قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٨١ ١٨١

١٨٢ ١٨٢


ﭿ

١٨٣ ١٨٣

١٨٤ ١٨٤



١٨٥ ١٨٥



١٨٦ ١٨٦
74
سورۃ آل عمران آیات 0 - 181

سَنَكۡتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتۡلَهُمُ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ ١٨١

پچھلے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا ذکر کرکے رب تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے، تاکہ آپ ان کے نقشِ قدم پر چلیں ،چنانچہ نبی کریم ﷺ کی موت کاواقع ہوجانا ،یا آپ کو قتل کردیا جانا ممکن ہے جیسے آپ سے پہلے آپ کے بھائیوں، یعنی پیغمبروں کا معاملہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دیتے ہوئے بات پوری فرمائی کہ بہت سے رسولوں کا قتل کیا جانا پہلے واقع ہوچکا ہے ۔لہٰذا یہ ثابت شدہ ہے کہ موت سے کوئی خاص وعام محفوظ نہیں رہے گا۔ (البقاعی: ۲؍۱۹۲)
سوال: انبیاء کرام علیہم السلام کے قتل کی خبر دینے میں کیا حکمت ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 181

سَنَكۡتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتۡلَهُمُ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ ١٨١

پہلے زمانوں کے یہود نے جن انبیاء کرام کو قتل کیا تھا ،عہدِ نبوی کے یہود اُن کے یعنی اپنے پرکھوں کے اس قتل کے عمل پر راضی ومطمئن تھے اور یہ تھے بھی انہی میں سے ۔نیز اس عمل کو حلال اور جائز سمجھنے میں انہی کے طریقے پر قائم ودائم تھے ۔اسی لئے اللہ جل ثناء ہ نے اس (قتل کے )عمل کو ،کرنے والوں کے ساتھ (جو لوگ ان کے منہج اور طریقے پر ہیں ) ان سب کی طرف بھی منسوب کیا ہے کیونکہ جو لوگ ان کے منہج اور طریقے پر تھے یہ سب ایک ملت والے اور ایک گروہ تھے اور ایک دوسرے سے راضی ہونے کے سبب برابر تھے۔ (الطبری: ۷؍ ۴۴۶)
سوال: انبیاء علیہم السلام کے قتل کو موجود یہودیوں کی طرف منسوب کرنے کی کیا وجہ تھی جبکہ اس عمل کو کرنے والے ان کے اسلاف تھے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 181

وَقَتۡلَهُمُ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖ

(ﭢ ﭣ) ناحق۔ یہ ناحق کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کو قتل کرنے کی قباحت اور سنگینی کو جانتے ہوئے ،اس کی جرأت کرتے تھے ، جہالت اور گمراہی کی بناپر نہیں بلکہ سرکشی اور دشمنی کی وجہ سے ان گھناؤنے کاموں کا ارتکاب کرتے تھے ۔ (السعدی:۱۵۹)
سوال: اللہ تعالیٰ نے یہود کے قتلِ انبیاء کا عمل‘‘ناحق’’ کیوں قرار دیا؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 185

كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ أُجُورَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ فَمَن زُحۡزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدۡخِلَ ٱلۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَۗ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ ١٨٥

مرنے کے وقت دھوکے میں پڑا ہوا شخص دنیا کی اس پونجی اور سامان پرشرمندہ ہوگا جس کے سبب وہ دھوکے میں پڑا ہوا تھا ۔ لہذا خوش قسمت اور سعادت مند وہ شخص ہے جو اس کوشش میں لگا رہے کہ اس کی موت آقا ومولیٰ کی رضامندی میں ہو۔ (البقاعی: ۲؍ ۱۹۳)
سوال: اچھے اور باسعادت خاتمہ کی کیا علامت ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 185

كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ أُجُورَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ فَمَن زُحۡزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدۡخِلَ ٱلۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَۗ

جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے نبی ﷺ کو رسولوں کے ذریعہ تسلی دی ،جنہوں نے صبر اور اطاعت میں کوشش ا ورمحنت کی تھی، حتی کہ ان کی اور ان کی امتو ں کی موت ہوگئی ۔اور جو کچھ ان کے ہاتھوں میں تھا وہ سب کچھ چھوڑگئے ،کچھ بھی بچا نہیں سکے۔ اب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ملکیت وسلطنت کے سوا کچھ باقی نہیں رہا ۔ اور دونوں فریق بدلے کے منتظر ہیں :رسول پوری کامیابی اور کفار پوری ہلاکت وبربادی کے منتظر ہیں۔ (اللہ نے) خبر دی ہے کہ ہر نفس کا معاملہ ایسا ہی ہے تاکہ فرماں بردار (نیک) آدمی محنت کرے اور نافرمان بازآجائے۔ (البقاعی: ۲؍۱۹۲)
سوال: دنیا میں کامیابی کے لئے مومنوں کا معیار کیا ہے؟اور منافقین کا پیمانہ کیا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 186

لَتُبۡلَوُنَّ فِيٓ أَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ أَذٗى كَثِيرٗاۚ

اللہ نے مسلمانوں کومشکلات پیش آنے کی پیشگی خبر دی، تاکہ وہ انہیں جھیلنے اوربرداشت کرنے کے لئے اپنے نفس کو آمادہ کرلیں اور صبر وثبات ، پامردی و پائیداری کی خوبی سے اس کا سامنا کرنے اور مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہیں، کیونکہ مصیبت کا اچانک ٹوٹ پڑنا بھی رنج وتکلیف میں اضافہ کا ایک سبب ہے۔جبکہ مشقت وتکلیف کے لئے پہلے سے تیار رہنا ،سنگین معاملہ کو ہلکا اور آسان بنادیتا ہے۔ (الألوسی: ۴؍ ۱۴۷)
سوال: اللہ سبحانہ وتعالیٰ مبلغین اور مومنین کو پہلے سے یہ خبر کیوں دیتا ہے کہ وہ عنقریب سخت مشقت سے دوچار ہوں گے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 186

وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ ١٨٦

اس لئے کہ ‘‘تقویٰ’’ احکام پر عمل کرنے اور منع کردہ کاموں کو چھوڑدینے پر مشتمل ہے اور ‘‘صبر’’ یعنی برداشت اور تحمل، تقدیر کے فیصلہ پر صبر کرنے کو شامل ہے۔ (ابن تیمیہ : ۲؍ ۱۸۵)
سوال:آیت کریمہ میں مذکور تقویٰ اور صبر کس چیز پر مشتمل ہیں؟