قرآن
ﮏ
ﰼ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ١٥٩ ١٥٩ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ١٦٠ ١٦٠ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ١٦١ ١٦١ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
١٦٢ ١٦٢ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ١٦٣ ١٦٣ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ١٦٤ ١٦٤ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ
ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ١٦٥ ١٦٥
فَبِمَا رَحۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّواْ مِنۡ حَوۡلِكَۖ
اس رحمت سے مراد غالباً اللہ تعالیٰ کا نبی ﷺ کے دل کو مضبوط بنانا ،آپ کو عمدہ اخلاق کی خصوصیت عطاکرنا ہے۔ اور اللہ نے نرمی اور مہربانی کو آپ کے دل کی مضبوطی کا سبب بنادیا، کیونکہ جو شخص غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے ،وہی بہادر ی میں کامل ہوتا ہے۔ (الألوسی: ۴؍۱۰۵)
سوال:بندے پر اللہ کی رحمت ہونے کی کیا علامت ہے جس کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے؟
وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ
کہا گیا ہے کہ:اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مشورہ کرنے کا حکم دراصل اس لئے دیا ہے کہ اس سے آپ کے صحابہ کی دلجوئی ہواور بعدکے لوگ اسے نمونہ بناکر اس کی پیروی کریں ۔نیز جنگی معاملات اور ایسے دیگر جزئی امور جن کے بارے میں اللہ کی جانب سے کوئی وحی نازل نہیں ہوئی ہے ،ایسے معاملات میں مشورہ کے ذریعہ صحابہ کرام کی رائے معلوم کی جائے ۔ان کے علاوہ اور بھی فائدے ہیں اور جب نبی ﷺ کو اس کا حکم دیا ہے تو دوسرے لوگ مشورہ کرنے کے زیادہ لائق ومحتاج ہیں ۔ (ابن تیمیہ: ۲؍۱۶۱)
سوال: نبی ﷺ کو اپنے اصحاب سے مشورہ کرنے کا جو حکم دیا گیا ،اس کے بعض فوائد یا حکمتیں بیان کیجئ.
وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ
اس آیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام کا احساس دلایا گیا ہے اور اس بات کی خبر بھی ہے کہ تمام صحابہ کرام اجتہادکرنے کے لائق ہیں اور ان کے باطن سے اللہ تعالیٰ راضی ہے۔ (الألوسی: ۴؍۱۰۷)
سوال:اس آیت میں صحابہ کے حوالے سے بعض گمراہ فرقوں کی تردید موجودہے۔آپ اس کی وضاحت کیجئے.
فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِينَ
توکُّل (بھروسہ) کہتے ہیں: اللہ ہی پر اعتماد وبھروسہ کرنا تمام فائدوں کے حصول میں اور فائدوں کے حاصل ہوجانے کے بعد ان کی حفاظت کرنے میں۔ اسی طرح نقصانات کو روکنے میں اور نقصان ہوجانے کے بعد اسے دور کرنے میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنا ۔ اور یہ توکل دووجوہات سے(ایمان کا) سب سے بلند مقام ہے ۔اول : اللہ کا یہ فرمان: (إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِينَ) اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔دوم: وہ ضمانت جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: (ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬﮭ ) (سورۂ طلاق:3) اور جو اللہ پر اعتماد کرتا ہے اللہ اس کے لئے (ہر معاملہ میں) کافی ہوگا۔ (ابن جزی: ۱؍ ۱۶۴)
سوال: اللہ پربھروسہ کرناایمان کاسب سے بلند مقام کیوں ہے؟
إِن يَنصُرۡكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمۡۖ وَإِن يَخۡذُلۡكُمۡ فَمَن ذَا ٱلَّذِي يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ
(وَإِن يَخۡذُلۡكُمۡ) اور اگر وہ تمہیں سہارا نہ دے ،تمہاری مدد نہ کرے۔اور تمہیں خود تمہارے نفس کے حوالے کردے ۔(فَمَن ذَا ٱلَّذِي يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعۡدِهِۦ) تو کون ہے جو اُس کے بعد تمہاری مدد کریگا؟ یعنی اس صورت میں تم لازمی طور پر مدد سے محروم ہوجاؤگے خواہ ساری مخلوق تمہاری امدادو اعانت کے لئے اٹھ کھڑی ہو۔آیت کے اس بیان میں ضمنی طور سے یہ حکم ہے کہ نصرت ومدد صرف اللہ سے مانگی جائے اور اسی پر اعتماد وبھروسہ کیا جائے۔ نیز اپنی اور مخلوق کی کسی بھی طاقت پر اعتمادنہ کیا جائے۔ (السعدی:۱۵۴)
سوال: کیا طاقتور لوگوں کی مدد اور پشت پناہی ،آپ کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ پراعتماد کرنے اور اس پر توکل کرنے سے بے نیاز بنا سکتی ہے؟
لَقَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ بَعَثَ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ
“تلاوت” کو پہلے ذکر کیا اس لئے کہ یہ تمہید کے باب سے ہے ۔یعنی اس سے شروعات کرکے آگے کے مرحلے کے لئے ذہن ہموارکرنا مقصد ہوتا ہے ۔
پھر “تزکیہ” یعنی پاک کرنے کا ذکر ہے اس لئے کہ یہ مرحلہ تلاوت کے بعد کا ہے اور یہ سب سے پہلی چیز ہے جس کے ذریعہ اہلِ ایمان کو ایسی پہچان ملتی ہے جس سے وہ آراستہ وپیراستہ ہوتے ہیں۔گویایہ بری عادتوں سے اپنے کو پاک کرنے کے قبیل سے ہے جو اچھی صفات سے آراستہ کئے جانے پر مقدم ہوتی ہے۔ یعنی کہ خوبیاں پیدا کرنے سے پہلے خرابیاں صاف کی جائیں۔ اس لئے کہ نقصانات کو دور کرنا ،فائدوں کو حاصل کرنے سے زیادہ اہم او ر مقدم ہے ۔پھرتزکیہ کے بعد“تعلیم” کا ذکر ہے اس لئے کہ ایمان کے بعد تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ( الألوسی: ۴؍ ۱۱۴)
سوال: پہلے تلاوت ،پھر تزکیہ اور پھرتعلیم کاذکر ہے۔ اس ترتیب میں کیا حکمت ہے؟
أَوَلَمَّآ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَدۡ أَصَبۡتُم مِّثۡلَيۡهَا قُلۡتُمۡ أَنَّىٰ هَٰذَاۖ قُلۡ هُوَ مِنۡ عِندِ أَنفُسِكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٦٥
اللہ نے خبر دی ہے کہ مسلمانوں کو جو دشمن کے غالب اور حاوی ہونے کی مصیبت اور دیگر مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،وہ دراصل ان کے گناہوں کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اُحد کے دن کے بارے میں فرمایا:(أَوَلَمَّآ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَدۡ أَصَبۡتُم مِّثۡلَيۡهَا قُلۡتُمۡ أَنَّىٰ هَٰذَاۖ قُلۡ هُوَ مِنۡ عِندِ أَنفُسِكُمۡ) جب تم پر (جنگ اُحد میں) مصیبت پڑی ،حالانکہ اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں (بدر میں) دشمنوں پر پڑ چکی ہے ، تو تم بول اٹھے کہ : یہ مصیبت ہم پر کہاں سے آن پڑی؟ آپ فرما دیجئے ! جو مصیبت آئی ہے ،اس کا سبب تم خود ہو، وہ خود تمہاری اپنی طرف سے آئی ہے ۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۱۶۷)
سوال: افراد اور معاشرے پر مصیبتیں آنے کا کیا سبب ہے؟