قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٩٢ ٩٢



٩٣ ٩٣
ﭿ
٩٤ ٩٤

٩٥ ٩٥

٩٦ ٩٦



٩٧ ٩٧

٩٨ ٩٨


ﯿ ٩٩ ٩٩

١٠٠ ١٠٠
62
سورۃ آل عمران آیات 0 - 92

لَن تَنَالُواْ ٱلۡبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَۚ

جب آدمی اللہ کی قربت کے لئے سب سے محبوب چیز خرچ کردے تو یہ دوسری چیز کے مقابلے میں افضل ہے اگرچہ دونوں چیزیں قیمت میں برابر ہوں۔
(ابن تیمیہ:۲؍۱۰۸)
سوال:آپ کے مال واسباب میں سے کون سے مال کے ذریعہ آپ کا اللہ کی قربت چاہنا افضل ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 93

كُلُّ ٱلطَّعَامِ كَانَ حِلّٗا لِّبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسۡرَٰٓءِيلُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦ مِن قَبۡلِ أَن تُنَزَّلَ ٱلتَّوۡرَىٰةُۚ قُلۡ فَأۡتُواْ بِٱلتَّوۡرَىٰةِ فَٱتۡلُوهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٩٣

زَجّاج کہتے ہیں: اس آیت میں ہمارے نبی محمد ﷺ کی نبوت کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ آپ نے ان لوگوں کو خبر دی کہ وہ بات(حرام ہونے والی )ان کی کتاب میں موجود نہیں ہے۔ آپ نے انہیں تورات لانے کا چیلنج کیا لیکن وہ نہیں لائے ۔ جس کا صاف مطلب تھا کہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ نبی ﷺ کی بات اللہ کی وحی کے مطابق ہے ۔ ( القرطبی: ۵؍ ۲۰۴۔۲۰۵)
سوال:مذکورہ آیت کی روشنی میں ہمارے نبی ﷺ کی نبوت پر ایک دلیل دیجئے.

سورۃ آل عمران آیات 0 - 96

إِنَّ أَوَّلَ بَيۡتٖ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكٗا وَهُدٗى لِّلۡعَٰلَمِينَ ٩٦

خانہ کعبہ کا اللہ کے گھروں میں سب سے پہلا گھرہونا اس کی فضیلت ودرجہ کو بڑھانے کا سبب ہے۔اس لئے کہ عبادت کے مقامات عبادت کرنے کے پہلو سے ایک دوسرے پر فضیلت نہیں رکھتے۔کیونکہ وہ سب اس معاملہ میں ایک جیسے ہیں،ان میں کوئی فرق نہیں۔ہاں،ان کے درمیان فضیلت ودرجہ میں کمی وزیادتی ان سے جڑے ہوئے کچھ دوسرے اسباب سے ہوتی ہے ،مثلاً ان میں عرصۂ درازسے عبادات کا جاری رہنا،ان کی بنیاد ڈالنے والی شخصیت کی طرف نسبت ہونااور اس کا م میں نیت وخلوص کا بہتر ہونا۔ (ابن عاشور:۴؍۱۵)
سوال:کعبہ کی اولیت ،دیگر مساجد پر فضیلت دیئے جانے کی وجہ کیوں ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 96

إِنَّ أَوَّلَ بَيۡتٖ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكٗا وَهُدٗى لِّلۡعَٰلَمِينَ ٩٦

وہ گھر بہت بابرکت ہے اس وجہ سے کہ اس میں عبادت کرنے کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔جو کوئی اس کا حج کرے،اس کا طواف کرے اور وہاں اعتکاف کرے،اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔اس کی برکت کا سبب وہ بھی ہوسکتا ہے جو اللہ کے اس قول میں مذکور ہے کہ: (ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ) (اس کی جانب ہر قسم کے پھل کھینچے چلے آتے ہیں) ۔نیز اس لئے بھی کہ اس گھر میں ہمیشہ اللہ کی عبادت ہوتی رہتی ہے اور اس کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ (الألوسی:۴؍۵)
سوال:بیت الحرام میں برکت کے بعض مظاہر بتائیے.

