قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٨٧ ١٨٧


١٨٨ ١٨٨
ﭿ
١٨٩ ١٨٩


١٩٠ ١٩٠


١٩١ ١٩١


١٩٢ ١٩٢


١٩٣ ١٩٣

١٩٤ ١٩٤
75
سورۃ آل عمران آیات 0 - 187

وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُونَهُۥ

حضرت حسن اور حضرت قتادہ رحمہمااللہ کہتے ہیں:یہ آیت ہر اس شخص کے بارے میں ہے جسے ‘‘الکتاب’’ یعنی اللہ کی کتاب کا کچھ بھی علم دیا گیا ہولہٰذا جس شخص کو کتاب اللہ کاکچھ بھی علم حاصل ہو ،اسے چاہئے کہ وہ دوسروں کو سکھلائے۔اور تم علم کو چھپانے سے بچو!اس لئے کہ یہ ہلاکت وبربادی ہے ۔
اور محمد بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں: عالم کا علم رکھنے کے باوجو د خاموش رہنا جائز نہیں ہے ۔اور نہ ہی جاہل کو اپنی جہالت ولاعلمی پر خاموش رہنا جائز ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُونَهُ) جب اللہ نے ان لوگوں سے عہد وپیمان لیا جنہیں کتاب دی گئی کہ وہ اسے ضرور بیان کریں گے اور چھپائیں گے نہیں ۔ اور یہ بھی فرمایا ہے: (ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ) (سورۂ نحل: ۴۳) اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر سے پوچھ لو۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر اللہ نے اہلِ کتاب سے عہد نہ لیا ہوتا تو میں تم سے کچھ بھی بیان نہ کرتا، یعنی کوئی حدیث روایت نہ کرتا۔یہ کہہ کر انہوں نے یہی آیت تلاوت کی: (وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ) (القرطبی:۵؍۴۵۸)
سوال: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ) انہیں کتاب دی گئی ۔یہ نہیں کہا: اَخَذُوْاالْکِتَابَ: انہوں نے کتاب لی۔ ان دونوں جملوں کا کیا مطلب ہے نیز دونوں کے کیا اثرات ہیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 191

ٱلَّذِينَ يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ

(قرآن میں) ‘‘ذِکر’’ کو مسلسل غور وفکرکرنے سے پہلے لایا گیا ہے ۔یہ بتانے کے لئے کہ عقل جب تک اللہ کے ذکر اور اس کی رہنمائی کے نور سے روشن نہ ہو، وہ (تنہا) مکمل ہدایت یافتہ نہیں ہوسکتی۔لہذا غوروفکر کرنے والے ہرشخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹناضروری ہے۔ (الألوسی: ۴؍ ۱۵۹)
سوال: ذِکر کو تفکر یعنی غوروفکرسے پہلے کیوں لا یا گیا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 191

ٱلَّذِينَ يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمۡ

اس سے مراد ہے :عام حالات میں ہمیشہ اور ہروقت ذکر کرتے رہنا۔ (البغوی: ۱؍۴۶۵)
سوال: ان مذکورہ تین حالتوں میں عقل والوں کوذِکر کی صفت سے متصف کرنے میں اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 191

وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هَٰذَا بَٰطِلٗا سُبۡحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ١٩١

امِّ دَرداء رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: ابودرداء رضی اللہ عنہ کا حال اور معمول کیسا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ان کا زیادہ تر مشغلہ تھاغوروفکر کرنا ۔ ابودرداء سے پوچھا بھی گیا کہ کیا آپ غوروفکر کرنے کو کوئی عمل سمجھتے ہیں؟انہوں نے جواب دیا: ہاں! وہی تویقین ہے۔ ( ابن عاشور: ۴؍ ۱۹۶)
سوال: آیت نے یقین تک پہنچنے کا ایک ذریعہ بیان کیا ہے ۔وہ کیا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 191

وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هَٰذَا بَٰطِلٗا سُبۡحَٰنَكَ

ابن عَون رحمہ اللہ کہتے ہیں: غوروفکر،غفلت کا خاتمہ کردیتا ہے اور دل میں اس طرح سے خشیتِ الٰہی پیدا کرتا ہے جیسے پانی ،کھیتی میں پودے اگادیتا ہے ۔ اور حُزن وملال کی طرح کوئی چیز نہیں جس سے دلوں کوصفائی حاصل ہو ۔نیز فکروسوچ کی طرح کوئی چیز نہیں جس سے دل روشن ومنور ہوں۔ (البغوی: ۱؍ ۴۶۵)
سوال: غوروفکر کی اہمیت اور فائدہ کیا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 192

رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدۡخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدۡ أَخۡزَيۡتَهُۥۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ ١٩٢

ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:اللہ تعالیٰ مومنوں پر رحم فرمائے!وہ برابر کہتے رہتے ہیں: ‘‘رَبَّنَآ رَبَّنَآ’’ اے ہمارے رب! اے ہمارے رب!یہاں تک کہ ان کی دعا قبول کرلی جاتی ہے۔ (ابن عطیہ: ۱؍۵۵۶)
سوال: مومنوں کی دعاؤں کے قبول ہونے کا وہ کون سا سبب ہے جس کی طرف حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اشارہ فرمایا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 193

رَبَّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ ١٩٣

دعا میں اہلِ ایمان : (مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ) کہتے ہیں یعنی نیک لوگوں کے ساتھ وفات دے۔ وہ (ٱلۡأَبۡرَارِ) نہیں کہتے، یعنی ہمیں نیک بناکر وفات دے۔اس لئے کہ ہم تو نیک نہیں ہیں لہذا تو ہمیں ان کے ساتھ جوڑدے اور ان کی پیروی کرنے والوں میں ہمیں شامل کردے۔
اس اسلوب میں اپنے نفس کو مارناتواضع ہے اوراللہ کے جناب میں حسنِ ادب ہے۔ (الألوسی: ۴؍ ۱۶۵)
سوال: دعا میں (مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ) (نیک لوگوں کے ساتھ)کے بجائے (ٱلۡأَبۡرَارِ) (نیک ہوتے ہوئے)کیوں نہیں کہا گیا؟