قرآن
ﮏ
ﰼ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ
١٤٩ ١٤٩ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ١٥٠ ١٥٠ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ١٥١ ١٥١ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
١٥٢ ١٥٢ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ١٥٣ ١٥٣
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تُطِيعُواْ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمۡ عَلَىٰٓ أَعۡقَٰبِكُمۡ فَتَنقَلِبُواْ خَٰسِرِينَ ١٤٩
یہاں اللہ نے مومنوں کو کافروں کی اطاعت کرنے کی بابت سختی فرمائی ہے اور ساتھ ہی اس کے نقصانات بھی بتادئیے۔اس بات کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان کی صفت کے حوالے سے مخاطب کیا ہے تاکہ انہیں یاد دلادے کہ یہ کافروں کی پیروی اس نیکی یعنی ایمان کے خلاف ہے اورتاکہ ڈانٹ او ر تنبیہ بھی اس طرح مکمل طریقے سے ہوسکے۔ (روح المعانی: ۴؍۸۷)
سوال:اللہ تعالیٰ نے مومنین کو کافروں کی اطاعت سے ڈرانے کے لئے لفظِ “ایمان” کے ساتھ کیوں خطاب کیا ہے؟
سَنُلۡقِي فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلرُّعۡبَ بِمَآ أَشۡرَكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗاۖ
کافروں اورمنافقوں کوخوف میں مبتلا کرنا اور ان پر رعب ودبدبہ ڈال دینا ،دراصل اللہ کی جانب سے مومنوں کی مدد ہے ۔ (ابن تیمیہ:۲؍ ۱۵۷۔۱۵۸)
سوال:آیت میں ذکر کردہ اللہ کے بعض لشکر وں کو بیان کیجئے.
سَنُلۡقِي فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلرُّعۡبَ بِمَآ أَشۡرَكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗاۖ
(بِمَآ أَشۡرَكُواْ بِٱللَّه) اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا۔یہ وجہ کا بیان ہے ۔یعنی:ان کے دلوں میں رعب ،دبدبہ اور دھاک ڈالنے کا سبب ان کا شرک ہے۔ (القرطبی:۵؍۳۵۷)
سوال:شرک، خوف اور رعب کا سبب کیسے ہوتا ہے؟بیان کیجئے.
حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ وَعَصَيۡتُم مِّنۢ بَعۡدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَۚ
(وَتَنَٰزَعۡتُمۡ) تم آپس میں اختلاف کربیٹھے۔ یعنی غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کے پیچھے گھاٹی کے راستہ پر متعین تیر اندازوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا ۔ نتیجہ میں بعض افراد تو حکم کے مطابق اپنی جگہ پر ٹھہرے اور جمے رہے مگر دوسرے وہاں نہیں رکے۔ (وَعَصَيۡتُم) اور تم نافرمانی کربیٹھے۔ یعنی تمہیں مقررہ جگہ پر ٹھہرے رہنے کا جو حکم دیا گیاتھا تم نے اس کی مخالفت کی ۔یہاں تما م مسلمانوں سے خطاب کیا گیا ہے حالانکہ حکم کی مخالفت کچھ لوگوں نے ہی کی تھی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سب کو نصیحت کی جائے اور جن لوگوں سے غلطی سرزد ہوئی ،ان کی پردہ پوشی کی جائے ۔(ابن جزی:۱؍۱۶۱)
سوال:آیت میں خطاب سب کے لئے کیوں آیا ہے جبکہ حکم کی مخالفت چند لوگوں سے سرزد ہوئی تھی؟
حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ وَعَصَيۡتُم
جب مسلمانوں کے کمزور اور پست ہمت ہونے کا ذکر کیا تو اس کے بعد اس چیز کو بیان کیا جو اکثر وبیشترکمزوری کاسبب ہوتی ہے اور وہ ہے: آپس کا اختلاف، جھگڑااور گناہ ونافرمانی ۔ (البقاعی:۲؍۱۶۸)
سوال:باہمی اختلاف اور نافرمانی کو کمزور پڑنے پر کیوں عطف کیا؟
وَلَقَدۡ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥٓ إِذۡ تَحُسُّونَهُم بِإِذۡنِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَٰزَعۡتُمۡ
یعنی:تم بلند ارادوں اور اعلیٰ مقاصد کے تقاضوں سے ہٹ کرمالِ غنیمت کی طرف مائل ہوگئے اور اس وجہ سے کمزور پڑ گئے اور پیچھے ہٹ گئے ۔حالانکہ جاہلیت کے زمانے میں عرب جنگ وجدال کے موقعوں پر نیزہ چلانے ،مارنے کاٹنے،دشمن پر ٹوٹ پڑنے اور مالِ غنیمت سے بے توجہی برتنے کو خوبی مانتے اور اس خوبی پرآپس میں فخر کیا کرتے تھے ۔ (البقاعی:۲؍۱۶۶)
سوال:آیت کے تناظر میں بتائیے کہ:معرکۂ اُحد کا نقشہ کس چیز نے بدل دیا کہ مسلمانوں کا غلبہ شکست کی شکل اختیار کرگیا؟
وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٥٢
مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے کہ : اللہ ان کے لئے جو بھی بھلائی مقرر کرے یا مصیبت ۔سب ان کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔اگر انہیں خوشی اورخوشحالی ملتی ہے تو شکر ادا کرتے ہیں ۔اس نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انہیں شکر گزار لوگوں کا اجر وثواب دیتا ہے اور اگر انہیں تنگی وپریشانی پہنچتی ہے تو وہ صبرکرتے ہیں ۔ تب اللہ انہیں صبر کرنے والوں کا بدلہ دیتا ہے۔ (السعدی:۱۵۲)
سوال:جن آیات میں مومنوں کی مصیبت کاذکر ہے ،انہیں اللہ سبحانہ کا فضل بتاتے ہوئے آیت کو اس کے ذکر پر ختم کرنے کی کیا وجہ ہے؟