قرآن
ﮏ
ﰼ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ١٠١ ١٠١
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ١٠٢ ١٠٢ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ١٠٣ ١٠٣ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ١٠٤ ١٠٤
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ١٠٥ ١٠٥ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ١٠٦ ١٠٦ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ١٠٧ ١٠٧ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ١٠٨ ١٠٨
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِۦ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ ١٠٢
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ متعدد علماء سلف جیسے :حَسن،عکرمہ ،قتادہ اور مُقاتِل رحمہم اللہ کہتے ہیں: اللہ سے ڈرنے کا حق یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ،نافرمانی نہ کی جائے،اس کا شکر ادا کیا جائے،ناشکری سے بچا جائے اور اسے یاد رکھا جائے ،بھلایا نہ جائے۔ (ابن تیمیہ:۲؍۱۱۶)
سوال:اللہ سے اس طرح ڈرنا جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے ۔اس کا کیا مطلب ہے؟
وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ ١٠٢
یعنی:اپنی صحت وسلامتی کی حالت میں اسلام کی حفاظت کرتے رہو تاکہ جب بھی موت آئے اسی اسلام پر آئے اس لئے کہ فضل وکرم والی ذات (اللہ) نے اپنے فضل وکرم سے دنیا کا یہ دستور بنادیا ہے کہ آدمی جس طور طریقہ پر زندگی بسر کرتاہے ،اسی پر اس کی موت ہوتی ہے اور بندے کی موت جس حالت پر ہوتی ہے ،وہ بروز قیامت اسی پر اٹھایا جائیگا۔ (ابن کثیر:۱؍۳۶۶)
سوال:انسان کی زندگی کا اہم ترین فریضہ یہ ہے کہ وہ دین حق کو گلے لگانے میں دیر نہ کرے اور پھر اس پر ہمیشہ قائم رہے۔کیوں؟
وَٱعۡتَصِمُواْ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِيعٗا وَلَا تَفَرَّقُواْۚ
(ﭴ) سب مل کر ،اکٹھا ہوکر۔اپنے لوگوں میں سے کسی کو بھی الگ تھلگ نہ رہنے دوبلکہ جب بھی تمہیں پتہ چلے کہ کسی نے مسلمانوں سے ذرابھی علیحدگی اختیار کی ہے تو اسے واپس لوٹاؤ،اسے ڈھیل مت دو،اس کے معاملہ کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کرواور نہ اس سے غفلت وبے توجہی برتو،ورنہ (جماعت کا ) نظام بگڑ جائیگااورتم (اختلاف کی وجہ سے) ہمیشہ مشقت اٹھاتے رہوگے ۔لہذا تمہیں ہمیشہ اس شخص کی طرح رہنا چاہئے جو تیروں کے گٹھے کو رسی کے ذریعہ ایسی مضبوطی سے باندھتا ہے کہ گٹھے کا ہر تیر دوسرے سے جڑا رہتا ہے۔ (البقاعی:۲؍۱۳۱)
سوال:مضبوطی سے پکڑنے کے حکم میں (ﭴ )سب مل کر۔کے لفظ سے کیا رہنمائی ملتی ہے؟
وَٱعۡتَصِمُواْ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِيعٗا وَلَا تَفَرَّقُواْۚ
آیت میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ فروعی مسائل میں اختلاف کرناحرام ہے۔کیونکہ یہ حقیقت میں اختلاف ہے ہی نہیں۔ اختلاف تو وہ ہے جس کے ہوتے ہوئے میل جول اور اتحاد واتفاق دشوار ہوجائے۔رہا، اجتہادی مسائل کا معاملہ تو ان میں ہونے والا اختلاف، دراصل (قرآن وسنت سے)فرائض واحکام اور شریعت کے مشکل مطالب کونکالنے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان نئے پیش آنے والے معاملات ومسائل میں برابر (سمجھنے اور مسئلہ نکالنے کا) اختلاف ہوتا رہا اس کے باوجود وہ متحد اور اکٹھا تھے۔ (القرطبی: ۵؍۲۴۱)
سوال: کیا ہرنقطۂ نظر کا اختلاف ،فرقہ بندی اور شیرازہ بکھیرنا شمار کیا جائیگا؟
وَٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ زبان ودل سے اس کی نعمتوں کا ذکر کرتے رہیں۔ تاکہ اس کی بدولت ان کے اندر اللہ کی شکر گذاری اور محبت بڑھتی چلی جائے اور بدلہ میں اللہ اپنے فضل واحسان کااضافہ کرتا رہے اوریقیناًاللہ کی نعمتوں میں سب سے عظیم اور قابلِ ذکر نعمت اسلام کی نعمت ہے۔ (السعدی: ۱۴۲)
سوال:مومن اپنے رب کی نعمتوں کو کس طرح یاد کرے ؟اور اسے یاد کرنے کا کیا فائدہ ہے؟
وَلۡتَكُن مِّنكُمۡ أُمَّةٞ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلۡخَيۡرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ١٠٤
برائی ختم کرنے اور نیکی کا حکم دینے میں لوگوں کے الگ الگ درجات ہیں:چنانچہ اس معاملہ میں علماء کا فرض یہ ہے کہ وہ حکام اور اُمراء کو تنبیہ کرتے رہیں اور انہیں علم شرعی کے (معتدل) راستے پر قائم رکھیں اور حاکموں وزیروں کا فرض ہے کہ وہ اپنی طاقت اور اختیارات کا استعمال کرکے برائی کا خاتمہ کریں۔
نیز باقی سب لوگوں کا فریضہ یہ ہے کہ زبان سے منع کرنے کے بعد معاملہ حاکموں اورذمہ داروں تک پہنچائیں ۔یہ بات ان برائیوں کے بارے میں ہے جو ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں لیکن اگر کوئی ایسی برائی ہو جو اچانک مصیبت کی شکل میں واقع ہوجائے جیسے لوٹ مارزناکاری وغیرہ تو اس قسم کی برائیوں کوہر شخص اپنی حالت اور طاقت کے مطابق روکنے کی کوشش کرے ۔ (ابن عطیہ:۱؍۴۸۶)
سوال:نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں لوگوں کے درجات بیان کیجئے.
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱبۡيَضَّتۡ وُجُوهُهُمۡ فَفِي رَحۡمَةِ ٱللَّهِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ١٠٧
(فَفِي رَحۡمَةِ ٱللَّهِ) پس وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے۔یعنی : جنت میں ہوں گے۔
چنانچہ یہاں حال بول کر “محل” یعنی جنت مراد لیا گیا ہے ۔ (یعنی جنت میں ہوں گے “کہنے کے بجائے رحمت میں ہوں گے” کہا) یہ بتانے کے لئے کہ بندۂ مومن اگرچہ اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری میں اپنی پوری عمر لگادے پھر بھی اسے جو کچھ بھی(جنت کا انعام اور بدلہ) ملنے والا ہے ، وہ اللہ کی رحمت کے بغیر نہیں مل سکتا۔ (الألوسی: ۴؍۲۶)
سوال: جنت میں داخل ہونے کو رحمت سے کیوں تعبیرکیا گیا ہے؟