قرآن
ﮏ
ﰼ
١٠٩ ١٠٩ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ١١٠ ١١٠ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ١١١ ١١١ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ١١٢ ١١٢ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ١١٣ ١١٣ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ١١٤ ١١٤ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ١١٥ ١١٥
كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ
جس کو اس امت کا فرد بننے کی خوشی ہے وہ اللہ کی شرط پوری کرے۔اور جو شخص اس صفت سے خالی ہے، تو وہ اہل کتاب یہود ونصاریٰ کی مانند ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان کے ذریعہ مذمت بیان کی ہے۔ (ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ) (مائدہ:۷۹) وہ جو برے کاموں کا ارتکاب کرتے تھے، ان سے آپس میں ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔ (ابن کثیر:۱؍۳۷۴)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیت میں دوسری امتوں کے مقابل اس امت کی ایک خصوصیت اور امتیاز بیان فرمایا ہے۔وہ کیا ہے؟
كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِۗ
(ٱلۡمَعۡرُوفِ) کی اصل یہ ہے کہ: ہر وہ کام جس کا کرنا نیک اور بھلا ہو اور اللہ پر ایمان رکھنے والوں میں اسے برا نہ سمجھا جاتا ہو۔اللہ کی اطاعت کو (ٱلۡمَعۡرُوفِ) کا نام اسی لئے دیا گیا ہے کہ اہلِ ایمان اسے پہچانتے ہیں اور اس کی انجام دہی کو برانہیں سمجھتے ہیں۔
اور(ٱلۡمُنكَرِ ) اصل میں : ہرو ہ کام ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہو اور اہلِ ایمان اس کے کرنے کو براجانتے ہوں ۔اسی بنا پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو (ٱلۡمُنكَرِ) کا نام دیا گیا ہے۔اس لئے کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے اسے انجام دینے کو برا سمجھتے ہیں اور اس کے ارتکاب کو بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ (الطبری:۷؍۱۰۵)
سوال:معروف اور منکر دونوں سے کیا مرادہے؟
كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ
درحقیقت کفار کے حق میں آسمانی عذاب کے ذریعہ ہلاک وبرباد کئے جانے کے مقابل ، جہاد کیا جاناکئی زاویوں سے زیادہ بہتر ہے :
1۔جہاد مومنوں کے لئے بہت عظیم اجروثواب کا کام اور ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتا ہے کیونکہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ومشقت اس مقصد سے کرتے ہیں کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور دین پورا کا پورا صرف اللہ کے لئے ہوجائے ۔
2۔جہادکافروں کے حق میں بھی زیادہ فائدہ مندہے کیونکہ وہ لوگ کبھی خوف کی وجہ سے ایمان لے آتے ہیں ۔اسی طرح ان میں سے جو قیدی بنا لئے جاتے ہیں اور ذلت وبے عزتی کا سامنا کرتے ہیں تو اس وجہ سے بھی اسلام قبول کرلیتے ہیں۔یہ بات اللہ تعالیٰ کے اس قول کے معنی میں شامل ہے: (كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تم لوگوں کے لئے بہتر ین لوگ ہو۔تم انہیں رسیوں اور بیڑیوں میں جکڑ کر لاتے ہو یہاں تک کہ انہیں جنت میں داخل کردیتے ہو۔یعنی ان کی ہدایت کا ذریعہ بن جاتے ہو۔اس طرح یہ امت اس جہاد کی بنا پر سب سے بہتر امت بن گئی جودنیا کے تمام لوگوں کے لئے برپا کی گئی ہے۔ (ابن تیمیہ:۲؍۱۲۲)
سوال:مسلمانوں کا کافروں سے جہاد کرنا،امت کی خیریت (بہتر ہونے)کے اسباب میں سے ہے ۔اس بات کی وضاحت کیجئے.
ضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلذِّلَّةُ أَيۡنَ مَا ثُقِفُوٓاْ إِلَّا بِحَبۡلٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَحَبۡلٖ مِّنَ ٱلنَّاسِ وَبَآءُو بِغَضَبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡمَسۡكَنَةُۚ
جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہود کے بارے میں یہ خبر دی کہ ان پر ذلت ڈال دی گئی ہے تو اس کے فوراً بعد یہ خبربھی دے دی کہ ہر زمانہ میں اور دنیا کے ہر علاقہ میں ان پر ذلت مسلط کی جائیگی ۔ان کی چاہت وخواہش کے بالکل برخلاف اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ رہے گا۔چنانچہ انہیں حکومت وریاست کی آرزو کا بدلہ ان پر ذلت وخواری کو مسلط کرکے دیا۔اور ان کے مال ودولت کی طرف مائل ہونے کا بدلہ انہیں فقیری ومسکینی میں مبتلا کرکے دیا کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے سہارے جیتے رہیں۔اور اللہ نے خبر دے دی کہ یہ چیز ان کے لئے “طوق الحمامۃ” یعنی کبوتر کے گلے کے حلقہ ونشان کے مانند ہے جو کسی بھی زمانہ میں ان سے الگ نہیں ہوسکتی۔ان کا یہ داغ مٹنے والا نہیں ،ان کی نسلوں میں بھی باقی رہیگا۔ (البقاعی:۲؍ ۱۳۶)
سوال:یہود کو ذلت ومسکنت دی گئی۔اس کی وجہ دونافرمانیاں تھیں جن میں وہ پڑگئے تھے۔وہ دونوں کیا ہیں؟
وَيَقۡتُلُونَ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖۚ
یعنی: اللہ تعالیٰ کے وہ انبیاء جو اُن کے ساتھ سب سے بہترین سلوک کرتے تھے ۔اس کے جواب میں یہ یہود ان کے ساتھ بدترین برتاؤ کرتے یعنی :انہیں قتل کردیتے۔تو کیا اس جرأت وجسارت اور گناہ سے بڑھ کر کوئی بری چیز ہوسکتی ہے۔ (السعدی:۱۴۳)
سوال:اصلاح کرنے والوں کو اذیت دینا اوران کے ساتھ بدسلوکی کرنا ،فسادی لوگوں کی پرانی صفت ہے ۔آیت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کیجئے.
لَيۡسُواْ سَوَآءٗۗ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ أُمَّةٞ قَآئِمَةٞ يَتۡلُونَ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ ءَانَآءَ ٱلَّيۡلِ وَهُمۡ يَسۡجُدُونَ ١١٣
علم یعنی اللہ کی آیات اور کلامِ ہدایت کو پڑھنے کے لئے شب بیداری کرنااورتہجد پڑھنا۔اس علم کو جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا مطلوب ہو ۔ یہ اس آیت کے معنی میں داخل ہے ۔اور جس شخص کے علم سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہو، اس کے لئے یہ عمل دیگر نفلی عبادات اداکرنے سے افضل ہے۔ (ابن عطیہ:۱؍۴۹۳)
سوال:رات میں علمی مذاکرہ کرنا، کب نوافل کے ساتھ قیام اللیل کرنے سے افضل ہوتا ہے؟
وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ١١٤
(وَيُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِ) یعنی :بھلائیوں اور نیکیوں کو انجام دینے میں پیش پیش رہتے ہیں اور خیر واطاعت کے کاموں کی طرف تیزی سے لپکتے ہیں، اس ڈر سے کہ موت نہ آجائے یا اس جیسی کوئی اور رکاوٹ کھڑی نہ ہوجائے جس سے یہ نیکیاں ہم سے چھوٹ جائیں ۔یاآیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ نیک اعمال کوشوق ورغبت کے ساتھ کرتے ہیں ،بوجھ، سمجھ کر نہیں کرتے۔اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان نیکیوں کامقام و مرتبہ بہت عظیم ہے ۔نیز ان کا انجام بہت اچھا ہے اور یہ مختلف قسم کی فضیلتوں اور فضیلت والوں کی جامع صفت ہے۔ اور یہاں اس بات کو بیان کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ یہودنیکیوں میں پیچھے رہتے اور انہیں بھاری بوجھ سمجھتے ہیں۔ (الألوسی:۴؍۳۴)
سوال:مومنوں کو نیکیوں میں تیزی سے بڑھنے پر کون سی چیز ابھارتی ہے؟