سورۃ آل عمران آیات 0 - 97

فِيهِ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ مَّقَامُ إِبۡرَٰهِيمَۖ وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنٗاۗ

(فِيهِ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٌ) اس میں کھلی نشانیاں ہیں۔
بیت اللہ کی نشانیاں بہت سی ہیں۔ان میں سے ایک:وہ پتھر ہے جسے مقام ابراہیم کہا جاتا ہے کیونکہ بیت اللہ کی( تعمیر کرتے ہوئے اس کی) بنیادوں کواوپر (اونچا) اٹھانے کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی پتھر پر کھڑے ہوتے تھے ۔ جیسے جیسے عمارت اونچی ہوتی جاتی یہ پتھر ہوا میں بلند ہوکر انہیں اوپر اٹھاتا جاتا تھا یہاں تک کہ عمارت مکمل ہوگئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم پتھر میں اس طرح دھنس گئے جیسے گارے مٹی میں قدم دھنس جاتے ہیں ۔ اس کا یہ نشان آج تک باقی ہے۔
اسی طرح بیت اللہ کی ایک نشانی یہ ہے کہ :پرندے اس کے اوپر نہیں جاتے ۔
ایک نشانی ہاتھی والوں (یعنی ابرہہ کے لشکر) کا ہلاک ہوجانااور سرکش وجابر لوگوں کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا جاناہے۔
اسی طرح وہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ حضرت ہاجرہ کے لئے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ایڑی رگڑنے سے زمزم کا چشمہ پھوٹ پڑا، یہ بھی ایک نشانی ہے۔پھر کنویں کے نشانات مٹ جانے کے بعد عبدالمطلب کا اسے کھود نکالنا(اور آج تک جاری رہنا)نیز اس کا پانی زمزم جس مقصد کے لئے پیا جائے اس میں فائدہ مند ہونا۔وغیرہ ۔ (ابن جزی: ۱؍۱۵۳)
(توضیح از مترجم: پتھر ­جسے مقام ابراہیم کہاجاتا ہے­کے از خود خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ بلند ہونے کا ذکر صحیح حدیثوں میں صراحتاً نہیں ملتا ہے۔
فاللہ اعلم، اسی طرح خانہ کعبہ کے اوپر سے پرندوں کے نہ اڑنے کی بھی قرآن و حدیث میں کوئی دلیل نہیں ہے، البتہ اس سلسلے میں کچھ لوگ اپنے مشاہدات کا حوالہ دیتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ اس کے برخلاف اپنا مشاہدہ پیش کرتے ہیں)
سوال:بیت الحرام کی بعض نشانیاں درج کیجئے.

سورۃ آل عمران آیات 0 - 97

وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٩٧

جس شخص نے طاقت ہونے کے باوجود بیت اللہ کا حج نہیں کیا ۔اب اگر اس نے اس کے فرض ہونے کا اعتراف کرنے کے باوجود حج نہیں کیا ہے تو وہ نعمت کی ناقدری وناشکری کے معنی میں کفر کررہا ہے ۔اور اگر فرضیت کا انکار کرنے کی وجہ سے حج نہیں کیا ہے تو دین سے باہر کردینے والا کفر کررہا ہے۔ (البقاعی:۲؍۱۲۸)
سوال: جس شخص نے حج نہیں کیا اس کے بارے میں کفر(کے حکم )کا کیا مطلب ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 97

وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ

اللہ کے جتنے بھی کام اور احکام ہیں،سب میں حکمت اور مصلحت ضرور ہوتی ہے ۔یہ بات مسلَّم ہے۔لیکن ہم یہ نہیں مانتے کہ ان مصلحتوں کا ہمارے سامنے ظاہر ومعلوم ہونا ضروری ہو کیونکہ حکیم ذات اس بات کی پابند نہیں ہے کہ وہ اپنے سے کم تر لوگوں کو حکمت کی وجہ بتائے۔ (الألوسی:۴؍۱۱)
سوال:کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو بھی حکم دیئے ہیں ،سب میں حکمت ہے؟اور کیا ان حکمتوں کا جاننا ہم پر لازم ہے؟