے پیش نہ آیا جائے ،بات کرنے میں نرمی اور خوش کلامی برتی جائے ،بدخلق اور سخت کلام نہ بناجائے اور نہ بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت کی طرف رغبت ظاہر کی جائے۔ (القرطبی: ۶؍۱۵۹)
سوال: بیوی کے ساتھ حسنِ معاشر ت کس طرح ہوگی؟

سورۃ النساء آیات 0 - 19

فَإِن كَرِهۡتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡـٔٗا وَيَجۡعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيۡرٗا كَثِيرٗا ١٩

یعنی :اے شوہرو! تمہارے لئے مناسب یہی ہے کہ تم اپنی بیویوں کو پسند نہ کرنے کے باوجود ،اپنے پاس رکھو۔ کیونکہ اس میں بہت سی بھلائیاں ہیں ۔ ان بھلائیوں میں سے چند یہ ہیں:
1۔ اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی وصیت یعنی تاکیدی حکم کو قبول کرلینا۔جس سے دنیا وآخرت کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔
2۔ بیوی سے محبت نہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ رہنے پر اپنے آپ پر جبر کرنے میں نفس کے ساتھ مجاہدہ اور اسے قابو میں رکھنا اور اچھے اخلاق کو اپنانا ہے۔
3۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بیوی سے کراہت اور ناپسندیدگی دور ہوجائے اورپھرمحبت پیدا ہوجائے اور یہی امر واقع (حقیقت) ہے۔
4۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ناپسندیدہ بیوی سے نیک اولاد عطاکردے جو اپنے والدین کو دنیا اور آخرت کا نفع پہنچائے۔ (السعدی:۱۷۲)
سوال: شوہر اپنی ناپسندیدہ بیوی کو روک رکھے ،تو اس پر کون سے فوائد مرتب ہوتے ہیں؟

سورۃ النساء آیات 0 - 19

فَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡـٔٗا وَيَجۡعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيۡرٗا كَثِيرٗا ١٩

اگر وہ (بیویاں)تمہیں پسند نہیں ہیں تو ان کے متعلق صبر سے کام لو اور محض اپنے دل کی ناگواری کے سبب انہیں جدا مت کرو۔کیونکہ ہوسکتاہے جسے تم ناپسندکر رہے ہو ، اس میں تمہارے لئے بہت سی بھلائیاں ہوں اس لئے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نفس قابل تعریف چیز کو بھی ناپسند کرتا ہے اور اس کے برعکس بری چیز کو پسند کرتا ہے۔ لہذا خواہشات نفس کے بجائے اس چیز کو مرکز نگاہ بنانا چاہئے جس میں خیر وخوبی ہو۔ (الألوسی:۴؍ ۲۴۳)
سوال: ہرچیزمیں نفس کی اطاعت کے کیا نتائج ہوتے ہیں؟