قرآن
ﮐ
ﰼ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ١٢ ١٢ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
١٣ ١٣ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ١٤ ١٤
وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ
میراث کی مذکورہ آیت میں اس معنی پر غور کیجئے کہ: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے میاں بیوی کے (ایک دوسرے کا) وارث ہونے کولفظِ‘‘اِمرأۃ’’ (عورت) کے لفظ کے بجائے ‘‘زوجہ’’ یعنی بیوی کا لفظ اختیارفرمایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں ہے : (وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ) تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ جائیں ، اس میں تم آدھے کے حقدار ہو۔یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ ایک دوسرے کی وراثت کاحق اس (رشتہ) زوجیت کی وجہ سے قائم ہوا ہے جو ایک دوسرے سے موافقت اور مناسبت کا تقاضہ کرتا ہے ۔اور مومن وکافر کے درمیان موافقت ہوتی ہے نہ مناسبت۔ لہذا ان دونوں کے درمیان حقِ وراثت قائم نہیں ہوسکتا۔ (السعدی: ۱۶۹)
سوال: آیتِ میراث میں ‘‘عورت’’ کے لفظ کی بجائے‘‘زوجہ ’’ کے لفظ سے کیوں تعبیر کی گئی ہے؟
مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِي بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍۗ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصَىٰ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍ
وصیت کی اہمیت بتانے کی خاطر اس کا حکم بارباربیان کیا گیا ہے ۔اس سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ وصیت کا معاملہ بڑا اہم اور عظیم ہے ۔ یہ انسان کو ہر وقت یاد رکھنا چاہئےاور اس سے کبھی غافل نہیں رہنا چاہئے۔(البقاعی:۲؍ ۲۲۲)
سوال: وصیت کے حکم کی تکرار کیوں کی گئی ہے؟
غَيۡرَ مُضَآرّٖۚ وَصِيَّةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٞ ١٢
وصیت کے ذریعہ نقصان پہنچانا یعنی شرعی احکام کے خلاف وصیت کرکے کسی کے متعینہ حق میں کمی کرناکبیرہ گناہ ہے اور نقصان پہنچانے کی بہت سی شکلیں ہیں۔ مثلاً : کسی وارث کے لئے وصیت کرنا اور تہائی (ثُلث) مال سے زیادہ کی وصیت کرنا،یا تہائی مال کی وصیت اس مقصد سے کرنا کہ کسی ضرورت مند وارث کو محروم کیا جائے یا اس کے حصہ میں کمی کی جائے۔ (ابن جزی: ۱؍ ۱۷۹)
سوال: وصیت کے ذریعہ نقصان پہنچانے کی بعض شکلیں گنائیے.
غَيۡرَ مُضَآرّٖۚ وَصِيَّةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٞ ١٢
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے باہمی حقوق کو کافر رشتہ داروں کے دنیوی حقوق کے مقابل ترجیح دی ہے ۔یعنی کافر رشتہ دار سے عام مسلمان زیادہ قریبی ہے۔لہذا جب ایک مسلمان کی موت ہوجائے تو اس کا مال یعنی ترکہ ایسے شخص کی طرف منتقل ہوگاجو اُس کا سب سے زیادہ قریبی اور زیادہ حقدار ہو ۔لہذا اللہ تعالیٰ کا یہ قول : (ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ) (سورۂ اَنفال: ۷۵) رشتے ناطے والے ،ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ نزدیک ہیں۔اس وقت کے لئے ہے جب ان (رشتہ داروں :وارث ومورث) کا دین ایک (اسلام) ہو ۔لیکن اگر ان کے دین الگ الگ ہوں تو پھر محض نسبی اُخوت (خاندانی وخونی) کے مقابل دینی اُخوت وبھائی چارہ مقدّم ہوگا۔ (السعدی: ۱۶۹)
سوال: دونوں میں سے کون زیادہ مضبوط ہے:دینی اخوت یا نسب وخاندان کی اخوت۔احکامِ میراث کے تناظر میں وضاحت کیجئے.
يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا
(خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ) وہ لوگ ا ن (جنتوں ) میں ہمیشہ رہیں گے۔
(خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ) وہ شخص اس (جہنم) میں ہمیشہ رہے گا۔
یہاں جہنمی کے لئے واحد کا صیغہ یعنی (خَٰلِدٗا) ذکر کیا اور وہاں (اہلِ جنت کے لئے) جمع کا صیغہ یعنی (خَٰلِدِينَ ) آیا ہے۔اس لئے کہ نیکی کرنے والے لوگ قیامت کے دن شفاعت کرنے والے ہوں گے۔ چنانچہ جب کوئی نیک شخص دوسرے کے لئے سفارش کریگا تو،وہ بھی اس کے ساتھ جنت میں داخل ہو جا ئیگا اس کے بالمقابل گنہگار لوگ سفارش نہیں کرسکیں گے۔ لہذا ان کے ساتھ کوئی دوسرا (جہنم میں) داخل نہیں ہوگا، پھر وہ تنہا اور اکیلے رہ جائیں گے۔
یا پھرجنت میں ہمیشہ قیام ،جمع کے صیغہ کے ساتھ یہ بتانے کے لئے ہے کہ ان کا اکٹھاہونا ایک دوسرے سے مانوس ہونے میں مفید ہے ۔اورجہنم میں ہمیشہ رہنے کو مفرد صیغہ کے ساتھ یہ جتانے کے لئے بیان کیا ہے کہ اکیلے پن سے سخت وحشت ہوتی ہے۔ (الألوسی: ۴؍۲۳۳)
سوال: جہنم میں ہمیشہ رہنے کو مفرد (خَٰلِدٗا) کیوں ذکر کیا گیا اور جنت کی ہمیشگی کو جمع (خَٰلِدِينَ) کیوں رکھا گیا؟
تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ ١٣ وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٞ مُّهِينٞ ١٤
(وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ) یعنی جو شخص وراثت کے معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرےگا ، لہذا حیلے بہانے سے نہ کسی وارث کے حق میں اپنی جانب سے اضافہ کرتا ہے اور نہ کسی کے حق میں کمی۔بلکہ ان حصہ داروں کو اللہ کے حکم، اس کے طے کردہ حق اور تقسیم پر چھوڑدیتا اور اسی پر برقرار رکھتا ہے۔
(يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ) تو اللہ اسے ایسے گھنے باغات میں داخل کرےگا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی
ہوں گی ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
اور (وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٞ مُّهِينٞ) جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گااور اس کی مقررہ حدوں سے آگے بڑھے گا ، وہ اسے جہنم میں ڈال دے گا ،جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔
یعنی یہ عذاب وانجام اس لئے ہوگا کہ اس نے اللہ کے فیصلہ کو تبدیل کردیااور اللہ کے حکم کی مخالفت کی۔ (ابن کثیر: ۱؍ ۴۳۷)
سوال: ترکہ کی تقسیم کا نگراں یا ذمہ دار اپنے آپ کو ایک وعدے اور ایک وعید کے درمیان پاتا ہے ۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا
جس شخص کے اندر نافرمانی اور فرمانبرداری دونوں اکٹھے ہوں تو اس میں فرماں برداری اور نافرمانی کے حساب سے ثواب اور سزا دونوں کا تقاضہ موجود ہے اور یقینی دلائل سے یہ بات ثابت ہے ۔موحّد مسلمان ،جن کے پاس توحید کی نیکی اور اطاعت ہے، وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے ۔لہذا ان کے پاس جو توحید کی نیکی ہے وہ انہیں دائمی جہنمی ہونے سے بچائیگی۔ (السعدی: ۱۶۹)
سوال:توحید کی فضیلت بیان کیجئے.