قرآن
ﮏ
ﰼ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ١٤٢ ١٤٢ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ١٤٣ ١٤٣ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ١٤٤ ١٤٤ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ١٤٥ ١٤٥ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ١٤٦ ١٤٦ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ١٤٧ ١٤٧ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ١٤٨ ١٤٨
وَلَقَدۡ كُنتُمۡ تَمَنَّوۡنَ ٱلۡمَوۡتَ مِن قَبۡلِ أَن تَلۡقَوۡهُ
یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ شہادت کی تمناکرنامکروہ نہیں ۔آیت سے یہ دلیل اس طرح نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی (راہِ حق میں)موت کی تمنا کو برقرار رکھا۔اس پر انکار اور کوئی اعتراض نہیں کیابلکہ شہادت کی تمنا کے تقاضہ کو پورا نہ کرنے پرنکیر اور اعتراض کیا ۔ (السعدی:۱۵۰)
سوال:کیا شہادت کی تمنا کرنا،موت کی تمنا کی طرح ہے ؟آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٞ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُۚ أَفَإِيْن مَّاتَ أَوۡ قُتِلَ ٱنقَلَبۡتُمۡ عَلَىٰٓ أَعۡقَٰبِكُمۡۚ
اس آیت میں صدیقِ اکبر حضرت ابوبکراور ان اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت پر بڑی زبردست دلیل ہے، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مرتدہوجانے والوں سے جنگ کی۔ (السعدی: ۱۵۱)
سوال:حضرت ابوبکر صدیق اور آپ کے ساتھی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے مرتدین کے خلاف جنگ کرنے میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی زبردست سوجھ بوجھ اور حکمت ودانائی رکھتے تھے ۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٞ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُۚ أَفَإِيْن مَّاتَ أَوۡ قُتِلَ ٱنقَلَبۡتُمۡ عَلَىٰٓ أَعۡقَٰبِكُمۡۚ
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ایسی حالت بنائیں کہ اگر ان کاقائدخواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو۔ موجود نہ رہے تو یہ چیز انہیں ایمان یا ایمان کے کسی ضروری تقاضہ (پہلو) سے ہٹا اور ڈگمگانہ دے۔اور یہ چیز اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ دین کے ہر معاملہ کے لئے کئی باصلاحیت افراد تیار رکھے جائیں تاکہ جب کوئی ایک نہ رہے تو دوسرا اس کی جگہ سنبھال لے۔ (السعدی:۱۵۱)
سوال:آیت میں انتظام اور رہنمائی کے بارے میں ایک اہم قاعدہ کی طرف رہنمائی ہے ۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلصَّٰبِرِينَ ١٤٦ وَمَا كَانَ قَوۡلَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسۡرَافَنَا فِيٓ أَمۡرِنَا
ان لوگوں (مومنوں)نے صبر اور استغفار دونوں کو اکٹھا کرلیا اور مصیبتوں کے وقت اسی کا حکم بھی دیا گیا ہے کہ مصائب پر صبر کیا جائے اور گناہوں کی مغفرت مانگی جائے جو مصیبتوں کی جڑہیں۔ (ابن تیمیہ:۲؍۱۵۶)
سوال:مصیبتوں کے وقت کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟
وَمَا كَانَ قَوۡلَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسۡرَافَنَا فِيٓ أَمۡرِنَا وَثَبِّتۡ أَقۡدَامَنَا وَٱنصُرۡنَا عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ ١٤٧
وہ جانتے ہیں کہ گناہ اور اسراف یعنی حد سے آگے بڑھنااللہ کی مدد سے محرومی کی سب سے بڑی وجہ ہے اور گناہوں اور زیادتیوں سے دور رہنا اللہ کی مدد ملنے کا ذریعہ ہے ۔اسی لئے انہوں نے گناہوں کی معافی مانگی۔ (السعدی:۱۵۱)
سوال:مجاہدین نے گناہوں اور معاملات میں زیادتیوں کی معافی کیوں طلب کی؟
وَمَا كَانَ قَوۡلَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسۡرَافَنَا فِيٓ أَمۡرِنَا وَثَبِّتۡ أَقۡدَامَنَا وَٱنصُرۡنَا عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ ١٤٧
انہوں نے پہلے بخشش ومغفرت طلب کی، تاکہ گناہوں سے پاک صاف ہوکر کافروں سے بہتر اوربرتر ہوجائیں اور اس بناپر ان کے خلاف مدد مانگنے کے مستحق بن جائیں کیونکہ وہ کفارتو گناہوں میں میں لت پت ہیں ۔اور پچھلی آیت کے مطابق ان کی تعداد بہت زیادہ تھی پھر بھی انہوں نے اللہ سے مدد مانگی ۔یہ چیز بتاتی ہے کہ وہ اپنی کثرت پر اعتبار و اعتماد نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی ثابت قدمی کے لئے اللہ کا سہارا اور آسرا لیتے تھے اور پختہ یقین رکھتے تھے کہ نصرت ومدد تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے ہی ہوتی ہے۔(الألوسی:۴؍۸۵)
سوال:مجاہدین نے مدد مانگنے سے پہلے مغفرت کیوں طلب کیا؟ اور اپنی کثرت تعداد کے باوجود مدد کیوں طلب کیا؟
فَـَٔاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ ثَوَابَ ٱلدُّنۡيَا وَحُسۡنَ ثَوَابِ ٱلۡأٓخِرَةِۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٤٨
(فَـَٔاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ) یعنی انہیں اس ذات الٰہی نے نوازا جو ساری چیزوں کوعلم وقدرت کے اعتبار سے گھیرے ہوئے ہے ۔ (ثَوَابَ ٱلدُّنۡيَا) دنیوی بدلہ ۔ یعنی اللہ نے ان کی دعا قبول فرمالی اور انہیں مدد سے نوازا اور مالِ غنیمت وغیرہ سے انہیں بے نیازبنادیا، اچھی شہرت عطا فرمائی،شرحِ صدر عطا کیااور برائیوں کے خیالات وشبہات کو دور کردیا ۔اور چونکہ دنیا کا ثواب کیسا بھی ہو ،کتنا بھی اچھا ہو وہ (کچھ نہ کچھ ) گندگی سے آلودہ اور مصیبت وپریشانی سے جڑا ہوتا ہے، کیونکہ دنیا گندگی کا گھر ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ثواب کو حسن کی صفت سے خالی رکھا۔ (صرف(ثَوَابَ ٱلدُّنۡيَا) کہا) لیکن آخرت کو حسن اور خوبی کے ساتھ خاص کرتے ہوئے فرمایا: (وَحُسۡنَ ثَوَابِ ٱلۡأٓخِرَةِ) اور آخرت کے ثواب کا حسن عطا کیا۔ (الألوسی: ۲؍۱۶۴)
سوال:حسن اور خوبی کا وصف صرف آخرت کے ثواب کے ساتھ آیا ہے دنیا کے ثواب کے ساتھ نہیں۔کیوں؟